بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق؛ روسی فلسفی الیگزینڈر دوگین نے کہا: ایران اور اسرائیل کی جنگ آخرالزمان کی جنگ ہے؛ یہ جنگ ایران کی جنگ ہے نیتن یاہو کے بقول 'ایرانی عمالیق ہیں' اور اگر ہم اس کی بات مان لیں تو یہ عمالیق دجال کے خلاف کھڑے ہیں؛ ایران اپنے قائد کی شہادت کے باوجود نہ صرف شکست سے دوچار نہیں ہؤا بلکہ حتمی فتح کی طرف بڑھ رہا ہے۔
۔۔۔۔۔ 4۔ اقتصادی شکست و ریخت اور نئی عالمی ترتیب کا آغاز
دوگین کا کہنا ہے:
میرے خیال میں ایران پر حملہ عالمی افراتفری پھیلانے کا پیشگی تیار کردہ منصوبہ نہیں تھا، [ایران کو اچانک اس واقعے کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا]، بلکہ ایران نے خود کو اس منظرنامے کے لئے تیار کیا تھا اور اس منظرنامے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور [اسرائیلی اور خطے میں امریکی] بنیادی ڈھانچوں پر حملوں نے عالمی منڈی پر ناقابل برداشت دباؤ ڈال دیا ہے۔
ایک دور کا اختتام:
میں دوٹوک اعلان کرتا ہوں کہ دبئی جیسے علاقوں میں استحکام اور فلاح و بہبود کا دور ختم ہو چکا ہے اور دنیا مزید پہلے کی طرح نہیں ہوگی۔ یہ صورت حال روز قیامت کی آمد پر صوراسرافیل کی مانند ہے، لیکن بہت سارے اس دنیا میں اسے سنی ان سنی کرنا چاہتے ہیں۔
روس کی پوزیشن:
مغربی دنیا کے برعکس، یہ اقتصادی شکست و ریخت روس کو کچھ زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے گی؛ کیونکہ روس نے اپنی معیشت کو، پہلے ہی مغربی معاشی نظام سے الگ کر لیا ہے۔
میرا خیال یہ ہے کہ دشمن کے زوال اور شکست و ریخت سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز امر ہے اور میں اس موقع سے جنم لینے والے دریچے سے فائدہ لے کر منصفانہ کثیر قطبی دنیا کی تعمیر پر زور دیتا ہوں۔
اتحادیوں کو انتباہ:
دوگین نے کہا:
بھارت نے حالیہ جنگ میں ایک ایرانی بحری جہاز کی پوزیشن اسرائیل کو بتا دی اور میں خودمختار ممالک کو خبردار کرتا ہوں کہ اس تقدیر ساز جنگ میں، اپنی پوزیشن 'فاعل' کے طور پر مستحکم کریں نہ کہ عالمی سیاست کے 'مفعول' کے طور پر۔
نتیجہ:
دوگین کہتے ہیں:
مجھے یقین ہے کہ ایران کی جنگ نے عالمی ترتیب کے خاتمے کی رفتار کو تیزتر کر دیا ہے اور ایران عزم و استقامت، اتحاد و یکجہتی سے، ایک مؤثر حکمت عملی کے ساتھ، اس تقدیر ساز جنگ میں فاتح و کامیاب ہو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ