بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سبز براعظم (یورپ) کو ان دنوں دو اطراف سے آگ لگی ہوئی ہے؛ ایک طرف مشرق وسطیٰ میں جنگ اور توانائی کے راستوں کی بندش کی وجہ سے جرمنی اور فرانس میں بجلی اور گیس کی قیمتیں دو سال میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، اور دوسری طرف یوکرین، جسے یورپ کا 'غلہ گودام' ذخیرہ بننا تھا، اب یورپی کسانوں اور کارخانہ مالکان کے لئے ایک بم گھڑی بن چکا ہے۔
جنگ کی وجہ سے بہت کم قیمتوں پر یورپ میں داخل ہونے والی یوکرینی زرعی مصنوعات نے، اسی قسم کی مصنوعات پیدا کرنے والے یورپیوں کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ آج پولش کسان، جرمن کارخانہ دار اور فرانسیسی مویشی پالنے والا، سب یک آواز ہو کر چلّا رہے ہیں: "ہماری منڈی بند کرو ورنہ ہم دیوالیہ ہو جائیں گے۔"
فولاد بس آغاز تھا؛ برسلز دروازے بند کرنے میں مصروف ہے
برسلز نے ابھی پہلا سرکاری سگنل دیا ہے: یوکرین کے فولاد کے درآمدی کوٹے میں کمی اور نئے محاصل (ٹیرفس) کا نفاذ۔ بظاہر یہ اقدام یورپ میں روزگار کے مواقع برقرار رکھنے اور اضافی پیداوار سے نمٹنے کے لئے ہے، لیکن پس پردہ، ایک بڑا اسٹراٹیجک فیصلہ تشکیل پا رہا ہے: یورپ آہستہ آہستہ خود کو یوکرین سے الگ کر رہا ہے۔
یہ علیحدگی تاہم صرف اقتصادی نہیں ہے۔ یوکرین میں مالی بدعنوانی سے جنم لینے والی رسوائیاں ـ جنہیں اب روسی نہیں بلکہ امریکی طشت از بام کر رہے ہیں، ـ بہت سے یورپی سیاست دانوں اور مالیاتی اداروں کو بھی اس معاملے میں گھیر چکی ہیں۔ واشنگٹن ان مقدمات کے ذریعے کیئف اور برسلز دونوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
یورپ کے لئے روسی جغرافئے کا جال
اس اثناء میں، روسی حکام کا موقف ـ جو کہتے ہیں کہ یوکرین جنگ کے بعد یورپی یونین میں شمولیت کا حق رکھتا ہے، ـ بہت ہوشیاری سے وضع کیا گیا ہے۔ کریملن کے نقطہ نظر سے، ایک تباہ حال اور دیوالیہ معیشت والے یوکرین کو یورپی یونین میں شامل کرنا، خود یورپ کے لئے تباہ کن ہے۔
اگر یوکرین اسی حالت میں یورپی یونین میں شامل ہو جاتا ہے، تو یورپ کا زرعی سبسڈی کا نظام تباہ ہو جائے گا، فولاد کی منڈی بکھر جائے گی، اور لاکھوں یوکرینی تلاش روزگار میں امیر یورپی ممالک پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ یہ وہی 'ٹائم بم' ہے جو یورپ کو اندر سے پھاڑ ڈالے گا۔
یورپ کے خلاف دباؤ کا تکون (مثلث)
امریکہ بدعنوانی کے اسکینڈلز کے ذریعے یورپی اشرافیہ پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ یورپ اپنی جان بچانے کے لئے مجبور ہے کہ وہ اپنی معیشت کے دروازے یوکرین پر بند کر دے، اور روس عملی طور پر وہ منظر نامہ آگے بڑھا رہا ہے جو یورپی یونین کے اندرونی بحران کو تیز کرتا ہے۔
یوں، یورپ میں یوکرین کے مستقبل کا سوال اب [یونین یا نیٹو کی] "توسیع" کا سوال نہیں ہے۔ یہ دھیرے دھیرے "خود یورپی یونین کے زوال" کے بارے میں سوال، بنتا جا رہا ہے۔
نکتہ:
سنہ 2022ع میں روس نے یوکرین میں خصوصی فوجی کاروائی کا آغاز کیا تو یورپ اور امریکہ کی تمام حکومتیں ہی نہیں، ذرائع ابلاغ اور مشہور اینکرز، مبصرین، تجزیہ کار اور سیاستدان بھی متفق القول تھے کہ "روس کا زوال قریب ہے"، اور آج۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ