بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سعودی العربیہ چینل نے ایک سعودی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب نے کسی بھی کاروائی کے لئے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی ہے اور جنگ کے خاتمے کے لئے پاکستانی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
اس ذریعے نے کسی فریق کا نام لئے بغیر کہا: "- کچھ فریق "مشکوک مقاصد کے لئے" سعودی موقف کی گمراہ کن تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔"
ادھر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس نیٹ ورک پر لکھا تھا:
- پاکستان پورے عزم کے ساتھ ایسی کوششوں کا پابند ہے جو صبر و تحمل کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے، تنازع کے پرامن حل کو فروغ دیتی ہیں۔
- ہمیں بہت امید ہے کہ موجودہ عمل ایک پائیدار معاہدے پر منتج ہو جائے جو پورے خطے اور دوسرے خطوں میں پائیدار امن و استحکام کی ضمانت دے سکے۔
ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر اسماعیل بقائی نے جمعرات کے روز مذاکرات کی نوعیت کے سلسلے میں، امریکیوں کے لامتناہی حرص و لالچ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، لکھا: مذاکرات کا ڈکٹیشن اور دھونس دھمکی سے کوئی جوڑ نہیں بنتا۔
اسماعیل بقائی نے مزید لکھا: مذاکرات کا تصور، اختلاف حل کرنے کی غرض سے، گفتگو کے لئے، سچی اور صادقانہ کوشش کا متقاضی ہے۔ (بین الاقوامی عدالت انصاف کی یکم اپریل 2011 کی رائے)؛ چنانچہ "مذاکرات" کے لئے سنجیدگی اور "خیر سگالی" کی ضرورت ہے۔ "مذاکرات" کا مطلب نہ تو "جدل و نزاع" ہے، نہ ہی "ڈکٹیشن" ہے، نہ "بھتہ گیری" اور "بلیک میلنگ" ہے اور نہ ہی "جبر و زبردستی"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ