بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آپریشن نصر 2 کی مختلف لہریں اور آپریشن صاعقہ کے ساتویں اور آٹھویں مرحلے محض دہشت گرد امریکی فوج کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا امتداد نہیں بلکہ اہداف کے انتخاب کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، لاجسٹک ڈھانچے، ایئر بیسز کے دفاعی نظامات، مواصلاتی نظامات، رسد کا نظام، اور فضائی تنصیبات کو اپنے ایجنڈے کے مرکز میں رکھا ہے۔
تیسرا حصہ:
"نصر 2" کی ساتویں لہر؛ امریکی دفاعی چھتری پر حملہ
ایران کے جنوب میں کئی مقامات پر دہشت گرد امریکی فوج کے حملوں کے بعد، پاسداران انقلاب نے "یا رسول اللہ(ص)" کے مقدس کوڈ نیم سے آپریشن نصر 2 کی ساتویں لہر کا آغاز کیا۔
اس مرحلے میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن سینٹر، میزائل اور ایئر ڈیفنس ریڈار، پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم کمپلیکس، کویت میں دہشت گرد امریکی فوج کے فوجی اڈے اور HIMARS میزائل سسٹم کے لانچ پیڈز کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
سیٹلائٹ مواصلاتی مراکز اور ریڈار، ابتدائی وارننگ نیٹ ورک اور میدان جنگ کی کمان کو تشکیل دیتے ہیں۔ پیٹریاٹ سسٹم مقبوضہ علاقائی ریاستوں میں امریکی اڈوں میں امریکی میزائل دفاع کی سب سے اہم پرت بھی ہے، اور HIMARS نظام بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹیکٹیکل فائر سسٹمز میں سے ایک ہے۔ ان کمپلیکسز کو نشانہ بنانا، دشمن کی دفاعی صلاحیت کو کم کرتا ہے اور دہشت گرد امریکی افواج کی فوری جواب دینے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
الازرق اڈے کے خلاف فوج کی "صاعقہ" آپریشن کا تسلسل
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی کارروائیوں کے ساتھ ہی، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے بھی دہشت گرد امریکی فوج کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے جاری رکھے۔
آپریشن صاعفہ کے ساتویں مرحلے میں F/A-18 لڑاکا طیاروں کی تعیناتی کے مقام، فوجیوں کی رہائش گاہوں اور اردن کے الازرق امریکی اڈے پر امریکی دہشت گرد فوج کے بڑے سازوسامان کے ذخیرہ کرنے والے شیڈوں اور ہینگروں کو تباہ کن ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن صاعقہ کے آٹھویں مرحلے میں، اسی بیس کو دوسری بار نشانہ بنایا گیا، اور F/A-18 فائٹر جیٹ ہینگرز اور اس کے سپورٹ اور آلات کے ہینگرزو کو تباہ کن ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
کسی مخصوص اڈے پر مسلسل حملے اس کی آپریشنل صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہینگروں، سامان کے ذخیرہ کرنے کے مراکز، اور فوجیوں کی تعیناتی کو نشانہ بنانا جنگی صلاحیت کی تعمیر نو اور مشن پر فضائی یونٹوں کی تیزی سے واپسی کے عمل میں خلل ڈال سکتا ہے۔
امریکی دہشت گردانہ جارحیت پر ایران کا ردعمل؛ "آپریشنل نیٹ ورک کے اہم نوڈز" پر حملہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے آپریشن "نصر 2" کی مختلف لہروں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے آپریشن "صاعقہ" کے ساتویں اور آٹھویں مرحلے میں چنے گئے اہداف کا جائزہ بتاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اہداف میں اضافے کے بجائے امریکی فوج کے "آپریشنل نیٹ ورک کے اہم نوڈز" کی تعداد میں اضافے پر توجہ مرکوز کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
کمانڈ اینڈ کنٹرول (C2) مراکز، مواصلاتی نیٹ ورکس، تیاری اور امدادی مراکز، فضائی دفاعی نظام، فضائی انفراسٹرکچر، اور دہشت گرد امریکی فوج کے ایندھن اور سازوسامان کے ڈپو ان اہداف میں شامل ہیں جو مغربی ایشیا میں امریکی دہشت گردوں کی جنگی تیاری، کمانڈ، اور کارروائیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں براہ راست کردار ادا کرتے ہیں، اور انہیں نشانہ بنانے سے آپریشن کے انتظام میں خلل پڑ سکتا ہے۔
فوجی ادب میں، ہدف بنانے کے اس طرز کو "آپریشنل نیٹ ورک کے اہم نوڈس" پر حملہ کرنے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک ایسا نقطہ نظر جو صرف سازوسامان کی تباہی پر توجہ دینے کے بجائے، کمانڈ، سپورٹ اور آپریشن کے تسلسل میں خلل ڈال کر دہشت گرد دشمن کے جنگی نظام کی مجموعی تاثیر کو کم کرتا ہے۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ