بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ گذشتہ دنوں دہشت گرد امریکی دشمن کی جانب سے ایران کے بعض غیرملکی بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کے پیش نظر، مسلح افواج کے ٹارگٹ بینک میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی چنانچہ عمان کی الدقم بندرگاہ میں امریکی تنصیبات پر حملہ، ایران کی ذاتی دفاع کی حکمت عملی میں تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ امریکی-صہیونی جنگ، جس کو خطے کی عرب ریاستوں کی پشت پناہی حاصل ہے، حساس مرحلے پر پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ دنوں خوزستان، بندرعباس، بوشہر وغیرہ میں آبی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچوں پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دشمن نے جنگ وہیں سے شروع کی ہے جہاں ختم ہوئی تھی۔
ٹرمپ نے 8 اپریل 2026 کو جنگ بندی کی بھیک مانگنے سے پہلے، ایران کے تمام اہم بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ دعویٰ، جس سے اس کو ایران کے ٹھوس جواب کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑا، اور اس مرحلے میں جنگ محاذ خاموشی کے دور میں داخل ہوئی۔
جھڑپوں کے نئے دور کے آغاز کے ساتھ، دشمن نے جنگ کو بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچانے کے مرحلے سے شروع کیا ہے، جس میں خلیج فارس کی بعض عرب ریاستوں ے کی ہم آہنگی کے ساتھ، جھڑپ کے ابعاد وسیع ہو گئے ہیں۔ یہ گندی جنگ ہے جس کا مناسب جواب دیا جانا چاہئے۔
عرب شیخوں کی عملداریوں میں ادراکی تبدیلی کی ضرورت
حالیہ دنوں میں امریکہ کے حملوں کے ساتھ چند عرب ریاستوں کی ہم آہنگی، ـ جس کی خبریں میڈیا پر آ چکی ہیں، ـ ان ریاستوں کے ادراک میں تبدیلی کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر 'صابر گل عنبری' کے مطابق، سفارتی تکلفات کو ایک طرف رکھیں تو ان ممالک کے رویئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے نتائج ابھی تک ان کے ادراک میں کوئی تبدیلی نہیں لائے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمت کی یادداشت پر دستخط تک کے سفر کے بعد، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے ایران سے تعامل کے کچھ آثار دکھائے تھے، لیکن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی خلیجی تعاون کونسل سے ملاقاتوں اور سینٹ کام کمانڈر کی علاقائی ممالک کے فوجی کمانڈروں کے ساتھ سیکورٹی اجلاسوں نے ان ممالک کے موقف کو پھر پہلے کی طرح پرانی غلط بنیادوں کی طرف پلٹا دیا ہے۔ لہٰذا خطے میں طاقت کا توازن ازسرنو متعین کرنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضا محمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ