بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی نیٹ ورک سی این این نے انقلاب اسلامی کے امام شہید کی تشییع کے مراسمات کے بارے میں ایک رپورٹ میں تہران کی مصلیٰ میں الوداع کے مناظر کو اس طرح پیش کیا: ہزاروں افراد آنسو بھری آنکھوں اور منظم انداز سے سینہ زنی کر رہے ہیں اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو "انتقام" کے نعروں کے درمیان رخصت کر رہے ہیں۔
اس امریکی نیٹ ورک نے ایران کے امام شہید کے ساتھ شاندان عوامی وداع کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا کہ ہزاروں افراد ایران کے امام شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشییع کے لئے تہران کی بڑی مصلائے امام خمینی(رح) میں جمع ہوئے ہیں اور لوگوں کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اس نیٹ ورک نے الوداع کے مناظر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا: "کچھ لوگ جھنڈے لہرا رہے ہیں، اور کچھ اپنے آنسو پونچھ رہے ہیں۔"
اس رپورٹ کے مطابق، سوگواروں نے موسم گرما کی شدید 36 ڈگری گرمی میں منظم انداز سے ماتم کر رہے ہیں؛ ہر طرف سے خواتین کی نوحہ خوانی اور آہ و ویلا کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں؛ جبکہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی شیشے کے خانے میں قوم کی نظروں کے سامنے لایا گیا؛ پانی کے چھڑکاؤ کرنے والے آلات سیاہ پوش مجمع پر پانی کی بوندیں چھڑکا رہے ہیں تاکہ گرمی کی شدت میں کچھ کمی ہو۔
سی این این نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے لکھا کہ مجمع نے یک زبان نعرہ لگایا: "ہماری بات ایک ہے! انتقام! انتقام!"

اس رپورٹ کے مطابق، سوگواروں نے موسم گرما کی شدید 36 ڈگری گرمی میں تال کے ساتھ سینے پیٹے اور بھیڑ کی آمیزش میں خواتین کی نوحہ خوانی اور واویلا کی آواز سنائی دے رہی تھی؛ جبکہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی شیشے کے خانے میں قوم کی نظروں کے سامنے تھا۔ پانی کے چھڑکاؤ کرنے والے آلات نے سیاہ پوش مجمع پر پانی کی بوندیں چھڑکیں تاکہ گرمی کی شدت میں کچھ کمی ہو۔

اس امریکی نیٹ ورک نے یہ بھی رپورٹ دی ہے کہ روئٹرز کی براہ راست تصاویر میں سینکڑوں افراد نظر آئے جو گاڑیوں سے خالی سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں؛ سفید پھولوں کے گلدستے لئے خواتین، ہاتھوں میں پوسٹر لئے مرد اور پورے شہر میں بل بورڈز جو امام شہید کی تصاویر سے مزین ہیں۔
اس نیٹ ورک نے مزید دو حاضرین کے حوالے سے لکھا: 27 سالہ ہانیہ موسوی، ـ جو امام شہید کو الوداع کہنے کے لئے مصلیٰ آئی تھیں ـ نے کہا: "میں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں ایسا دن دیکھوں گی۔ کاش میں اس سانحے سے پہلے مر جاتی۔"


علی کاظمی جو تبریز سے 530 کلومیٹر کی مسافت طے کرکے آیا تھا، نے کہا: "ہم تشییع جنازہ میں شریک ہوئے تاکہ اعلان کریں کہ ہم سب اپنے ملک اور اپنے دین کے دفاع کے لئے پرعزم ہیں۔"
امام شہید سے وداع کے عمومی مرحلے کا باضابطہ آغاز روز ہفتہ صبح 6 بجے تہران کی مصلائے امام خمینی(رح) میں ہؤا؛ یہ مراسمات کئی دنوں تک مسلسل 24 گھنٹے، جاری رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ