بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آج اس عظیم سائنسدان کی برسی ہے جس نے رصدگاہِ مراغہ (Maragheh observatory) کی بنیاد رکھ کر اُس وقت کی دنیا کے سب سے ترقی یافتہ فلکیاتی مراکز میں سے ایک کو وجود بخشا۔
752 سال قبل ایسے ہی دن خواجہ نصیرالدین طوسی، عظیم مسلم و شیعہ سائنسدان، اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ نمایاں ترین ایرانی مفکرین میں سے ایک ہیں؛ اور انہوں نے ریاضی، فلکیات، فلسفہ اور دیگر علوم میں اپنی زندہ جاوید حصول یابیوں کے ساتھ عالمی سائنس کی تاریخِ میں ایک خاص مرتبہ حاصل کیا۔
تاہم ان کی سب سے نمایاں سائنسی خدمات میں سے ایک مثلثیات (Trigonometry) کو آزادی دینا تھا۔ وہ ان پہلے سائنسدانوں میں سے تھے جنہوں نے مثلثیات کو فلکیات سے الگ کیا اور اسے ریاضی کی ایک علیحدہ شاخ کے طور پر مرتب کیا؛ ایسی کامیابی جس نے نہ صرف ریاضی کی تحقیقات کا راستہ تبدیل کیا بلکہ اس کا اثر صدیوں بعد تک فلکیات، نقشہ کشی، بحری سفر اور بہت سی دوسرے علوم پر باقی رہا۔

• ایک سائنسدان جو ریاضی اور فلکیات سے ماوراء تھے
لیکن خواجہ نصیرالدین طوسی کی علمی وسائنسی سرگرمیاں صرف ریاضی یا فلکیات تک محدود نہیں تھیں۔ وہ ساتویں صدی ہجری کے عظیم ترین ایرانی سائنسدانوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے فلسفہ، کلام، فقہ، طب، انجیئرنگ اور شاعری جیسے متنوع شعبوں میں بھی کام کیا۔ ان کوششوں کا نتیجہ 150 سے زائد علمی اور فلسفیانہ تصانیف کی صورت میں نکلا، جن میں سے اکثر صدیوں تک عالمِ اسلام کے علمی مراکز میں پڑھائی جاتی تھیں۔
• خواجہ نصیرالدین طوسی کی اہم ترین تصانیف
خواجہ نصیرالدین طوسی کی اہم ترین تصانیف میں اخلاقِ ناصری، زیجِ ایلخانی، تجریدُالاعتقاد اور التذکرۃ فی علمِ الہیئۃ قابلِ ذکر ہیں؛ ایسی تصانیف جو صدیوں تک عالمِ اسلام کے علمی مراکز میں پڑھائی جاتی رہیں اور علم کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
• آسمانی حسابات ایک پائیدار کامیابی
ان تصانیف کے ساتھ، خواجہ نصیرالدین طوسی کی اہم ترین علمی کامیابیوں میں سے ایک کتاب "زیجِ ایلخانی" (1) کی تدوین ہے؛ ایک ایسا کام جو اپنے زمانے کے درست ترین فلکیاتی جدولوں میں شمار ہوتا تھا اور برسوں تک فلکیاتی حسابوں کے اہم ترین مآخذ میں شامل رہا۔
ان کی ایک اور قابلِ ذکر کامیابی "زوجِ طوسی" (Tusi Couple) کی ایجاد تھی؛ سیاروں کی حرکت کی وضاحت کے لئے ایک جیومیٹریکل طریقہ جس نے بعد میں ماہرینِ فلکیات کی تحقیقات اور سیاروں کی حرکت سے متعلق بعد کی نظریات پر نمایاں اثر مرتب آیا۔
اس کے علاوہ خواجہ نصیرالدین طوسی نے ریاضی، فلسفہ اور اخلاق کے شعبوں میں متعدد تصانیف تحریر کیں جن میں سے بہت سی صدیوں تک عالمِ اسلام کے علمی مراکز میں پڑھائی جاتی رہیں۔

• رصدگاہ جس نے مراغہ کو عالمِ اسلام کا دارالخلافۃِ علم بنا دیا
خواجہ نصیرالدین طوسی کی پائیدار یادگاروں میں سے ایک رصدگاہِ مراغہ ہے؛ ایک عمارت جو ایلخانی دور سے باقی ماندہ اہم ترین تاریخی آثار میں شمار ہوتی ہے۔ یہ رصدگاہ 657 ہجری قمری میں خواجہ نصیر کی کوششوں سے تعمیر ہوئی۔ یہ رصدگاہ ایران کے قومی آثار کی فہرست میں مندرج ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: راضیہ بلالی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ