بین الاقوامی اہل بیت(ع) اسمبلی ـ ابنا ـ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس نیٹ ورک (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا:
تین یورپی ممالک کا ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منسوخ شدہ قراردادیں بحال کرنے کرنے پر مبنی اقدام، بین الاقوامی قواعد پر مبنی نظام میں "قابل اعتماد مذاکراتی شراکت دار" کے تصور کی ترجمانی کرتا ہے جس کے تحت طاقت استحقاق پیدا کرتی ہے اور "قواعد کا سب سے بڑا خلاف ورزی کرنا والا" کھیل کے اصولوں کو ڈکٹیٹ کرتا ہے۔
تین یورپی ممالک کا ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی منسوخ شدہ قراردادیں بحال کرنے کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ نہ تو قانونی تقاضے سے پیدا ہؤا ہے اور نہ ہی منطقی تشخیص پر مبنی ہے۔ بلکہ یہ، ـ جیسا کہ [امریکی وزیر خارجہ] مارکو روبیو نے 28 اگست (2025ع) اخباری بیان میں اعتراف کیا ہے ـ : امریکی صدر کے ہدایت نامے کے مطابق ہے جو 4 فروری 2025 کے صدارتی میمو نمبر 2 کے تحت جاری کیا گیا، یعنی اس فریق کے حکم کے مطابق جو (1+5 کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے) JCPOA کا فریق نہیں ہے، بلکہ اس نے JCPOA کی سب سے بڑی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے، وہی جو 2018ع میں یکطرفہ طور پر JCPOA سے الگ ہوکر آج تک کے تمام نامساعد واقعات کے ایک سلسلے کا سبب بنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ