دہشت گرد امریکی صدرنے دعویٰ کیا: "قطر، سعودیہ اور امارات کے رہنماؤں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل کے قریب ہیں، جبکہ نہ تو حملے کا کوئی پروگرام تھا، نہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی عربوں نے درخواست دی ہے/ ٹرمپ نے کب خلیج فارس کے ممالک کے رہنماؤں کو اہمیت دی ہے؟! / ٹرمپ نے اب تک چھ مرتبہ پسپائی اختیار کی ہے، ٹرمپ کے چہیتا صہیونی نامہ نگار / ٹرمپ کے فیصلوں کے بارے میں ماہرین نفسیات سے پوچھو، رابرٹ میلی / ٹرمپ کے فیصلے کا راز افشا ہوگیا، المیادین۔
اب تک کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا کہ امریکہ نے ـ خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں ـ اقوام متحدہ یا دوسرے بین الاقوامی اداروں کو وقعت دی ہو لیکن اب جو دلدل میں پھنس گئے تو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے رجوع کرنے لگے ہیں وہ بھی اپنے عرب کٹھ پتلیوں کی مدد سے۔ اب ٹرمپ کو بولنے اور موقف اختیار کرنے کا اپنا مکمل اختیار سونپ دینے والے انتہائی دائیں بازو کے مذہبی 'صہیونی عیسائی' وزیر خارجہ نے ـ جس کو NYT کے مطابق، ٹرمپ نے جنگ کی تمام ہم آہنگیوں سے باہر رکھا ہے ـ ایک نیا مسودہ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے!! دیکھئے:
اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے کہا: قطر، بحرین، سعودیہ، امارات، کویت اور اردن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران کو پہنچنے والے تمام تر نقصانات کا معاوضہ دینے کی ذمہ داری قبول کریں۔"
امریکی-صہیونی مسلط کردہ جنگ اور ایران کی تیل کی پیداوار کا خاتمہ کرنے کے ٹرمپی دعوؤں کے برعکس، ایران کا تیل بک رہا ہے، مشرق کی طرف جانے والے تیل میں اضافہ ہؤا ہے اور اب مغربی میں اس کے خریداروں کی قطاریں بندھ گئی ہیں۔ / تیل کی قیمتیں بھی وہ نہیں ہیں جو موبائل اسکرین پر نظر آتی ہیں۔/ 26 ایرانی جہازوں نے امریکی محاصرہ توڑ دیا.