بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بادی النظر میں، ایلون مسک کی کمپنیوں کے ساتھ عرب ممالک کا تعاون بنیادی طور پر تجارتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن، سیکیورٹی اور دفاعی مطالعات کے نقطہ نظر سے، اس رجحان کی اہمیت کہیں اور ہے۔ SpaceX، Starlink اور xAI کمپنیوں میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کا ایک اہم حصہ دوہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجیز جو اگرچہ تجارتی مقاصد کے ساتھ تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کے استعمال کی اصل صلاحیت فوجی، انٹیلیجنس اور سیکیورٹی شعبوں میں بروئے کار آتی ہے۔
اسی بنا پر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر اور اردن کی مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ سرمایہ کاری اور تعاون کو محض ڈیجیٹل معیشت یا تکنیکی تبدیلی کے فریم ورک میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ممالک ان ڈھانچوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں جو خطے کے فوجی طاقت کے ڈھانچے کا حصہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
مسک کے ماحولیاتی نظام کی فوجی نوعیت
اس رجحان کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے، پہلے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز کی نوعیت پر توجہ دینی چاہئے۔ مسک کا ماحولیاتی نظام چار بنیادی شعبوں پر استوار ہے:
1۔ سیٹلائٹ مواصلات (اسٹارلنک)؛
2۔ خلائی اور سیٹلائٹ انفراسٹرکچر (اسپیس ایکس)؛
3۔ خلائی بنیاد پر سیکیورٹی اور انٹیلیجنس سسٹم (اسٹارشیلڈ)؛ اور
4۔ مصنوعی ذہانت اور اعلی درجے کی پروسیسنگ کی صلاحیت (xAI)۔
یہ چار شعبے آج کل جدید فوجی طاقت کے اہم ترین اجزاء ہیں۔ معاصر جنگوں میں، برتری محض جنگجوؤں یا میزائل سسٹمز کی تعداد سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ معلومات جمع کرنے، رابطوں کو برقرار رکھنے، ڈیٹا پروسیسنگ اور تیز فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہو گئی ہے۔
لہٰذا، عرب ممالک کے مسک سے منسلک کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو اگلی نسل کی فوجی اور سیکیورٹی طاقت کے انفراسٹرکچر تک رسائی کے حصول کے لئے ہونے والی مسابقت کا حصہ سمجھنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ