8 مارچ 2026 - 21:06
امریکہ کو تاوان ادا کرنا پڑے گا، ہم اسے چھوڑیں گے نہیں، ڈاکٹر لاریجانی

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا: دشمن "مخمصے" میں پھنسا ہؤا ہے اور جنونی حملوں کے ساتھ آخری سانسیں لے رہا ہے۔ امریکہ کو اپنے اقدامات کی قیمت ادا کرنا پڑے گی، ہم اسے چھوڑیں گے نہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی لاریجانی نے امریکی-صہیونی جارحیت کے آٹھویں دن ٹیلی وژن مکالمے میں دشمن کے عزائم اور عسکری اور سیاسی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

* میں ایک بار پھر رہبر انقلاب امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شہادت پر تمام مجاہدین، ہم وطنوں اور مسلمانان عالم کو تعزیت پیش کرتا ہوں، اور مجاہد مسلح افواج کے کارناموں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ 

دشمن کے پس پردہ عزائم: دھچکا لگانے سے ملک کی تقسیم تک

* امریکی - صہیونی حکام نے اعلان کیا کہ ان کا مقصد ایران کی سالمیت کا خاتمہ کرنا اور اس کے حصے بخرے کرنا تھا۔

* دشمن سمجھتا تھا کہ رہبر انقلاب اور بعض کمانڈروں کی شہادت ملک ٹوٹنے کا سبب بنے گا، لیکن اس اقدام نے ایک عظیم کارنامہ رقم کیا اور عوام کو تہذیبی اتحاد پر آمادہ کیا اور قوم اسی اتحاد کی بنا پر میدان میں آئی۔

آٹھ روزہ جنگ میں امریکی اندازے شکست کھا گئے

* امریکی سمجھتے تھے کہ وہ مختصر مدت میں شدید جنگ کے ذریعے ـ وینزویلا کی طرح ـ ایران کو زیر کر سکے گا، لوگوں کے حوصلے پست ہونگے لیکن آج وہ خود بے بس ہو چکے ہیں۔

* عوامی معیشت کو درہم برہم کرنا بھی دشمن کے اہداف میں شامل تھا لیکن انتظام اچھا رہا۔

* دشمن ذرائع نے کہا کہ کچھ فوجی کمانڈرز دشمن سے جا ملے ہيں، ہم نے کہا: تم صرف ایک کمانڈر کا نام لو۔

* سپاہ پاسداران، بسیج، پولیس فورسز سب میدان میں ہیں اور ہمارے میزائل دشمن کے سر پر برس رہے ہیں۔

* امریکہ ایران کی کرد اقوام کو بغاوت پر اکسانا چاہتا تھا حالانکہ کرد بنیادی ایرانی اقوام ہیں، انھوں نے ہماری افواج کو طاقت کو قریب سے دیکھا ہے اور شام میں امریکہ کی بے وفائی بھی دیکھی ہے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ ایک دھوکہ ہے۔ چنانچہ امریکہ اس حوالے سے بھی ناکام ہو گیا۔

ٹرمپ کو "وسوسہ" ہؤا، لیکن قوم کھڑی ہو گئی

* ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ایک مکالمے کا انکشاف ہؤا ہے جس میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "حالات مناسب ہیں، آیئے حملہ کرتے ہیں"، اور ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ "مجھے نیتن یاہو کی بات سن کر وسوسہ ہؤا، اور ایران پر حملہ کیا"۔ یہ امریکی صدر ہے جو وسوسے کی بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ کرتا ہے، یعنی یہ کہ اس بڑی طاقت کی اعلی سطح پر اس قدر گرے ہوئے انداز سے فیصلے ہوتے ہیں! یہ ایک وسوسہ کھربوں ڈالر کے نقصان، امریکی اسٹاک ایکسچینج کو تیسرے ہی روز ایک ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہؤا۔

* ٹرمپ نے ایک گرل پرائمری اسکول پر حملہ کیا اور سینکڑوں بچیوں کو قتل کیا اور دھمکی دے رہا ہے کہ شہروں پر بمباری کرکے عوام کا قتل عام کرے گا۔ یہ سب امریکیوں کی مایوسی کی علامتیں ہیں۔ ٹرمپ نے کچھ ایرانیوں کو دھمکی دی ہے کہ "اگر وہ میدان میں نہ آئیں حکومت کے خلاف، تو میں ان کے ناموں کو فاش کروں گا اور کہہ دوں گا کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔"

* عوام سڑکوں پر ہیں، ممکن ہے کہ ان کے درمیان اختلاف ہو، وہ ایران کے نام پر متحد ہيں وہ اپنی قدیم تہذیب کے تحفظ کی ضرورت کو سمجھتے ہیں، اور فکری لحاظ سے بالغ ہیں۔ انہوں نے سڑکوں پر آکر دشمن کا آخری حربہ بھی ناکام کر دیا۔

خطے کے ممالک کو واشنگٹن کی کٹھ پتلی نہیں بننا چاہئے

* رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کے باوجود، عوام معمول کی زندگی گذار رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کر رہے ہيں۔

خطے کے ممالک کو انتباہ

* دشمن میدان میں بے بس ہوچکا ہے چنانچہ وہ اب اسکولوں پر حملے کرتا ہے اور عوام کو دھمکیاں دیتا ہے۔

* ہم نے اپنے پڑوسیوں سے کہا اور ایک بار کہتے ہيں کہ اگر طے یہ ہو کہ آپ اپنی سرزمین پر امریکیوں کو اڈے دے دیں اور وہ ان اڈوں سے ہم پر حملہ کریں، تو یہ ہمارا حق ہے کہ ان اڈوں پر حملہ کریں۔

* کچھ عرصہ قبل ایک خطے کے ایک ملک کے اعلی اہلکار نے مجھ سے کہا: "ہم برسوں بعد سمجھ گئے کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے، اور خطے کا بنیادی مسئلہ 'اسرائیل' ہے!" میں نے کہا: "تو پھرآپ امریکیوں کو اپنی سرزمین پر قائم کردہ اڈوں سے ایران پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟"، تو انھوں نے کہا: "ہم خود انہیں نکال باہر کریں گے!"۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ کس طرح انہیں نکال باہر کرتے ہیں۔

* یہ مہمل بات ہے کہ ایک ملک ہمارے ساتھ دوستی کا اعلان کرتا پھرے اور اسی لمحے اپنی سرزمین پر اسے اڈے فراہم کرے۔

* یہ ایران کا مسلّمہ حق ہے کہ ہم پر جہاں سے بھی جارحیت ہوگی، اسی مقام پر جوابی حملہ کرے، یہ ہماری پائیدار پالیسی ہے۔

آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں علاقائی ممالک کی خیانت

* صدام نے ایران پر جنگ مسلط کی تو خطے کے پورے عرب ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے، اس کو پیسہ دیا اور اس کی مدد کی لیکن ہم نے انتقامی کاروائی نہیں کی۔

* عمان کے مرحوم سلطان قابوس نے ایک خصوصی میٹنگ میں مجھ سے کہا: "ایران پر صدام کے حملے سے ایک ہفتہ قبل، اردن کے شاہ حسین نے مجھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا: صدام کا نائب آپ کو فون کرے گا، اور آپ سے اجازت مانگے گا کہ عمان کی سرزمین سے ایران پر حملہ کر سکے۔ تھوڑی دیر بعد صدام کے معاون نے فون کیا میں نے کہا کہ ہماری فوج کے کمانڈر سے بات کرے۔ اور ساتھ ہی میں نے کمانڈر سے کہا کہ تعاون نہ کرے۔" جبکہ باقی عرب ریاستیں صدام کے ساتھ کھڑی رہیں۔

صدام نے امریکی حمایت سے ہم پر حملہ کیا

* صدام کے دور میں عراقی فوج کے انٹیلی جنس چیف وفیق سامرائی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جنگ سے دو ہفتے قبل امریکی نائب وزیر خارجہ بغداد کے دورے پر آیا اور کہا کہ 'ایران پر حملہ کرو، ہم آواکس اور دوسرے وسائل سے تمہاری مدد کریں گے'، حالانکہ اس زمانے میں عراق مشرقی بلاک کا ملک تھا!

جنگ کی لاگت امریکیوں کے لئے ناقابل برداشت ہے

• اس جنگ سے امریکی معیشت کو بہت بڑے نقصانات کا سامنا ہے، وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ جنگ کے آغاز پر ہی اس کے اسٹاک ایکسچینج کو ایک ٹریلین (1000 ارب) ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا اور اب اسے مزید 1000 ارب ڈالر کا مزید نقصان اٹھانا پڑا ہے، (ایک ہفتے میں 2000 ارب ڈالر کا نقصان!)۔ جاپان، جنوبی کوریا اور خطے کے تمام ممالک کو اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب ٹرمپ کو خود ہی دیکھنا چاہئے کہ اس نے امریکی قوم پر کتنا عظیم مالی اور اقتصادی بوجھ ڈال دیا ہے۔

ایران نے کچھ امریکی فوجیوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے

• ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ایک وسوسے کی بنیا پر امریکی عوام کو اس عظیم نقصان سے دوچار کیا ہے۔ ایسا وسوسہ جس کے لئے امریکی فوجیوں کے خون کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے! دیکھئے اس خطے میں ان چند ہی دنوں میں کتنی امریکی فوجی ہلاکت سے دوچار ہوئے ہیں؟ طرہ یہ کہ ہم سن رہے ہیں کہ کچھ امریکی فوجی ـ خطے کی ایک بندرگاہ میں اپنے کمانڈر کی گھبراہٹ کی وجہ سے ـ قید بھی کر لئے گئے ہیں۔ امریکی عوام کو اس کہانی کا اصل متن پڑھ لینا چاہئے۔

 امریکہ کی جھوٹی ہیبت ٹوٹ گئی

• اس جنگ کا نتیجہ یہ ہؤا کہ امریکہ ایران کو شکست و ریخت سے دوچار کے بجائے اندرونی انتشار اور بحران کا شکار ہو چکا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha