بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ باخبر ایرانی ذرائع نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اس کے بیانات کو "سچ اور جھوٹ کا آمیزہ" اور مصنوعی فتح دکھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق، تقریباً سب پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، معاہدے کا متن "عہد کی پابندی بمقابلہ عہد کی پابندی" کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے، ایران میں حتمی منظوری کے مراحل میں ہے اور ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہؤا ہے۔ اس کے برعکس، ٹرمپ جو خود کو سمجھوتے سے باہر نکلنے سے قاصر پا رہا ہے، ایسی باتیں کر رہا ہے جو معاہدے کے متن کی دفعات سے متصادم ہیں، اور ساتھ ہی اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ابھی (Now) اسی وقت سے ناکہ بندی ختم کر رہا ہے۔ [اور وائٹ ہآؤس نے کہا ہے "Now" کا مطلب "ابھی اسی وقت" نہیں ہے!]۔
ٹرمپ کی طرف سے معاہدے کے مرکزی نکات کی تحریف
1۔ آبنائے ہرمز:
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پابند ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بغیر محصول (ٹول) لئے کھول دے، جبکہ معاہدے کے متن میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ ایران نے زور دے کر کہا ہے کہ ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد، وہ آبنائے کو اپنے طے شدہ انتظامات کے مطابق کھولے گا۔ یہ انتظامات جہازوں کی نگرانی اور معائنہ سے لے کر خدمات کی فراہمی اور سلامتی کی فراہمی تک پر محیط ہو سکتے ہیں، اور ایران ان انتظامات کی تیاری کر رہا ہے۔
ادھر وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ "ہم نے امریکی ڈکٹیشن لینے کا سلسلہ 47 سال قبل، بند کر دیا ہے اور کوئی بھی ہم سے نہیں کہا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔"
2۔ جوہری مواد کا خاتمہ:
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری مواد کو ختم یا تباہ کر دے گا۔ باخبر ذرائع نے زور دے کر کہا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت میں ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے، چنانچہ یہ دعویٰ اصولی طور پر بے بنیاد ہے۔ ایرانی حکام نے اس ٹرمپیہ (ٹرمپ کےدعوے) کو ٹرمپ کی آرزو قرار دیا ہے!
معاہدے کی کلیدی شقیں جنہیں ٹرمپ نے بزعم خود، نظر انداز کیا ہے
• 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی:
معاہدے کا سب سے اہم حصہ جس کا ٹرمپ نے تذکرہ نہیں کیا، وہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کی شرط ہے۔ معاہدے کے متن کے مطابق، یہ رقم فوراً ادا کی جانی چاہئے ورنہ ایران مذاکرات کے کسی بھی اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہو گا۔
• لبنان میں جنگ بندی:
دوسرا معاملہ، لبنان میں حزب اللہ کی رائے کے مطابق مکمل جنگ بندی قائم کرنا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق، صرف ان معاملات کے حل ہونے کی صورت میں ایران اگلے مرحلے میں اپنی سرخ خطوط کے مطابق تمام پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر بات چیت میں داخل ہو گا۔
ان بیانات کے ساتھ ہی، ایرانی حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ حتمی معاہدہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولوں اور سرخ لکیروں کی بنیاد پر اور امریکہ پر مکمل عدم اعتماد کے نقطہ نظر سے اس طرح ترتیب دیا جائے گا کہ اگر کوئی عہد شکنی ہو تو فوری جوابی کارروائی کی جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی امریکی-صہیونی ذریعے 'ایکسیوس' نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے جوہری پروگرام اور مواد کے بارے میں "زبانی وعدے" حاصل کئے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ