بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج رات (منگل اور بدھ کی درمیانی شب) کہا: آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانیوں میں واقع نہیں ہے، بلکہ یہ ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ علاقہ ہے، اور یہ ریاستہائے متحدہ کے ساحلوں سے ہزاروں میل دور ہے۔
عراقچی نے یہ بھی کہا: سمندری سرحدیں مکمل طور پر واضح ہیں اور ان میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ہماری طاقتور مسلح افواج مسلسل چوکسی کی حالت میں ہیں تاکہ ایران کی فضائی، زمینی یا سمندری حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کا مقابلہ کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج رات ٹروتھ سوشل پر لکھا: مجھے ابھی اپنی عظیم فوج سے اطلاع ملی کہ کل رات ایرانیوں نے ہمارا ایک جدید اپاچی ہیلی کاپٹر ـ جو آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کر رہا تھا، ـ نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں دو پائلٹ تھے، جو دونوں محفوظ اور سلامت ہیں۔ اس کے باوجود، ریاستہائے متحدہ کو ضرورت کے مطابق اس حملے کا جواب دینا چاہئے۔
دفتر خارجہ کے سربراہ نے اس سلسلے میں کہا: غیر ملکی افواج جو ہماری سرزمین کے قریب ہیں، ہمیشہ خطرے میں رہتی ہیں؛ خواہ وہ اپنی انسانی غلطیوں کی وجہ سے، سادہ حادثات کی وجہ سے، یا فائرنگ کے تبادلے میں پھنسنے کے امکان کی وجہ سے۔
انھوں نے ایکس نیٹ ورک پر لکھا: ان خطرات کو کم کرنے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ غیر ملکی افواج جلد از جلد اس خطے کو چھوڑ دیں؛ ایسا خطہ جو کبھی دشمنوں کی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا: ایران سفارت کاری کی زبان کو ترجیح دیتا ہے؛ تاہم، جیسا کہ ہمارے بہادر جنگجوؤں نے دنیا کو دکھایا ہے، ہم دوسری زبانوں میں بھی بات کرنا بخوبی جانتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ