14 مئی 2026 - 23:53
نیویارک ٹائمز کا انکشاف، ٹرمپ کا المیہ / تین میزائل اڈوں پر حملے؛ 30 ارب ڈالر اڑا دیئے! + کچھ نکتے

یہ ایک اہم اور قابل غور نکتہ ہے کہ یہ جو مغربی ذرائع کہتے ہیں کہ ایران کے اتنے فیصد ذخائر خرچ ہوئے ہیں اور اتنے فیصد رہ گئے ہیں، یہ سب اندازے اور تخمینے ہیں جن کی کوئی معلوماتی بنیاد نہیں ہے۔ اصولی طور پر ایران کے اسلحے کے ذخائر کی مقدار سوا متعلقہ فوجی حکام کے، کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ اور پھر ایران میں جنگ کے دوران جہاں اسلحہ دشمن کے خلاف استعمال ہو رہا ہوتا ہے، وہاں مزید اسلحہ بن بھی رہا ہوتا ہے، چنانچہ ان تخمینوں اور اندازوں کو وقعت دینا معقول نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے فاش کیا ہے:

- خفیہ اداروں نے رازداری کے ساتھ ٹرمپ کی باتیں کانگریس کے اراکین کو منتقل کی ہیں۔

- ان اداروں کے جائزے کے مطابق: ایران نے آبنائے ہرمز کی حدود میں اپنے 33 میں سے کم از کم 30 میزائل اڈے بحال کر دیئے ہیں اور یہ اڈے مکمل طور پر آپریشنل ہیں۔ نیز

- ایران اس کے 70٪ موبائل لانچرز محفوظ ہیں۔

- ہم ایران کے کسی بھی زیر زمین میزائل ذخائر کو تباہ نہیں کر سکے ہیں اور وہ 90٪ لانچنگ پلیٹ فارمز تک رسائی رکھتے ہیں۔

ادھر کوئنسی تھنک ٹینک کے نائب سربراہ "ٹریٹا پارسی" نے ان انکشافات کے بعد لکھا:

- امریکہ نے خلیج فارس کے ساحل پر صرف تین میزائل سائٹس کو تباہ کرنے کے لئے 30 ارب ڈالر خرچ کئے! ا

کچھ نکتے:

1۔ ٹریٹا پارسی کے بقول، صرف تین میزائل سائٹیں تباہ کرنے کے لئے امریکی دہشت گردوں نے 30 ارب ڈالر کا اسلحہ خرچ کیا ہے لیکن نیویارک ٹائمز نے خفیہ امریکی ایجنسیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی کوئی  میزائل سائٹ امریکی حملوں میں میں تباہ نہیں ہوئی ہے چنانچہ یہ 30 ارب ڈالر بھی فضول خرچ کئے گئے ہیں۔ یقینی امر ہے کہ انہوں نے بہت سارے میزائل اڈوں پر ناکام حملے کئے ہیں جن کی لاگت یقینا ٹریلین ڈالر تک پہنچے گی، علاوہ ازیں ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کے نصف سے زائد ایئر ڈیفنس میزائل اڑا دیئے گئے ہیں اور ان میں سے بھی اکثر ناکام رہے ہیں جس کا ثبوت کم از کم 228 امریکی ٹھکانوں کی مکمل تباہی ہے۔

2۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ یہ جو نیویارک ٹائمز اور کوئنسی تھنک ٹینک سمیت مغربی ذرائع، صحافی، سیاستدان، تھنک ٹینکس، پروفیسرز اور فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ ایران کے اتنے فیصد ذخائر خرچ ہوئے ہیں اور اتنے فیصد رہ گئے ہیں، یہ سب اندازے اور تخمینے ہیں جن کی کوئی معلوماتی بنیاد نہیں ہے۔ اصولی طور پر ایران کے اسلحے کے ذخائر کی مقدار سوا متعلقہ فوجی حکام کے، کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ اور پھر ایران میں جنگ کے دوران جہاں اسلحہ دشمن کے خلاف استعمال ہو رہا ہوتا ہے، وہاں مزید اسلحہ بن بھی رہا ہوتا ہے، چنانچہ ان تخمینوں اور اندازوں کو وقعت دینا معقول نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha