13 جون 2026 - 02:35
حصۂ اول | خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ایلون مسک کے اثاثے ایران کے لئے جائز فوجی ہدف کیوں ہیں؟

عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بادی النظر میں، ایلون مسک کی کمپنیوں کے ساتھ عرب ممالک کا تعاون بنیادی طور پر تجارتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن، سیکیورٹی اور دفاعی مطالعات کے نقطہ نظر سے، اس رجحان کی اہمیت کہیں اور ہے۔ SpaceX، Starlink اور xAI کمپنیوں میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کا ایک اہم حصہ دوہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجیز جو اگرچہ تجارتی مقاصد کے ساتھ تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کے استعمال کی اصل صلاحیت فوجی، انٹیلیجنس اور سیکیورٹی شعبوں میں بروئے کار آتی ہے۔

اسی بنا پر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر اور اردن کی مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ سرمایہ کاری اور تعاون کو محض ڈیجیٹل معیشت یا تکنیکی تبدیلی کے فریم ورک میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ممالک ان ڈھانچوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں جو خطے کے فوجی طاقت کے ڈھانچے کا حصہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

مسک کے ماحولیاتی نظام کی فوجی نوعیت

اس رجحان کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے، پہلے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز کی نوعیت پر توجہ دینی چاہئے۔ مسک کا ماحولیاتی نظام چار بنیادی شعبوں پر استوار ہے:

1۔ سیٹلائٹ مواصلات (اسٹارلنک)؛

2۔ خلائی اور سیٹلائٹ انفراسٹرکچر (اسپیس ایکس)؛

3۔ خلائی بنیاد پر سیکیورٹی اور انٹیلیجنس سسٹم (اسٹارشیلڈ)؛ اور

4۔ مصنوعی ذہانت اور اعلی درجے کی پروسیسنگ کی صلاحیت (xAI

یہ چار شعبے آج کل جدید فوجی طاقت کے اہم ترین اجزاء ہیں۔ معاصر جنگوں میں، برتری محض جنگجوؤں یا میزائل سسٹمز کی تعداد سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ معلومات جمع کرنے، رابطوں کو برقرار رکھنے، ڈیٹا پروسیسنگ اور تیز فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہو گئی ہے۔

لہٰذا، عرب ممالک کے مسک سے منسلک کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو اگلی نسل کی فوجی اور سیکیورٹی طاقت کے انفراسٹرکچر تک رسائی کے حصول کے لئے ہونے والی مسابقت کا حصہ سمجھنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: قبس زعفرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha