11 مئی 2026 - 22:27
حصۂ اول | واشنگٹن ایران میں شہ مات (Checkmate) ہو گیا، رابرٹ کیگن

جنگ میں امریکی حکمت عملیوں کی "شکست" نے حتیٰ کہ ممتاز امریکی تجزیہ کار رابرٹ کیگن (Robert Kagan) کو بھی اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ جو دنیا پر امریکی تسلط کے شدید حامیوں میں سے تھے، اب مانتے ہیں کہ ریاستہائے متحدہ ایران میں ایسی "فیصلہ کن شکست" سے دوچار ہؤا ہے جس کی تلافی کسی اور چیز سے نہیں ہو سکتی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رابرٹ کیگن ـ جو "نو قدامت پرستی (Neoconservatism)" کے بانیوں میں سے ہیں اور دیگر ممالک کے امور میں امریکی مداخلت کے حامی ہیں، ـ نے اٹلانٹک میگزین میں ایک مضمون میں امریکیوں کے لئے ایک تلخ حقیقت کو عیاں کر دیا ہے۔

اس مضمون میں انھوں نے لکھا ہے:

• واشنگٹن کی پچھلی شکستیں جیسے ویت نام کی جنگ میں شکست یا دوسری عالمی جنگ کے نقصانات نے دنیا میں امریکہ کی مجموعی حیثیت کو مستقل نقصان نہیں پہنچایا، لیکن ایران کی جنگ تمام سابقہ جنگوں سے مختلف ہے؛ امریکہ ایران میں "مکمل شکست کا شکار" ہؤا ہے۔

• ایران میں امریکہ کی شکست "ناقابل تلافی" اور "ناقابل چشم پوشی" ہے۔

• امریکہ کے لئے سابقہ حالت میں واپسی ممکن نہیں ہوگی، یہاں تک کہ کوئی حتمی فتح بھی امریکہ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی یا اس پر قابو نہیں پا سکتی۔

ایران جنگ اور بے بس امریکہ

• ایران جنگ نے دنیا کے سامنے "ناقابل اعتماد" اور "بے بس" امریکہ کی تصویر پیش کی۔

• امریکہ نے خود کو اس تنازع کر ختم کرنے اور اس سے نکلنے سے قاصر ملک کے طور پر دکھایا۔

آبنائے ہرمز نے ایران کو کلیدی کھلاڑی بنا دیا

• آبنائے ہرمز کے حالات جنگ سے پہلے کی سی شکل میں واپس نہیں جائیں گے۔

• اب ایران آبنائے پر کنٹرول کے ساتھ، خطے میں ایک کلیدی کھلاڑی اور دنیا کے کلیدی کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر ابھر چکا ہے۔

• موجودہ حالات کے ساتھ، "ایران کے اتحادیوں کے طور پر، چین اور روس کا کردار مضبوط ہوگا؛ امریکہ کا کردار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔"

ٹرمپ شہ مات ہو چکا ہے

• جس دلدل میں ٹرمپ پھنس گیا ہے، شطرنج کے اس بورڈ کی مانند ہے جہاں امریکہ شہ مات ہو چکا ہے، یا "شہ مات ہونے کے بالکل قریب ہے"۔

• ٹرمپ جو ابتدا میں ایران کے غیر مشروط طور پر سر تسلیم کرنے کا خواہاں تھا، اب امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی سے کہہ چکے ہیں کہ وہ جاکر "محض فتح کا اعلان کرنے اور ایران جنگ سے دستبرداری، کے نتائج کا جائزہ لیں۔"

• ٹرمپ کے پاس انتظار کرنے کے لئے زیادہ وقت نہیں ہے، کیونکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتیں 150 یا حتیٰ 200 ڈالر فی بیرل کی طرف بڑھ رہی ہیں، مہنگائی میں شدید اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر خوراک اور دیگر اشیاء کی قلت شروع ہونے والی ہے؛ ٹرمپ کو فوری حل کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha