اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اقوام متحدہ نے غزہ پٹی کے مستقبل اور اس پر کنٹرول سے متعلق حالیہ بیانات کے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ غزہ کا پورا علاقہ فلسطینی عوام کا ہے اور اس کی قانونی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ادارے کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں اور نام نہاد بفر زون سے واپس جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں موجود کسی بھی انتظامی یا فوجی تقسیم کو قانونی تقسیم تصور نہیں کیا جا سکتا اور پوری غزہ پٹی فلسطینی عوام کی ملکیت ہے۔
ترجمان نے غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں انسانی بحران بدستور جاری ہے اور امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک رہائشی علاقے پر فضائی حملہ کیا گیا جو اقوام متحدہ کی پانچ انسانی امدادی تنصیبات کے قریب واقع تھا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے سے اقوام متحدہ کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم اس طرح کے واقعات انسانی سرگرمیوں اور امدادی کارروائیوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق کرم ابو سالم گزرگاہ اس وقت غزہ میں امدادی سامان اور تجارتی اشیا کی ترسیل کا اہم راستہ بنی ہوئی ہے، جبکہ دیگر گزرگاہوں کی بندش نے امدادی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔ ادارے نے مزید انسانی راہداریوں کے کھولنے اور ضروری سامان کی بڑی مقدار میں رسائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں نے حالیہ ہفتوں میں غزہ کے دس ہزار سے زائد افراد کو نفسیاتی اور سماجی معاونت فراہم کی، جن میں بڑی تعداد بچوں اور ان کے سرپرستوں کی تھی۔ ان خدمات میں تفریحی سرگرمیاں، نفسیاتی مدد اور خاندانی مشاورت شامل تھیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ ان امدادی اور فلاحی خدمات کے تسلسل کے لیے ایندھن، محفوظ مقامات اور مناسب انسانی وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے، بصورت دیگر متاثرہ آبادی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ