اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جمہوریہ اسلامی ایران کے سفارت خانے کے ثقافتی مرکز نے یوگنڈا میں المصطفیٰ اسلامک کالج کے تعاون سے کیِنگرا کیمپس میں بین المذاہب مکالمے پر ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس میں ایران کے سفیر، کالج کے اساتذہ و منتظمین، یوگنڈا انٹرفیتھ کونسل (IRCU) کے نمائندوں، کیتھولک کلیسا کے رہنماؤں، ایران، سوڈان، تنزانیہ اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے محققین اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
شرکاء نے اسلام اور مسیحیت کے مشترکہ اقدار، مذاہب کے ذریعے امن و بقائے باہمی کے فروغ، انتہاپسندی کے سدباب اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے میں مذہبی قائدین کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔
المصطفیٰ اسلامک کالج کے سربراہ دہقانی نے کہا کہ معاشروں کو درپیش بڑے چیلنجز میں تفرقہ، جہالت اور غلط معلومات کا پھیلاؤ شامل ہیں، جن کا مقابلہ الہامی مذاہب کی تعلیمات سے کیا جا سکتا ہے۔
ایران کے ثقافتی مشیر رضائی دستجردی نے بین المذاہب مکالمے کو امن، انصاف اور باہمی احترام کے قیام کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے شہید رہبرِ ایران اور جنگ و تشدد کے تمام متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایران میں مختلف مذاہب کے تاریخی بقائے باہمی کا ذکر کرتے ہوئے یوگنڈا کے مذہبی و تعلیمی اداروں کے ساتھ علمی اور ثقافتی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یوگنڈا انٹرفیتھ کونسل کی نمائندہ جوانا ناکابیتو نے قومی مفاہمت اور امن کے لیے کونسل کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری تعاون کو سراہا اور شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کے دورۂ یوگنڈا کے دوران ہونے والے مشترکہ اقدامات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
تنزانیہ سے الحاج عثمان رمضان روانتالو نے HIV/AIDS کے خلاف مشترکہ مذہبی اقدامات کے تجربات بیان کرتے ہوئے سماجی مسائل کے حل میں بین المذاہب تعاون کی اہمیت اجاگر کی، جبکہ پادری چارلس کاسولے اور پادری جان بوسکو سندالا نے بھی مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مسلسل مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کو پرامن بقائے باہمی کے لیے ضروری قرار دیا۔
ایران سے آئے ہوئے حجۃ الاسلام محدث نے کہا کہ بین المذاہب مکالمہ باہمی فہم، غلط فہمیوں کے خاتمے اور مشترکہ مذہبی اقدار کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اسلام اور مسیحیت میں منجی کے ظہور جیسے مشترکہ عقائد کو بین المذاہب ہم آہنگی کی اہم بنیاد قرار دیا۔
یوگنڈا کیتھولک سیکریٹریٹ کے بین المذاہب و اکومینیکل ڈائیلاگ کے ایگزیکٹو سیکریٹری پادری ونسنٹ کاراتونگا نے کہا کہ موجودہ پُرآشوب دنیا میں بین المذاہب مکالمہ ایک ناقابلِ انکار ضرورت بن چکا ہے اور مذاہب کو انتہاپسندی، نفرت انگیزی اور غلط معلومات کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
تقریب کے اختتامی سیشن سے یوگنڈا میں ایران کے سفیر مجید صفار نے خطاب کرتے ہوئے مذاہب کو امن، بقائے باہمی اور انسانی وقار کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے مغربی ممالک کی دوہری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت کا ذکر کیا اور کہا کہ ایرانی عوام کا دفاع مذہبی تعلیمات سے الہام یافتہ ہے۔
سمپوزیم کے موقع پر رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی زندگی کے مختصر واقعات پر مشتمل ایک کتاب کی بھی رونمائی کی گئی۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بین المذاہب تعاون، باہمی احترام، اخلاقی اقدار اور امن پر مبنی معاشروں کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ یہ پروگرام محض ایک علمی نشست نہیں بلکہ یوگنڈا میں ایران کی ثقافتی سفارت کاری اور بین المذاہب تعاون کو فروغ دینے کی ایک عملی کاوش ثابت ہوا۔
آپ کا تبصرہ