4 فروری 2026 - 08:49
ٹرمپ کا قاتل ٹرمپ کے پاس ہی ہے!

"کیا جیرڈ کشنر ٹرمپ کے زیادہ وفادار ہیں یا اسرائیل کے؟!" اور اگر ٹرمپ کی افادیت کا دور ختم ہو جائے، تو کیا اس کا زندہ باقی رہنا ـ ان کے پاس موجود وسیع معلومات کو دیکھتے ہوئے، ـ صہیونی ریاست کے لئے خطرناک نہیں ہے؟! آپ جواباً کہہ سکتے ہیں کہ "ٹرمپ نے اسرائیل کی بہت خدمت کی ہے اور اسرائیل ان کے ساتھ ایسا سلوک روا نہیں رکھے گا!"، تو کیا ایپسٹین نے ٹرمپ سے بھی زیادہ، اسرائیل کی خدمت نہیں کی تھی؟!

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوزایجنسی ـ ابنا ||

1۔ سب سے پہلے ایک امریکی ریٹائرڈ فوجی کا یہ X پیغام ٹویٹ پڑھیں جو کہا جاتا ہے کہ اب تک لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا ہے:

"ہمارے ملک کا حال اس وقت بہتر سمجھ میں آتا ہے جب ہم جان لیتے ہیں کہ اس ملک میں ہر وہ شخص جو اقتدار کی چوٹی پر ہے، یا تو یہودی ہے، یا ایک پیڈوفائل (Pedophile) ہے، یا ایک یہودی پیڈوفائل ہے، یا پھر اسے یہودیوں یا پیڈوفائلز یا یہودی پیڈوفائلز نے بلیک میل کیا ہے اور اس سے رقم وصول کی ہے۔"

واضح رہے کہ "پیڈوفائل" کے معنی "بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والے" کے ہیں جس کو اردو میں کچھ اور عناوین سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

2۔ ان دنوں "فحاشی کے جزیرے" (جسے Little St. James کا نام دیا جاتا تھا) سے 30 لاکھ سے زیادہ دستاویزات کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ جزیرہ جیفری ایڈورڈ ایپسٹین (Jeffrey Edward Epstein) کی ملکیت تھا اور بعد میں معلوم ہؤا کہ ایپسٹین صرف ایک ڈھال تھا۔ امریکی ورجن آئی لینڈز میں واقع اس جزیرے کو خفیہ فنڈنگ اور منصوبہ بندی سے صہیونی ریاست چلاتی رہی تھی۔ ایپسٹین، جو ایک یہودی صہیونی تھا، امریکہ اور یورپ کی نامور شخصیات اور کچھ دیگر ممالک کے سربراہوں اور اہلکاروں کو اس پرتعیش جزیرے پر مدعو کرنے کے پابند تھا۔ وہ انہیں نابالغ لڑکیاں (یہاں تک کہ 7 یا 8 سالہ بچیاں) فراہم کرتا تھا اور ان سے ان بچیوں کا جنسی استحصال کرواتا تھا، اور خفیہ طور پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز بناتا تھا۔ صہیونی ریاست ان تصاویر اور ویڈیوز کو انہیں اپنے مطلوبہ اقدامات کرنے پر مجبور کرنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان افراد میں شامل ہیں جن کی ـ بچیوں اور کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی کی بنائی گئی گھناؤنی ویڈیوز اور تصاویر سب سے زیادہ ہیں۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن، ملکہ الزبتھ دوم کے دوسرے بیٹے شہزادہ اینڈریو، اور سینکڑوں دیگر شخصیات (جنہیں بے شخصیت و بدکردار اور پلید کہنا چاہئے) کی تصاویر و ویڈیوز بھی فحاشی کے اس [شیطانی] جزیرے کی دستاویزات میں دیکھی جا سکتی ہیں جن کی تفصیلات ہم کسی اور موقع پر بیان کریں گے۔

3۔ جیفری ایپسٹین کو سنہ 2008 میں کئی بچیوں اور نوعمر لڑکیوں کو ـ جنسی استحصال کی غرض سے ـ دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن امریکی سرکار کے دباؤ کے تحت 13 ماہ بعد رہا کر دیا گیا! (1) یہاں تک کہ اسے دوبارہ 2019 میں قانونی عمر سے کم عمر کی بچیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور 6 ماہ بعد وہ قید تنہائی کے موقع پر جیل کی کوٹھڑی (Solitary-cell) میں مردہ پایا گیا اور کہا گیا کہ اس نے خودکشی کر لی ہے!  ایپسٹین کے وکلاء نے دستاویزات پیش کرکے اعلان کیا کہ اس نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ سنہ 2025 میں جب فحاشی کے جزیرے کی دستاویزات کا انکشاف ہؤا، تو امریکہ کے محکمہ انصاف نے اس کے سیل کی ویڈیو جاری کر دی لیکن معلوم ہؤا کہ اس ویڈیو میں سے "2 منٹ 53 سیکنڈ" حذف کر دیۓ گئے ہیں۔ ایپسٹین کا بھائی کہتا ہے کہ اس کے بھائی کو موساد نے قتل کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایپسٹین ٹرمپ کی پہلے دور صدارت کے دوران مارا گیا تھا اور اس کا بھائی ایپسٹین کی ہلاکت کو موساد اور ٹرمپ کی مشترکہ سازش سمجھتا ہے۔ اس وقت فحاشی کے جزیرے کے دستاویزات کا انکشاف نہیں ہؤا تھا۔

4. اب اس واقعے پر ایک نظر ڈالیں۔ امریکہ کے 35ویں صدر جان ایف کینیڈی کو بھی 1963 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کا قاتل "ہاروی اوسوالڈ (Lee Harvey Oswald)" تھا۔ قاتل فوراً گرفتار کر لیا گیا اور دو دن بعد، پولیس کے حفاظتی حلقے اور سیکیورٹی اہلکاروں کے گھیرے میں جیل منتقلی کے دوران، ایک یہودی-صہیونی شخص "جیک روبی (Jack Ruby)" کی فائرنگ کے نتیجے میں ـ ٹیلی وژن کے لاکھوں ناظرین کی آنکھوں کے سامنے، مارا گیا۔ امریکہ اور دنیا کی عوامی سوچ میں جو بڑا سوال ابھرا اور اب بھی موجود ہے وہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی پولیس کے حلقوں اور سیکیورٹی اداروں کے حفاظتی حلقے گذر کر اوسوالڈ کے قتل کے منصوبے میں کیسے کامیاب ہوا؟!

5۔ سنہ 1964 میں جان ایف کینیڈی کے قتل کی تحقیقات کے لئے امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس "ایرل وارن (Earl Warren)" کی سربراہی میں "وارن کمیشن (Warren Commission)" تشکیل دیا گیا۔ اس کمیشن کی آخری رپورٹ میں کہا گیا کہ جان ایف کینیڈی کے قاتل لی ہاروی اوسوالڈ  نے از خود کینیڈی کو قتل کر دیا تھا اور اس کے قاتل جیک روبی، نے بھی کسی وابستگی، پیشگی منصوبہ بندی یا سازش کے بغیر، ذاتی طور پر اوسوالڈ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا! واضح رہے کہ وارن کمیشن کے ارکان ـ ایک کے سوا باقی ـ سب یہودی تھے اور جو رکن یہودی نہیں تھا اس کی بیوی یہودی تھی۔ حال ہی میں، امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ـ 60 سال بعد ـ جان ایف کینیڈی کے قتل کے بارے میں جاری کردہ خفیہ دستاویزات میں موساد کا نام نمایاں ہے اور کہا گیا ہے کہ چونکہ کینیڈی نے صہیونی ریاست کے جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کی مخالفت کی تھی اور یہی ان کے قتل کی وجہ بنی تھی!

6۔ اب ہم اس مضمون کے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ جن افراد کی کم عمر بچیوں سے جنسی زیادتی کی شرمناک دستاویزات کا انکشاف ہؤا ہے، ان میں سب سے زیادہ اور گھناؤنی اور نفرت انگیز دستاویزات ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق ہیں، حالانکہ اب تک ان دستاویزات کا صرف ایک حصہ ہی سامنے آیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موساد ٹرمپ کو مکمل طور پر اپنے قابو میں رکھنے کے لئے ان دستاویزات کو مکمل طور پر شائع کرنے کی دھمکی دیتی رہتی ہے اور اسی دھمکی کو ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ یہ بات بڑے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ کے پاس بھی ـ موساد کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کے بارے میں ـ وسیع معلومات ہیں جن کا انکشاف صہیونی ریاست کے لئے بھی بہت خطرناک ہو گا۔ ایپسٹین کے پاس بھی بہت سی معلومات تھیں جن کا انکشاف اسرائیل کے لئے بہت خطرناک تھا اور صہیونیوں کے [جنسی] مشن کی تکمیل کے بعد، اس [موساد] کی نظر میں، اس [ایپسٹین] کا قتل بہت ضروری سمجھا جاتا تھا، چنانچہ اس کو ـ اس کے اپنے بھائی کے اعلان کے مطابق ـ مارا گیا اور اس کے قتل میں موساد کا بنیادی کردار تھا؛ تو کیا  کیا موساد کے لئے، اپنی مطلوبہ خدمات حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ کی زندگی کا جاری رہنا بھی، خطرناک نہیں ہوگا؟!

7. "جیرڈ کشنر" ایک یہودی سرمایہ دار اور ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے شوہر ہیں۔ وہ ٹرمپ کے قریبی مشیر ہیں اور ٹرمپ کے قریبی افراد کے مطابق، وہ وائٹ ہاؤس میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے خطوط اور تقریریں وہی تیار کرتے اور ترتیب دیتے ہیں اور ٹرمپ کے کابینہ اور نائبین کے تقرر اور برطرفی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کی صدارت موساد کے قبضے میں ہے؛ کیونکہ یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ "کیا جیرڈ کشنر ٹرمپ کے زیادہ وفادار ہیں یا اسرائیل کے؟!" اور اگر ٹرمپ کی افادیت کا دور ختم ہو جائے، تو کیا اس کا زندہ باقی رہنا ـ ان کے پاس موجود وسیع معلومات کو دیکھتے ہوئے، ـ صہیونی ریاست کے لئے خطرناک نہیں ہے؟! آپ جواباً کہہ سکتے ہیں کہ "ٹرمپ نے اسرائیل کی بہت خدمت کی ہے اور اسرائیل ان کے ساتھ ایسا سلوک روا نہیں رکھے گا!"، تو کیا ایپسٹین نے ٹرمپ سے بھی زیادہ، اسرائیل کی خدمت نہیں کی تھی؟!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: حسین شریعتمداری، چیف ایڈیٹر روزنامہ کیہان

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ [اورریپبلکن پراسیکیوٹر "الیگزینڈر ایکوسٹا (Alexander Acosta)" نے اسے امریکی عدالتی تاریخ میں عدیم المثال استثنیٰ سے نوازا۔ ایکوسٹا نے بعد میں اعتراف کیا کہ اسے اعلیٰ حلقوں سے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مقدمہ چھوڑ دے، کیونکہ "ایپسٹین انٹیلی جنس کمیونٹی کا حصہ ہے"۔]

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha