بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اہل بیت (ع) ابنا کی رپورٹ کے مطابق، کیلیفورنیا، نیویارک، نیو جرسی، ورجینیا اور میری لینڈ سمیت امریکہ کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد مسیحی رہنماؤں، ـ جو درجنوں مذہبی تنظیموں اور اداروں کی نمائندگی کر رہے تھے، ـ نے امریکی کانگریس کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی مالی اور فوجی حمایت بند کریں، مشرقی یروشلم کے ہسپتالوں کے نیٹ ورک کے لئے ضروری بجٹ فراہم کریں اور ان طبی مراکز تک غزہ کے باشندوں کی رسائی ممکن بنائیں۔ اس گروپ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی اور بہبودی ادارے "UNRWA" کی مالی معاونت بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

الجزیرہ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس کے اراکین کے دفاتر کے ساتھ ملاقاتوں میں شریک افراد نے غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں ابتر انسانی صورت حال کی شدت کے بارے میں وضاحت کی اور بچوں اور شہریوں کے طبی خدمات سے محروم ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی مسلمانوں اور عیسائیوں کو دی جانے والی اذیتوں کا بھی حوالہ دیا۔
• فرانسسکن ایکشن نیٹ ورک کی رکن، ایلی میک کارتھی نے کہا: ہمارے سیاسی مطالبات مشرقی بیت المقدس کے ہسپتالوں کے نیٹ ورک کے لئے بجٹ کی فراہمی، غزہ کے مریضوں کو ان مراکز میں منتقل کرنے کی سہولت، UNRWA کو مالی امداد کی بحالی، اور اسرائیل کو ہتھیاروں اور بموں کی ترسیل روکنے پر مرکوز ہیں۔ یہ ہتھیار غزہ اور لبنان میں لوگوں کے قتل عام کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔
• نیویارک کے ریورسائڈ چرچ کی پادری، میرا سولانی نے اس چرچ کے 1200 اراکین کو ترجمانی کرتے ہوئے غزہ کے بچوں کی بیماریوں اور معمولی انفیکشن سے موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ باعث شرم ہے۔ تقریباً 80 فیصد بچے بنیادی ضروریات اور طبی خدمات سے محروم ہیں اور تقریباً نصف خاندانوں کو طبی مراکز تک رسائی حاصل نہیں ہے؛ نتیجتاً بچے بے مثال شرح سے جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

• اگابیا اسٹیفانوپولس، جو برسوں مشرقی یروشلم میں مقیم رہی ہیں، نے اس علاقے کے مسلمانوں اور عیسائیوں کی حالت زار کو 'بتدریج نسل کشی' قرار دیتے ہوئے کہا: میں 1996 سے 2006 کے درمیان مقدس سرزمین میں، اور جبل الزیتون میں راہبہ تھی اور فلسطینی مسلم اور مسیحی بچوں کے لئے ایک اسکول چلاتی تھی۔ میں نے قریب سے دیکھا کہ کس طرح اسرائیلی قابض فلسطینیوں کو کچل رہے تھے۔ میں نے تقریباً 25 سال پہلے خبردار کیا تھا کہ یہ ایک خاموش نسل کشی ہے اور آج میں دیکھ رہی ہوں کہ عیسائی باشندے کس طرح کے مشکل حالات زندگی میں گھرے ہوئے ہیں اور ناقابل برداشت صورت حال کی وہ سے ارض مقدس سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔
• ایوینجلیکل لوتھرن چرچ ان امریکہ، کے ایک پادری نے کہا: میں نے جنوری میں مغربی کنارے کے اپنے دورے کے دوران، قریب سے فلسطینیوں کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن، نسل کشی، اپارتھائیڈ اور نسلی صفایا واقعات دیکھ لئے۔
فرینڈز سروس کمیٹی سے ایلیسن ٹینر نے اعلان کیا: ہم یہاں فلسطینیوں کے خلاف غیر انسانی پالیسیوں کی مذمت کرنے اور ان ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے لیے آئے ہیں جو نسل کشی میں استعمال ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، اسرائیل نے جنگی جرم، انسانیت کے خلاف جرم اور نسلی امتیاز کا ارتکاب کیا ہے۔
• پریسبیٹیرین چرچ کی "ایدی" نے کہا: میں اپنے ننھے بچے کی اس طرح پرورش کر رہی ہوں کہ وہ تمام قوموں کی آزادی کے لئے فکرمند ہو۔ ہر رات ہم اپنی بیٹی کو سناتے ہیں کہ فلسطین آزاد ہو گا۔
• لیدیا الصائغ، جن کا خاندان غزہ میں رہتا ہے، نے اسرائیل کو بم اور اسلحے کی ترسیل روکنے کا مطالبہ کیا اور مشرقی بیت المقدس کے ہسپتالوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ کھولنے اور غزہ سے زخمیوں کو بیت المقدس منتقل کرنے کا کا راستہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ