بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی صدر نے کہا: کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں موجودہ حالات میں (مذاکرات کے لئے) وٹکاف اور کوشنر کو 18 گھنٹوں کی پرواز پر ـ پاکستان روانہ کروں، جو ایک بہت طویل سفر ہے۔
ٹرمپ نے آج ایکسیوس نیوز ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکی وفد پاکستان بھجوانے کے بارے میں ابھی تک نہیں سوچا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں کوئی بھی امریکی وفد کا منتظر نہیں تھا اور وفد اسلام آباد بھجوانے کا کوئی بھی مطلب نہیں بنتا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے ـ اپنے معمول کے دورے میں ـ پاکستان کے دارالحکومت میں پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نیز افواج کے کمانڈر انچیف سے ملاقات کی اور ایران کے خلاف جنگ کے مستقل خاتمے کے لئے ایک عملی اور قابل نفاذ فریم ورک کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی تشریح کی۔
کچھ پاکستانی ذرائع نے دعوی کیا کہ عراقچی کل واپس اسلام آباد آئیں گے! لیکن اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ٹرمپ نے اپنے وفد کے اسلام آباد نہ جانے کے بارے میں کہا: "تھوڑی دیر پہلے، میں نے اپنے آدمیوں سے ـ جو پاکستان جانے کی تیاری کر رہے تھے ـ کہا: "نہیں، تم 18 گھنٹے طویل پرواز پر نہیں جا رہے ہوں، کہ وہاں جاکر "بے مقصد" باتیں کرو۔ ترپ کے تمام پتے ہمارے پاس ہیں۔ ایران جب چاہیں گے ہم سے رابطہ کرسکیں گے۔"
ایکسیوس نے لکھا: "ہم نے ٹرمپ سے پوچھا: "کیا دورے کی منسوخی کا مطلب یہ ہے جنگ دوبارہ شروع کرنے چاہتے ہو؟، تو اس نے کہا: "نہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ پاکستان کا سفر طویل ہے۔ ہم مذاکرات ٹیلی فون پر بھی کر سکتے ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ