30 مئی 2026 - 12:45
امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں حتمی مفاہمت ابھی حاصل نہیں ہوئی، ڈاکٹر اسماعیل بقائی

اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کل رات ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ حتمی مفاہمت ابھی حاصل نہیں ہوئی، اس مرحلے میں ہماری توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس مرحلے میں جوہری معاملے کی تفصیلات پر بات نہیں ہوئی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛  اسلامی جمہوریہ ایران کی وزرات خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج (جمعہ 29 مئی) کو ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا:

• امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے سلسلے میں، اس لمحے تک ـ جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں، ـ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن حتمی مفاہمت نہیں ہوئی ہے۔

• ہماری توجہ اس مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، اور فی الحال جوہری معاملے کی تفصیلات پر بات نہیں ہوئی ہے۔

• آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی فریق نے شروع سے ہی حقائق میں ہیراپھیری کی۔ آبنائے ہرمز 28 فروری کو ایران پر غیرقانونی اور جارحانہ امریکی-صہیونی  حملے کے بعد، ایران کی جانب سے ساحلی ریاست کے طور پر، خصوصی تدابیر کے تحت ہے۔

• آبنائے ہرمز دشمن جہازوں اور فوجی جہازوں کے لئے بند ہے، لیکن اسی دوران تجارتی جہاز اسلامی جمہوریہ ایران کی ہم آہنگی سے اس راستے سے آمدورفت کرتے رہے ہیں۔

• اس بارے میں کہ آئندہ آبنائے ہرمز کا انتظام کس شکل میں ہو گا، یہ ایک معاملہ ہے جس کا تعلق آبنائے کی ساحلی ریاستوں، یعنی ایران اور عمان سے ہے۔

• عراقچی اور ان کے عمانی ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں زیر بحث آنے والے موضوعات میں سے ایک آبنائے ہرمز تھا۔ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں حفاظت اور سلامتی کے بارے میں بہت ذمہ دارانہ نقطہ نظر اپنایا ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی برادری کے فائدے کے لئے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لئے طریقہ کار اپنائیں۔

• آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کی حدود میں واقع ہے، اور ہم ایک خاص صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔

• یقیناً ایران اور عمان کو دو ذمہ دار ممالک کے طور پر ایسے طریقہ کار اپنانے چاہئیں جن سے ساحلی ریاستوں کے طور پر ان کے اپنے مفادات اور قومی سلامتی کا تحفظ بھی ہو اور بین الاقوامی برادری کو یہ یقین بھی دلایا جا سکے کہ اس راستے سے جہاز رانی بحفاظت انجام پا رہی ہے۔ یہ ایک بدیہی امر ہے۔

• امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں جوہری معاملات اٹھانے کے بارے میں مجھے،  حقیقت یہ ہے کہ اس مرحلے میں، ہماری توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ افزودگی سے متعلق مباحث کی تفصیلات یا ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے کے بارے میں، اس مرحلے میں ہماری درمیان کوئی بات نہیں ہو رہی ہے۔

• امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ڈکٹیٹشز (دلی خواہشات) کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ ہم نے 'لازم ہے' 'کرنا چاہئے' 'نہیں کرنا چاہئے' والی زبان کو 47 سال پہلے خیرباد کہہ چکے ہیں، اور آج کوئی ہم سے اس زبان میں بات نہیں کرتا۔

• کوئی بھی مغربی فریق جب اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں بات کرتا ہے، تو وہ 'لازم ہے' اور 'چاہئے' یا 'نہیں کرنا چاہئے' والی زبان استعمال نہیں کر سکتا۔ ہم ایران کے عوام کے مفادات اور حقوق کی بنیاد پر خود فیصلہ کرتے ہیں۔

• جس چیز کو امریکی صدر 'بحری ناکہ بندی' کا نام دیتے ہیں، وہ شروع سے ایک غیرقانونی اقدام ہے، یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی تھی اور بین الاقوامی بحری آزادی میں خلل ڈالنا بھی۔

• ہمیں عملی طور پر دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکی ـ ناکہ بندی اٹھانے کے ٹرمپ کے وعدے پر ـ عمل بھی کرتے ہیں یا یہ محض ایک تشہیری دعویٰ ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو گویا انہوں نے اپنے ایک غیرقانونی کام کو روک لیا ہے جو وہ چند ہفتے پہلے شروع کر چکے تھے؛ یہ وہ کام تھا کہ انہیں ابتداء سے کرنا ہی نہیں کرنا چاہئے تھا، لہٰذا ناکہ بندی اٹھانا امریکہ کی کم از کم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha