27 ستمبر 2026 - 12:09
امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکال باہر کرنے کا ایرانی انداز - 1

چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک نے امریکی اڈوں کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ دی ہے کہ 12 سے زیادہ امریکی اڈوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ایران نے ثابت کرکے دکھایا کہ سستے غیر متناسب ہتھیار جدید فضائی دفاع میں گھس بھی سکتے ہیں اور اور دشمن کے بنیادی ٹھکانوں کو غیر متناسب نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کئی دہائیوں تک، مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کا وسیع نیٹ ورک واشنگٹن کے لئے خطے میں طاقت کے استعمال کا ایک اہم ذریعہ تھا؛ بحرین، قطر اور کویت سے لے کر امارات، سعودی عرب، عراق، اردن اور عمان تک۔ لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی جنگ نے واشنگٹن اور عرب ممالک کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھ دیا ہے اور وہ یہ "کیا یہی اڈے جو مبینہ طور پر سلامتی کے ضامن تھے، اب زدپذیر مقامات اور قابل رسائی اہداف بن گئے ہیں؟

امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکال باہر کرنے کا ایرانی انداز - 1

نیویارک ٹائمز نے امریکی اڈوں کی صورتحال کے بارے میں ایک رپورٹ میں واضح کیا کہ جنگ کی وجہ سے امریکی افواج ان سہولیات میں طویل عرصے تک معمول کے مطابق نہیں رہ سکیں اور کوئی کام نہیں کر سکیں۔

قطر میں العدید ایئربیس اور بحرین میں پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر سے منسلک مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور سعودی عرب میں بھی مواصلاتی آلات اور ایندھن بھرنے والے طیاروں کو نقصان پہنچا۔ اس تبدیلی کو چند فوجی عمارتوں کے نقصان سے آگے، دیکھنا چاہئے۔ بنیادی مسئلہ صورتحال کا رخ "اڈہ بطور فائدہ" کا قاعدہ بدل کر "اڈہ بطور زدپذیری" بن گیا۔

اڈہ خود ہدف بن گیا

خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی کی منطق کئی عناصر پر مبنی تھی: بحران کے مقامات کے قریب فوج کی تعیناتی، تیز رفتار ردعمل کا امکان پیدا کرنا، مواصلاتی اور بحری خطوط کا کنٹرول اور خطے کے حریفوں کے خلاف تسدید (ڈیٹرنس)۔ لیکن اگر مخالف فریق انہی مستقل اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنا سکے، تو ان کا جغرافیائی فائدہ ایک کمزوری میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس (Chatham House) مشرق وسطیٰ کے نئے نظام (یعنی نئی علاقائی ترتیب [New Regional. Order]) کے بارے میں لکھتا ہے: "تہران نے اس جنگ کو ایک وجودی خطرے کے طور پر لیا، آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور امریکی اڈوں اور خلیج فارس کے توانائی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔

امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکال باہر کرنے کا ایرانی انداز - 1

جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ، ایران نے تیزی سے پیشگی حملوں کی پالیسی اپنائی، جو آخرکار کویت اور اردن میں امریکی افواج پر حیران کن اور مہلک میزائل حملوں کا باعث بنی۔"

یہ تھنک ٹینک مزید کہتا ہے: "اس جنگ کی طویل مدتی اہمیت نہ صرف جنگ کے نتیجے میں، بلکہ اس کی پیدا کردہ علاقائی صف بندیوں میں پوشیدہ ہے۔ بہت بعید از قیاس ہے کہ خلیج فارس میں جنگ سے پہلے کا نظام بحال ہو پائے۔ واشنگٹن کو گویا خلیج فارس کے لئے اپنے سیکورٹی ڈھانچے کو نئے سرے سے ترتیب دینا پڑے گا۔

یہ ڈھانچہ جو فرنٹ لائن افواج کی تعیناتی، بڑے اڈوں اور روایتی برتری پر مبنی تھا، توقع سے زیادہ کمزور ثابت ہؤا ہے۔"

چیتھم ہاؤس نے امریکی اڈوں کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ دی: "بارہ سے زیادہ امریکی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ایران نے ثابت کرکے دکھایا کہ سستے غیر متناسب ہتھیار جدید فضائی دفاع کی حدود میں داخل ہو سکتے ہیں اور غیر متناسب نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لہٰذا، واشنگٹن ممکنہ طور پر کم اور زیادہ غیر واضح اڈوں، بکھری ہوئی تعیناتیوں، درست حملوں کی صلاحیت، میزائل دفاع اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی طرف رخ بدلے گا۔"

امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکال باہر کرنے کا ایرانی انداز - 1

یہ تجزیہ ایک لحاظ سے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے اور وہ یہ کہ امریکہ کو ایک اڈے کی حفاظت اور دفاع پر بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، لیکن ایران کو اسی اڈے کو خطرے میں ڈالنے کے لئے لازمی طور پر اتنا ہی سرمایہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں، بڑا اور مستقل اڈہ اب صرف طاقت کی علامت نہیں؛ بلکہ اس کا محل وقوع دشمن [یعنی ایرانی افواج] کے لئے معلوم، اس کے ڈھانچے مرتکز اور اس کی تعمیر نو کی لاگت بہت بھاری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha