11 اپریل 2026 - 13:48
حصۂ اول | ایران اتحاد و یکجہتی کے ساتھ تاریخ کے دجال کے مدمقابل کھڑا ہے، الیگزینڈر دوگین

الیگزینڈر دوگین نے کہا: اپنے قائد کی شہادت کے باوجود نہ صرف شکست سے دوچار نہیں ہؤا بلکہ حتمی فتح کی طرف بڑھ رہا ہے۔ / مجھے یقین ہے کہ ایران کی جنگ نے عالمی ترتیب کے خاتمے کی رفتار کو تیزتر کر دیا ہے اور ایران عزم و استقامت، اتحاد و یکجہتی سے، ایک مؤثر حکمت عملی کے ساتھ، اس تقدیر ساز جنگ میں فاتح و کامیاب ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، روسی فلسفی الیگزینڈر دوگین نے کہا: ایران اور اسرائیل کی جنگ آخرالزمان کی جنگ ہے؛ یہ جنگ ایران کی جنگ ہے نیتن یاہو کے بقول 'ایرانی عمالیق ہیں' اور اگر ہم اس کی بات مان لیں تو یہ عمالیق دجال کے خلاف کھڑے ہیں؛ ایران اپنے قائد کی شہادت کے باوجود نہ صرف شکست سے دوچار نہیں ہؤا بلکہ حتمی فتح کی طرف بڑھ رہا ہے۔  

روسی فلسفی اور نظریہ ساز، پروفیسر الیگزینڈر دوگین نے اسپوتینک ریڈیو کے پروگرام "تشدید" میں اس جنگ میں امریکہ کا نام نہیں لیتے اور ایران اور اسرائیل کی جنگ کے بارے میں  کہتے ہیں کہ یہ ایک جیوپولیٹیکل تنازع نہیں بلکہ ایک ماوراء الطبیعی (Metaphysical)، مذہبی اور آخرالزمانی جنگ ہے جو دوسری عالمی جنگ سے جنم لینے والی عالمی ترتیب کو انتہائی تیز رفتاری سے شکست و ریخت کی طرف لے جا رہی ہے۔ ان کے نظریئے کی تفصیل کچھ یوں ہے:

1۔ ایران مظلومیت سے فتحِ میدان تک

یہ تصور غلط ہے کہ ایران ایک کمزور ملک ہے؛ ایران اس جنگ کا فاتح ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی یہ تھی کہ فوجی، مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کے قتل اور عام شہریوں کو قتل کرکے "ایران کا سر قلم" کیا جائے، لیکن اس حکمت عملی کا الٹا نتیجہ برآمد ہؤا ہے۔ اس غیر انسانی اور وحشیانہ حکمت عملی نے نہ صرف ایرانیوں کے عزم کو کمزور نہیں کیا بلکہ ایرانیوں کے عدیم المثال اتحاد و یکجہتی پر منتج ہوئی۔

قومی اتحاد:

وہ ایرانی عوام بھی ـ جو حکومت پر تنقید کرتے تھے، دشمن کے جرائم دیکھ کر ملک کے دفاع اور اسرائیل کی نابودی کے لئے میدان میں آئے ہیں۔

نئی قیامت:

آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے کا انتخاب، جو سپاہ پاسداران سے قریب تر اور سابقہ نسل سے زیادہ پرعزم ہیں، ایک نسلی منتقلی پر منتج ہؤا اور زیادہ شدید استقامت اور مزاحمت پر یقین رکھتی ہے اور دشمن کے ساتھ سمجھوتے پر یقین نہیں رکھتی۔

میدانی فتوحات:

ایران نے نہ صرف آئرن ڈوم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ اس نے اسرائیل میں انتہائی بنیادی اہمیت کے اہداف پر حملے کئے ہیں، خطے میں امریکی اڈوں پر حملے کئے ہیں اور آبنائے ہرمز کو بند کرکے عالمی معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ایران کو مزید مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اسرائیل کی مکمل نابودی تک جاری جاری رکھنا چاہتا ہے۔

2۔ آخرالزمانی تقابل: عمالیق اور دجال کا آمنا سامنا

دو فریقوں کے راہنما مذہبی اور آخرالزمانی سوچ رکھتے ہیں۔

اسرائیل اور اس کے اتحادی:

نیتن یاہو نے اس جنگ کو بنی اسرائیل اور عمالیق (کتاب مقدس میں بنی اسرائیل کے دشمنوں) کے درمیان جنگ کا نام دیا جنہیں اس کےبقول، مکمل طور پر مٹ جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ امریکی عیسائی صہیونی ہیں (جنگ میں ٹرمپ کا وزیرخارجہ اور وزیر جنگ شامل ہیں)  جو سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ مسیح کے ظہور اور حقیقی مؤمنین! کی ترقی کی تمہید ہے! (امریکی وزیر خارجہ نے اعلانیہ طور پر اس جنگ کو بارہویں امام کے خلاف جنگ قرار دیا ہے)۔

یہ انتہاپسند دھارے اسرائیل اور امریکہ کے تمام فیصلہ ساز اداروں کو مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔

ایران:

اس کے مقابلے میں [دوگین کے خیال میں] ایران اس جنگ "دجال" (antichrist) کے خلاف جنگ، سمجھتے ہیں۔ اہل تشیّع کو یقین ہے کہ آخری جنگ بارہویں امام کے ظہور کی تمہید ہوگی۔

دوگین قم میں ایک آیت اللہ کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایرانی معاشرہ عشروں سے "انتظار کی تعلیمات" کے تحت اس آخری جنگ کے انتظار میں زندگی بسر کی ہے اور اب وہ تاریخی لمحہ آن پہنچا ہے۔ جو نسل عقائد کے حوالے سے شک و تردد کا شکار ہوئی تھی وہ بھی آج اعلانیہ جارحیت ریکھ کر جنگ کے اگلے مورچوں میں حاضر ہے۔

3۔ روس اور ایک تاریخی عالمی تشکیل

دوگین اس جنگ کے حوالے سے روس کی کارکردگی پر کسی حد تک تنقید کرتے ہیں اور دو نکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

عملی حمایت:

دوگین کہتے ہیں: روس کی کاہلی پر بعض دوستوں کی تنقید کے باوجود، ایران نے ابھی تک ناراضگی کا معمولی سا اظہار بھی نہیں کیا ہے؛ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ روس ایران نے غیر مشروط ـ مگر خفیہ ـ حمایت کرتا ہے۔ میرے خیال میں یوکرین کی جنگ اور ایران کی جنگ در قحقیت ایک جنگ ہے دو محاذوں میں ایک مشترکہ دشمن "یعنی یک قطبی" دنیا کے خلاف۔ روس اور ایران ایک ہی دشمن کے خلاف نبردآزما ہیں اور امریکہ نے روس سے کہا ہے کہ ایران کو معلومات بھیجنے کا سلسلہ بند کرے۔

سفارتی رویے پر تنقید:

دوگین نے کہا:

سلامتی کونسل میں روس کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز ایک بے معنی اور بے اثر اقدام تھی جس نے "تصور کے درد" (Phantom Pain) اور 'یالتا' (بمعنی کاہل، یعنی اقوام متحدہ) کی منسوخ شدہ عالمی ترتیب کے حوالے سے روس کی بے توجہی سی جنم لیا تھا۔

وہ عالمی ترتیب (دوسری عالمی جنگ کے بعد بننا والا World Order) کا مزید کوئی وجود نہیں ہے، اور 'لا قانونیت' کے دور میں صرف 'زور اور طاقت' پہلی اور اخری بات کرتی ہے۔ روس کو چاہئے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرے، اپنے اتحادی ملک [ایران] کی فتح کے لئے، اس کی مدد کرے، اور پھر کثیر قطبی دنیا کی تعمیر میں شراکت کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha