19 مئی 2026 - 15:25
رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی سلامتی کے بارے میں ڈاکٹر کرمان پور کا بیان

وزارت صحت کے شعبہ تعلقات عامہ اور مرکز اطلاعات کے ڈائریکٹر نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کو آنے والے زخموں یا عضو کٹنے کے بارے میں مختلف قسم کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا: رہبر انقلاب کی ٹانگ پر صرف، کچھ ٹانکے لگے ہیں اور الحمد للہ وہ صحیح و سالم ہیں اور ان کا کوئی عضو جسمانی کٹا نہیں ہے اور چہرہ بھی بالکل صحیح سلامت ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ وزارت صحت کے شعبہ تعلقات عامہ اور مرکز اطلاعات کے ڈائریکٹر حسین کرمان پور نے آج 18 مئی کو ملکی انتظامی اداروں کے تعلقات عامہ کے اہلکاروں کے اجلاس میں 28 فروری 2026 کو پاستور کے خوفناک واقعے کا تذکرہ کیا اور انقلاب کے جوان رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جسمانی حالت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: مورخہ 28 فروری تقریباً 12 بجے کہا گیا کہ آقائے خامنہ ای کو سینا ہسپتال لا رہے ہیں۔ ہم یہ سن کر بہت خوش تھے کہ رہبر انقلاب بقید حیات ہیں؛ لیکن معلوم ہؤا کہ آقائے خامنہ ای سے مراد آقا مجتبیٰ ہیں۔

کرمان پور نے رہبر انقلاب کی رہائشگاہ پر بمباری کے بارے میں کہا: "صبح تقریباً 9 بجے خبر آئی کہ پاستور کے علاقے یعنی صدر پزشکیان کے دفتر اور کابینہ کے ارکان اور رہبر انقلاب کی رہائشگاہ پر حملہ ہؤا ہے۔

میں سینا ہسپتال میں تھا؛ وزیر صحت ڈاکٹر ظفر قندی نے اسی لمحے فون کیا اور پوچھا کہ کیا کوئی زخمی یا مجروح لایا گیا ہے؟ تو میں نے کہا کہ اب تک نہیں۔

ڈاکٹر ظفر قندی موٹر سائیکل پر سینا ہسپتال روانہ ہوئے۔ تقریباً 12 بجے کہا گیا کہ آقائے خامنہ ای کو سینا ہسپتال لایا جا رہا ہے۔"

انھوں نے مزید کہا: "یہ خبر سن کر کہ رہبر انقلاب زندہ ہیں، لیکن جب وہ ہسپتال پہنچے تو معلوم ہؤا کہ آقا مجتبیٰ خامنہ ای کو ہسپتال لایا گیا ہے۔"

صرف چند ٹانکے آقا مجتبیٰ کی ٹانگ پر لگے ہیں

انھوں نے مزید کہا: "فوری طور پر آپریشن تھیئٹر تیار کیا گیا اور ضروری اقدامات کئے گئے۔ خوش قسمتی سے رہبر انقلاب کو کوئی خاص حادثہ پیش نہیں آیا تھا۔ جو شخص ایسے مقام پر ایسے واقعے کا سامنا کر رہا ہو، قدرتی طور پر اس کے جسم پر کئی زخم آتے ہیں۔ یہ زخم ایسے نہیں تھے کہ رہبر انقلاب کا چہرہ بگڑ جاتا یا یہ کہ وہ ہمارے شہید امام کی طرح معذور ہو جاتے یا ان کا کوئی عضو کٹ جاتا۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ زخموں کی جگہ پر چند ٹانکے لگائے گئے۔ جہاں ٹانکے لگانے کا فیصلہ کیا گیا وہ ان کی ٹانگ پر تھا۔"

کرمان پور نے زور دے کر کہا: "جنگ رہبر معظم کی شہادت سے شروع ہوئی۔"

میناب ایران کا ہیروشیما

انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران اپنے دورہ آبنائے ہرمز اور میناب کے شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کی طرف اشارہ کیا؛ اور کہا: "میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ریل گاڑی کے ذریعے روانہ ہؤا اور جب میناب شہر میں داخل ہؤا تو مجھے شدید صدمہ پہنچا۔ شہر کے تمام بل بورڈز شہید طلباء اور بچوں کی تصاویر سے مزید تھے۔ میں نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ایران کا پہلا شہر جہاں کے تمام بل بورڈز بچوں کی تصویروں سے مزین تھے۔ وہیں میں نے کہا اگر امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو ایٹم بم سے تباہ کیا اور ظلم و ستم کا ریکارڈ قیامت تک امریکہ کے نام پر ثبت ہؤا تو ایران میں امریکہ کا ہیروشیما میناب ہے۔"

میناب کے 92 زخمی طلبہ کا بیانیہ بنائیں

کرمان پور نے زور دے کر کہا: "جو کوئی میناب جاتا ہے، وہ شہید طلبہ کے بارے میں پوچھتا ہے، لیکن وہاں 92 طلبہ و طالبات ہیں جو زخمی ہوئے ہیں۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ آپ جائیں اور ان کا بیانیہ بنائیں۔ ہم نے میناب کے ہسپتال میں ایک بیانیہ بنایا؛ ہمیں ایک نرس ملی جس کا بچہ میناب کے اسکول میں تھا، لیکن اس نے زخمیوں کی خدمت میں کھڑے رہنے اور اپنے بچے کے پاس جانے، کے درمیان خدمت کا انتخاب کیا۔ وہ اس وقت تک کھڑی رہی جب تک اس کا بچہ نہیں لا یا گیا۔ اللہ کا شکر کہ اس کا بچہ صحیح سلامت تھا۔"

۔۔۔۔۔۔۔

حسین کرمان پور کے بیان کا خلاصہ:

- خوش قسمتی سے آقا مجتبیٰ کو کوئی سخت واقعہ پیش نہیں آیا۔

- ان کے بدن کو فطری طور پر بمباری کی وجہ سے کچھ زخم آئے تھے لیکن زخم ایسے نہیں تھے کہ ان کے چہرے کو بگاڑ دیں۔ عضو کی علیحدگی (Amputation) بھی نہیں ہوئی۔ چنانچہ:

- صرف ان کی ٹانگ کے زخم کو ٹانکے لگے۔

- عضو کی علیحدگی  رہبر انقلاب کو پیش نہیں آئی ہے۔

- ان کے چہرے کو بھی نقصان نہيں پہنچا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

سینا ہسپتال میں جوان رہبر کی صحت و سلامتی کے بارے میں ڈاکٹر کرمان پور کا بیان

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha