21 ستمبر 2026 - 01:12
ہم مسلم ایرانی قوم، اس کے اسلامی نظام اور محاذ مزاحمت کے ساتھ ہیں، مہدی المشاط

یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے ایران اور محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سعودی عرب سے کہا کہ 'صنعا کے ساتھ مصالحت کے اخراجات، جنگ کے اخراجات سے ہم ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ 'مہدی المشاط' نے زور دے کر کہا کہ صنعا کی حکومت ـ اپنی قومی، ایمانی، انسانی اور انقلابی ذمہ داری کے طور پر، ـ تمام قیدیوں کی رہائی کے لئے،  اپنی پوری کوشش کرے گی۔

المشاط نے یمن کے '21 ستمبر کے انقلاب' کی سالگرہ کی آمد پر کہا کہ اس انقلاب کا مقصد کئی دہائیوں کی بدعنوانیوں اور بیرونی ملکوں پر انحصار کا خاتمہ تھا۔

انھوں نے بتایا: "استعماری طاقتوں نے بے شمار سازشیں کیں اور سعودی عرب کی قیادت اور امریکہ کی نگرانی میں ایک مجرمانہ جارحیت کا آغاز کیا؛ یہ ممالک ایک آزاد اور خودمختار یمن کے مخالف تھے۔"

ان کا کہنا تھا: "ہمارے دشمنوں نے اس جنگ پر بے پناہ وسائل استعمال کئے لیکن اس باوجود اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکے۔"

اس یمنی عہدیدار نے کہا: "مذکورہ ممالک نے یمن کی سرزمین پر دو لاکھ 50 ہزار سے زائد فضائی حملے کئے۔"

انھوں نے کہا: "ہم نے مصالحت کے دروازے بند نہيں کئے، بلکہ پوری خیر سگالی کے امن کے قیام کے لئے پہل کی اور رعایتیں دیں اور سعودی دشمن جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔"

مہدی المشاط کا کہنا تھا: "ہمارے موقف میں بنیادی اصول، سعودی جارحیت اور آل سعود کی طرف کی ظالمانہ ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔"

یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ سعودی عرب کے دھوکے میں آنے والے لوگوں سے کہا: "ہم نے ملک میں عام صدارتی معافی کا اعلان کیا، ہے اپ بھی آئیں اور صدارتی معافی کے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور یمن کی آغوش میں واپس آ جائیں، تاکہ اپنی قوم کے ساتھ، محاذ کی صحیح سمت میں، کھڑے ہو جائیں۔"

انھوں نے سعودی حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا: "ہمارے آپشنز تناؤ کی شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ، میدان میں آئیں گے اور زیادہ تکلیف دہ صورت اختیار کرتے رہیں گے، اور ہم اپنے حقوق سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔"

المشاط نے کہا: "ساحلی علاقوں میں یمن کی مسلح افواج کی فتوحات، یمن کی خودمختاری کے نفاذ اور سعودی کرائے کے فوجیوں کو مار بھگانے کی حکمت عملی کے دائرے میں حاصل ہوئیں۔"

انھوں نے کہا: "ہم بحیثیت حکومت، فوج اور قوم، اپنے ملک کے خلاف سعودی جارحیت اور ظالمانہ محاصرے کے خاتمے، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے دوبارہ کھلنے، قومی دولت کی واپسی اور معاوضے کی وصولی کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے زور دے کر کہا: " یمن کی ہمسایہ ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ہمیں ان سے کوئی خاص توقع اور لالچ نہیں ہے۔"

انھوں نے یمنی حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا: "بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کی نقل و حرکت جاری اور محفوظ ہے اور یمن کی طرف سے جہازرانی کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا؛ تمام جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گذرنے کے مجاز ہیں، سوائے سعودی دشمن کے جہازوں کے۔"

المشاط نے آخر میں کہا: "یمن کے ساتھ امن و مصالحت، اس ملک کے دشمنوں کے لئے سب سے کم خرچ اور سب سے مختصر راستہ ہے۔"

انھوں نے آخر میں کہا: "ہم مسلمان ایرانی قوم اور اس کے اسلامی نظام کے ساتھ ہیں اور 'میدانوں کی وحدت' (یعنی محور مزاحمت کے تمام محاذوں کے اتحاد و یکجہتی کے اصولوں کے دائرے میں، لبنان، فلسطین اور محور مقاومت کے دیگر محاذائے مقاومت و مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha