21 مئی 2026 - 02:16
حصۂ دوئم | ٹرمپ: بیجنگ میں ذلیل ہونے سے لے کر تہران میں سرگردانی تک + ویڈیو

امریکی پروفیسر اور صحافت کے لئے امریکی "پولٹزر" انعام یافتہ پروفیسر ڈیوڈ جانسٹن نے کہا: ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے سے پسپائی کے لئے داستان سرائی کرتا ہے؛ وہ حقائق کو جعل کرتا ہے، / وہ حتیٰ نہیں جانتا کہ کس احمقانہ مہم جوئی میں الجھ گیا ہے۔ / شی جن پنگ نے اس کے پورے دورے کو اس کی تذلیل کے لئے ترتیب دیا تھا [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی پروفیسر اور صحافت کے لئے امریکی "پولٹزر" انعام یافتہ پروفیسر ڈیوڈ جانسٹن نے کہا: ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے سے پسپائی کے لئے داستان سرائی کرتا ہے؛ وہ حقائق کو جعل کرتا ہے،

وہ حتیٰ نہیں جانتا کہ کس احمقانہ مہم جوئی میں الجھ گیا ہے۔

شی جن پنگ نے اس کے پورے دورے کو اس کی تذلیل کے لئے ترتیب دیا تھا تاکہ یہ بتا سکیں کہ وہ اپنے منصب کی اہلیت نہیں رکھتی۔

آبنائے ہرمز کی بندش جنگ کے انتظام میں ٹرمپ کی بے بسی کی وجہ سے، دنیا کو کسادبازاری اور بھوک کی طرف لے جا رہی ہے۔

ویڈیو کی تفصیل:

حصۂ دوئم

- میں نہیں جانتا کہ کیا واقعی سعودیوں اور دوسروں نے اس کو فی الحال حملہ روکنے کی ترغیب دلائی ہے یا نہیں! لیکن

- یہ ضرور جانتا ہوں کہ ٹرمپ کی کسی بات پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا، وہ سب کچھ اپنی طرف سے کہتا ہے۔ اور

- میں 38 برسوں سے ایسی باتوں کو مستند (دستاویزی) بنا رہا ہوں۔

- ٹرمپ اپنی طرف سے قصے گھڑتا ہے۔ مثال کے طور پر

- جب چین سے واپس آیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ 200 بوئنگ طیارے اور 750 انجن بیچنے کا معاہدہ کیا ہے۔

- میں نہیں جانتا کہ جب انجن طیارے جتنا پائیدار رہتا ہے تو 200 طیاروں کے لئے 750 انجنوں کی ضرورت کیونکر پڑ سکتی ہے؟

- ٹرمپ نے اب مختلف قسم کے معاہدوں کا دعویٰ کیا ہے لیکن

- جب چینیوں سے ان معاہدوں کےبارے میں پوچھا کیا تو انہوں نے صرف  یہی کہا کہ "ہم مستحکم تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔" یعنی

- چین اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہؤا ہے۔

- شاید یہ بات امریکیوں کے لئے لرزہ خیز ہو کہ اس بات کا باور کریں کہ ایرانی حکومت اپنے موقف میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ سچی اور ایماندار ہے۔

میزبان: میں شاید اس مسئلے میں آپ سے اختلاف کروں، ڈیوڈ۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک چيز جو ہم نے اس پوری جنگ سے سیکھی ہے یہ ہے کہ بہت مشکل ہے کہ فریقین کی طرف سے شائع ہونے والی باتوں پر اعتماد کر سکیں۔

پروفیسر ڈیوڈ کے جانسٹن: نہیں نہیں،

- حقیقت وہ پہلی چیز ہے جو جنگوں پر قربان ہو جاتی ہے۔ لیکن

- جنگ سے دو مہینے گذرے ہیں اور اس عرصے میں ایرانی حکومت کی باتیں ٹرمپ کی باتوں سے بہتررہی ہیں؛ اور یہ خود ایک مسئلہ ہے۔ یعنی

- یہ حقیقتا اہم بات ہے کہ صدور جہاں تک اپنے بیانیے کی پیروی کرتے ہیں لیکن

- ڈونلڈ ایسے کسی ڈسپلن کا تابع نہیں ہے! چنانچہ

- ٹرمپ اس وقت ایک حقیقی بند گلی میں گرفتار ہو چکا ہے۔

- آبنائے ہرمز جس قدر بند رہے گا، یہ خطرہ بڑھتا رہے گا دنیا عالمی کسادبازآری میں داخل ہوجائے؛

- بہت سے غریب ممالک، کیمیاوی کھادوں کی قلت کی وجہ سے وسیع پیمانے پر بھوک و افلاس سے دوچار ہو جائیں گے۔

- اس آبنائے کی بندش باعث بنتی ہے کہ ہلیم کی قلت کی وجہ سے لوگ طبی ٹیسٹ نہ کروا سکیں؛ مثلا ایم آر آئی وغیرہ کے لئے؛ اس کے باوجود

- وہ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں نکال سکا ہے۔ اور میں یقینا اس کے لئے ایسا کوئی راستہ نہیں دیکھ پا رہا ہوں، میں اس کا تصور تک نہیں کر سکتا۔

- اچھا چینی صدر نے واضح طور پر کہا کہ یہ طے نہیں ہے کہ وہ ـ بیجنگ کی نظر میں ـ بالکل واضح اور تزویراتی وجوہات کی بنا پر ٹرمپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha