عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔
عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔
عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔
عرب ممالک کا ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ تعاون تجارتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر خطے کے فوجی ڈاکٹرائن میں ایک اسٹراٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان "دوہرے استعمال" والے ڈھانچوں کی حقیقی نوعیت پوشیدہ سیکیورٹی-فوجی ہے جس کے تحت فوجی اور سیکورٹی کام کئے جاتے ہیں۔ اور اس کو جب علاقائی تنازعات میں لایا جاتا ہے اور ایران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دشمن کی معاون صلاحیت کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے جائز دفاعی اہداف کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔