22 فروری 2026 - 03:08
یہ اہل تشیّع اور ایران کے خلاف منظم جنگ ہے؛ یا دجال کامیاب ہوگا یا اسے حتمی شکست ہوگی، تماشائی بخیریت نہ رہیں گے، شیعہ مصری مفکر

ڈاکٹر راسم النفیس نے کہا ہے: "لنڈسے گراہم نے ان کا پردہ فاش کر دیا، جب انھوں نے اعلان کیا کہ جو جنگ اس وقت جاری ہے، وہ ایک دینی اور مذہبی جنگ ہے؛ یعنی حقیقی محمدیؐ اسلام کے خلاف مغربی دنیا کی جنگ، اس دجال کے مفاد میں، جس کو "ابراہیمی" کا نام دیا گیا ہے، اور یہ تاریخی لمحہ، ایک فیصلہ کن لمحہ ہے: یا دجال فتح یاب ہوگا یا اسے حتمی شکست ہوگی۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، مصر کے معروف شیعہ راہنما اور التحریر الشیعی کے سربراہ ڈاکٹر احمد راسم النفیس، نے ایک تحریری تجزیئے میں خطے میں ایران کے آس پاس وجود میں لائی جانے والی حالیہ پیش رفت کو "شیعیان اہل بیتؑ اور ایران کے خلاف ایک منظم جنگ" قرار دیا اور اس کو ایک اعتقادی اور تاریخی فریم ورک میں اس کی تشریح پیش کی۔

اس شیعی مفکر نے اپنے مضمون کے آغاز میں ایران مخالف محاذ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے: "وہ بظاہر مہذب لوگ ہیں جو عقیدے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور ایک ایسی شہری ریاست کی بات کرتے ہیں جو لوگوں کے درمیان نسل، رنگ اور مذہب کی بنا پر فرق قائل نہیں کرتے! ان کے میڈیا ایسا پروپیگنڈا کرتے ہیں! لیکن حقیقت میں ـ اور عملی لحاظ سے ـ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی آل اور آپؐ کے پیروکاروں سے تعصب اور دشمنی میں غوطہ زن ہیں؛ یہاں تک کہ شدت سے، شیعیان اہل بیتؑ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ان کے وجود تک کو ختم کرنے کے خواہشمند ہیں!"

ان کا کہنا تھا کہ: "یہ ان کی وہی شرمناک حقیقت ہے جسے ہمیں ـ سیاست دانوں کے تکلفات سے ہٹ کر جو زاویئے موڑنے اور بڑے نقصان کو چھوٹے نقصان سے ٹالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ـ طشت از بام کرنا چاہئے، اور مغرب کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہئے۔"

انھوں نے اپنے تحریری تجزیئے میں مزید لکھا: "دس سال پہلے سے زیادہ عرصہ قبل، عراق کے خلاف داعش کی مہم شروع ہوئی جس نے اس ملک میں اہل تشیّع کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا تھا اور بالآخر وہ مہم ناکام و نامراد ہوئی؛ لیکن اس واقعے نے انہیں حتمی پسپائی پر مجبور نہیں کیا اور اہل تشیّع کو نیست و نابود کرنے کا خواب اب بھی انہیں شدت سے ستاتا ہے اور انہیں اپنی سازشیں دہرانے پر مجبور کرتا ہے، اگرچہ مختلف طریقوں سے ہی سہی۔

اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکہ کی براہ راست جارحیت ایک خواہش تھی جو خلیجی عربوں اور ان کے اتحادیوں کے دلوں میں بسی ہوئی تھی اور انہوں نے اس ہدف کے لئے اپنے اعلیٰ معبود 'ٹرمپ' کو کھربوں ڈالر ادا کئے، اور اب بھی انہوں نے اسی حملے کے وقوع پذیر ہونے پر ٹرمپ سے اور اس جنگ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔

یہ قوم اس فرمان خداوندی کا مصداق ہیں:

"وہ جو تمہارے ساتھ موقع پر نظر رکھتے ہیں تو اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ہو گئی تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کچھ کامیابی ہو گئی تو کہتے ہیں کیا ہم نے تمہيں مسلمانوں کے رازوں سے آگاہ نہیں کیا اور تمہیں مؤمنوں کی طرف کے نقصانات سے محفوظ نہیں رکھا۔ اب اللہ ہی تمہارے درمیان روز قیامت فیصلہ کرے گا اور اللہ ہرگز کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ نہیں دے گا * بلاشبہ منافق لوگ اللہ کو دھوکہ فریب دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ خود ان کے ساتھ تدبیر کرتا ہے؛ اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو با دل ناخواستہ (لالکساتے ہوئے) کھڑے ہوتے ہیں وہ لوگوں کو دکھلاتے [اور دکھاوا کرتے] ہیں اور اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں * وہ (ایمان و کفر کے) بیچوں بیچ میں حیران و سرگردان ہیں نہ اِن (مؤمنوں) کی طرف اور نہ ہی اِن (کفار) کی طرف؛ جسے اللہ بھٹکنے دے، اس کے لئے تم کوئی راستہ نہ پاؤ گے۔" (سورہ نساء، آیات 141 تا 143)

انھوں نے لکھا: "ہمیں کچھ نفسیاتی الجھنوں کا سامنا ہے جو گذشتہ صدیوں سے تہہ در تہہ جمع ہونے والی الجھنیں؛ جو شدید الکفر اور انتہائی منافق عرب حکمرانوں کے رویے پر حاوی ہیں؛ اسی بنا پر وہ اور ہم مسلک دینی بھائیوں سے غداری اور ان کے خلاف سازشوں اور انہیں نیست و نابود کرنے جیسے اعمال کو نہ صرف جائز، بلکہ ایک عظیم مقصد بنا چکی ہیں جس کے لئے بڑی بڑی دولتیں خرچ کرنا جائز ہے! وہ ایسی دنیا تعمیر کرنے کے خواہاں ہیں جس میں نہ ایرانی ہوں اور نہ شیعہ؛ یہ ان کی خواہش اور ان کے وہم ہیں، "وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ؛ اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" (سورہ یوسف، آیت 12۔)

انھوں نے لکھا: "امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ان کا پردہ خوب فاش کر دیا، جب اس نے اعلان کیا کہ یہ جو جنگ اس وقت جاری ہے، یہ ایک دینی اور مذہبی جنگ ہے؛ یعنی حقیقی محمدیؐ اسلام کے خلاف مغربی دنیا کی جنگ، اس دجال کے مفاد میں، جس کو "ابراہیمی" کا نام دیا گیا ہے، اور یہ تاریخی لمحہ، ایک فیصلہ کن لمحہ ہے: یا دجال فتح یاب ہوگا یا اسے حتمی شکست ہوگی۔"

عرب حکمرانوں کا شکست و ناکامی سے ڈرنا، یا یہ اعلان کرنا کہ وہ ٹیلے پر کھڑے ہیں، کسی اصولی، اخلاقی یا دینی موقف کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے 12 روزہ جنگ کے دوران بخوبی جان لیا ہے کہ امریکہ کی فتح یقینی اور ضمانت شدہ نہیں ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کیا صراحی ہر بار سلامت رہ سکے گی؟!

ان کا کہنا تھا: "امریکی اور مغربی بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا سیاسی نظام زد پذیر، زوال پذیر اور شکست و ریخت کا شکار ہے اور اس ٹکراؤ میں ایران کا محض ڈٹ جانا قواعد اور فارمولوں کو بدل دے گا، اور اس جنگ میں امریکہ کی ناکامی کا مطلب ان کا زوال اور ان کی بادشاہتوں کا خاتمہ ہوگا۔"

ارشاد ربانی ہے:

"اور جب سچا وعدہ قریب آ جائے گا تو ایک دم کافروں کی انکھیں پتھرا جائیں گی: (اور وہ کہیں گے) ہائے افسوس! ہم اس سے غفلت (اور بے خبری) کا شکار تھے بلکہ ہم بڑے ظالم تھے * بلاشبہ تم اور وہ چیزیں جن کی تم ـ ، اللہ کو چھوڑ کر، ـ عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہیں تمہیں وہاں پہنچنا ہے * اگر یہ خدا (اور معبود) ہوتے تو وہ اس (دوزخ) میں نہ جاتے اور سب اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔" (سورہ انبیاء، آیات 97 تا 99۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha