بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت دفاع کے سرپرست، بریگیڈیئر جنرل پاسدار سید مجید ابن الرضا نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر دفاع، خواجہ محمد آصف سے ٹیلی فونک گفتگو میں، ہیلی کاپٹر گرنے کے حادثے میں پاکستانی فوج کے افسران اور سپاہیوں کے جان بحق ہونے پر تعزیت پیش کرتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت میں تعمیری موقف اور طرز عمل پر پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کا شکریہ ادا کیا۔
بریگیڈیئر جنرل ابن الرضا نے مختلف مواقع پر ـ خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں ـ پاکستان کے وزیر دفاع کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت میں اسلام آباد کے موقف اور ایرانی قوم کے تئین پاکستانی حمایت پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ایران کی حکومت اور عوام کبھی بھی مشکل وقت میں اپنے دوستوں کے احسان و رفاقت کو فراموش نہیں کرتے۔
انھوں نے ایران پر مسلط کردہ جنگ اور جارحیت کے حوالے سے پاکستانی حکومت، عوام اور اعلیٰ فوجی حکام کے موقف، یکجہتی اور اخلاقی حمایت کا اعلان کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایران کا برادر اور دوست ملک قرار دیا جس کا علاقائی تبدیلیوں میں اہم کردار ہے۔
انھوں نے حالیہ مذاکراتی عمل اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں کے لئے ماحول کی فراہمی پاکستانی حکومت اور مسلح افواج کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج، مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے باوجود، کبھی بھی بدعہد دشمن پر اعتماد نہیں کرتیں اور اگر مفاہمت کے مندرجات کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کا رد عمل انتہائی سخت اور پشیمان کن ہوگا۔
سید مجید ابن الرضا نے غزہ، لبنان اور شام میں صہیونی ریاست کے جرائم اور علاقائی تبدیلیوں، بالخصوص مظلوم فلسطینی عوام کے حوالے سے پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کی کے ذاتی موقف کی تعریف کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے مجرمانہ اقدامات اور جارحیتوں کی مذمت کرتے ہوئے وضاحت کی: مجرم اور جعلی صہیونی ریاست خطے اور دنیا کے لئے شرِّ مطلق ہے اور اس منحوس ریاست کی حیات تنازعہ پیدا کرنے اور خطے میں بحران جاری رکھنے پر منحصر ہے چنانچہ اسلامی ممالک کو عملی اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ، شرِّ مطلق کے جرائم کا یہ سلسلہ روکنا چاہئے۔
وزارت دفاع کے سرپرست نے "اسلامی دنیا کا علاقائی سیکیورٹی بیلٹ" بنانے کی تجویز کا بھی تذکرہ کیا جس میں ایران، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصر اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہوںگے، اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سلسلے میں خطے کے ممالک کے ساتھ مشاورت کے لئے تیار ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر دشمن کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کو سراہا اور کہا: ایران کے عوام اور مسلح افواج نے جارحیت کا مکمل ایمان اور یقین کے ساتھ، چٹان کی طرح ڈٹ کر، مقابلہ کیا۔ اس جنگ اور اس مقابلے کی نوعیت اور کیفیت تاریخ میں درج ہوگی۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے دونوں ممالک کے تعلقات کو برادرانہ تعلقات قرار دیتے ہوئے کہا: پاکستان کے عوام ایران کے ساتھ برادرانہ جذبات رکھتے ہیں اور ہمیشہ ایران کی عوام کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کی مزاحمت اور استقامت پر فخر کرتے ہیں۔
انہوں نے ایرانی طرف کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خطے کی صورتحال کے مستحکم ہونے کے بعد، دو طرفہ تعاون میں ایک نیا باب کھلے گا تاکہ اسلامی دنیا کے علاقائی سیکیورٹی انتظامات پر عمل کیا جا سکے جس کا مقصد صیہونی حکومت کی جارحیت اور زیادتیوں کا مقابلہ کرنا اور خطے میں استحکام اور پائیدار سلامتی قائم کرنا ہے۔
خواجہ محمد آصف نے غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے اور اس حکومت کو خطے میں کینسر کے ٹیومر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا: پچھلے تین سالوں میں اس حکومت کے جرائم پوری دنیا میں ہونے والے تمام جرائم سے زیادہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ