اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دارالحکومت تہران میں آج ہفتہ کی صبح مصلائے امام خمینیؒ میں رہبرِ انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے ساتھ وداع کی مرکزی تقریب نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز صبح چھ بجے تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جبکہ عوام کی غیرمعمولی تعداد کے پیشِ نظر مصلے کے دروازے اذانِ فجر سے قبل ہی کھول دیے گئے۔ ہزاروں افراد کئی گھنٹے پہلے ہی مصلے کے باہر جمع ہو چکے تھے تاکہ اپنے محبوب رہبر کے جسدِ خاکی کی آخری زیارت کر سکیں۔
ایران کے مختلف شہروں اور دیہات کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک سے بھی زائرین تہران پہنچے۔ شرکاء نے سیاہ لباس زیب تن کر رکھے تھے، ایران کے قومی پرچم، رہبرِ انقلاب کی تصاویر اور سرخ پرچم "یا لثارات الحسینؑ" اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر "حیدر حیدر"، "لبیک یا خامنہ ای"، "انتقام، انتقام" اور دیگر انقلابی نعرے فضا میں گونجتے رہے۔
تقریب کے دوران معروف ذاکر حاج مہدی رسولی نے مرثیہ و نوحہ خوانی کی، جبکہ سوگواروں نے سینہ زنی اور پرسوز نوحہ خوانی کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ مصلائے امام خمینیؒ کے گنبد پر سرخ پرچم "یا لثارات الحسینؑ" بھی لہرایا گیا، جسے ظلم کے خلاف قیام اور خونِ شہداء کے انتقام کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
تقریب کے دوران قرآنِ کریم کی سورۂ سبأ کی آیت "قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ" بھی نمایاں طور پر آویزاں کی گئی، جس کا مفہوم ہے کہ "میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک ہو کر قیام کرو۔"
منتظمین کے مطابق اتوار کو مصلائے امام خمینیؒ میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جبکہ پیر کو تہران میں عوامی تشییعِ جنازہ ہوگی۔ اس کے بعد جسدِ خاکی کو قم، نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ لے جایا جائے گا، جبکہ جمعرات کو مشہد مقدس میں حرمِ امام رضا علیہ السلام میں تدفین عمل میں آئے گی۔
آپ کا تبصرہ