بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جون 2025ع کے وسط میں، مغربی ایشیا کی سلامتی کی صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ ایران کے اندر کے اہداف پر اسرائیل کے براہ راست حملوں میں، ـ جن میں کئی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی شہادت بھی شامل تھی، ـ نے تصادم کی سطح کو پراکسی جنگوں اور محدود کارروائیوں سے بڑھا کر کھلا اور آمنے سامنے لڑائی میں بدل دیا۔ اس اقدام نے، جو سیاسی طور پر امریکہ کی حمایت سے کیا گیا، خطے اور دنیا بھر میں وسیع رد عمل پیدا کیا۔
بہت سے مبصرین کے نزدیک، حملے کے وقت اور طریقے کا انتخاب عیاں کرتا تھا کہ منصوبہ سازوں کا مقصد ابتدائی جھٹکا پیدا کرنا اور نفسیاتی توازن بگاڑنا تھا۔ مقصد محض فوجی ضرب لگانا نہیں تھا؛ بلکہ براہ راست کارروائی کی صلاحیت اور پہلے کی سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے بارے میں سیاسی پیغام بھیجنا بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔
لیکن یہ تصور صرف چند گھنٹے ہی چل سکا۔ ایران کا جواب تیز رفتار، براہ راست اور اعلانیہ تھا؛ ایسا جواب جس سے ثابت ہؤا کہ تہران نہ صرف حیرت زدہ نہیں ہؤا بلکہ ایسے منظر نامے سے نمٹنے کے لئے تیار بھی تھا۔ مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف پر میزائل داغنا تصادم کے ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا؛ ایسا مرحلہ جسے اب محض ایک محدود تبادلہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ ایک بڑی تبدیلی کا آغاز تھا؛ اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ غیر ملکی ماہرین کا نظریہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔
مضمون کا خلاصہ:
بنیادی نکتہ: مغربی طاقتوں (خاص طور پر امریکہ) کے مہلک غلط اندازوں اور جھوٹے مفروضات نے ایک محدود بحران کو ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ براہ راست جنگ میں بدل دیا، جس کے نتیجے میں مغربی پالیسی سازوں کی توقعات کے برعکس حیران کن نتائج سامنے آئے اور اسرائیل کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانا پڑے۔
اسرائیل نے جون میں، امریکی سیاسی حمایت کے ساتھ، ایران کے اندر اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر پراکسی جنگ سے براہ راست جنگ کا آغاز کیا اور تقابل کا نیا اور خطرناک مرحلہ شروع ہوا۔
1۔ حملے سے ایران کے فیصلہ سازی کا ڈھانچہ درہم برہم ہو جائے گا۔
2۔ ایران میں اندرونی انتشار اور احتجاج پھوٹ پڑے گا۔
3۔ ایران کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر میزائلوں کی درستگی، کم تر ہے۔
تمام مفروضے غلط ثابت ہوئے۔ ایران نے فوری، درست اور موثر ردِ عمل دیا۔
ایران صدمے سے نمٹا، شاید اس لئے کہ وہ ایسے منظر نامے کے لیے پہلے سے تیار تھا۔ اس نے مقبوضہ علاقوں میں نشانہ بند میزائل حملوں کے ذریعے "نئی جنگ" کا اعلان کر دیا۔ مغرب کے نفسیاتی دباؤ کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ جنگ کی نوعیت یکسر بدل گئی۔
ایران کے حملے حساس اسرائیلی اہداف (حیفا ریفائنری، فضائی اڈے، انٹیلی جنس مراکز، اسلحہ سازی اور دہشت گردانہ مواد کی تیاری والے مراکز) پر مرکوز رہے، جس سے اسرائیل کو بھاری اقتصادی اور عوامی نقصان پہنچا اور عالمی رائے عامہ بھی ایران کی طرف مائل ہوئی۔ جنگ کا توازن بدل گیا، ایران کا پلڑا بھاری ہو گیا، اسرائیل ریاست کے سرغنوں پر رائے عامہ کا دباؤ بڑھ گیا اور "جنگ بندی کی خواہش" میں اضافہ ہؤا۔
مغربی تھنک ٹینک اور امریکی صدر کے "عجلت میں لئے گئے فیصلے" اور "غلط تخمینوں" نے نہ صرف جنگ کو طول دیا بلکہ اسے ایک مہنگے اور غیر متوقع تصادم میں بدل دیا۔ یہ مغربی اور صہیونی تصور کہ "دوسرے ممالک کے خلاف بروئے کار لائے جانے والے حربے، ایران کے خلاف بھی کار آمد ہونگے"، "خیالِ باطل" بن گیا اور مغرب کی جنگی حکمت عملی ناکام ہو گئی۔
بارہ روز بعد، اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کے ساتھ جنگ بند ہو گئی۔ اور اس جنگ کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ: "علاقائی طاقت کا توازن بدل گیا ہے"، اور آخری پیغام ایک سخت تنبیہ کے طور پر دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ "ایران کے معاملے میں "غلط حساب کتاب اور گمراہ کن تخمینوں" اور "کھوکھلی دھمکیوں" سے کام لینا "انتہائی خطرناک" ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی جنگ کے دروازے کھول سکتا ہے جسے بند کرنا آسان نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: فاطہ کاوند
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ