بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا: "فوج نے حملے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور ٹرمپ کو دو آپشنز کا سامنا ہے: یا تہران کی شرطوں پر سمجھوتہ کرلے، یا بہت ہی خطرناک جنگ کا سہارا لے۔
موجودہ حقیقت خطرناک ہے: ایران نے اپنی صلاحیتیں بحال کر لی ہیں؛ آبنائے ہرمز اس کے اختیار میں ہیں اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے اپنی فضائی حدود اور اڈے بند کر دیئے ہیں!
لیکن اس بار کونسی چیز مختلف ہے:
یہ کہ: ایران مکمل طور پر تیار ہے۔ فوجی روش سے مسئلہ حل کرنا ممکن نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک سیاسی فیصلہ بن گیا ہے۔
ایران جنگ کے بعد، شدیدتر اور استوارتر دشمن بن گیا ہے۔ بہت سے ایرانی بیلسٹک میزائل گرینائٹ کے پہاڑوں کے اندر اتہاہ گہرائیوں میں تراشی گئی تنصیبات سے داغے جاتے ہیں۔
ایک ایف-15 ای طیارے کو زمین سے نشانہ بنا کر گرایا گیا اور ایک ایف-35 کو نقصان پہنچایا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی جنگی چالیں بہت زیادہ دہرائی گئی ہیں اور اسی مسئلے کی بنا پر ایران کا دفاعی نظام بہت زیادہ مؤثر ہو گیا ہے۔
دریں اثناء، اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ایران نئی جنگی چالیں بروئے کار لا سکتا ہے؛ جیسے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنا۔
ایرانیوں پر اگر دوبارہ حملہ کیا گیا وہ امریکہ کے عرب حلیفوں اور اسرائیل کو شدید ترین نقصان پہنچانے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہونگے۔
مختصر یہ کہ: اب، اور ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد، نہ کوئی مکمل سمجھوتہ نظر آ رہا ہے اور نہ ہی کسی حتمی نتیجے پر منتج ہونے والی جنگ۔ واشنگٹن پسپائی کے اخراجاتیا پھر ایک ہمہ جہت دھماکے کے درمیان الجھ گیا ہے۔ امریکہ کا تھک جانا، کامیابی کے مقابلے میں، بہت ممکن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ