اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صہیونی ذرائع نے کہا ہے کہ صہیونی فوج اور سیاسی
سرغنے باقیماندہ فرصت سے، حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لائے راستہ ہموار کرنے
کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
صہیونیوں کے سرکاری ٹی وی چینل نے روز جمعہ اپنے ایک تجزیئے میں کہا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو ـ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کاروائیوں کے آغاز کے بہانے (1) ـ غزہ میں حماس سے وابستہ القسام بریگیڈز کو شکست دینے کے حوالے سے "اپنے وہم" کے اعلان کی تیاری کررہا ہے! حالانکہ فلسطینی مجاہدین اسرائیلی فوجیوں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں، اور انہیں شکست دے رہے ہیں؛ اور صہیونی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ضاحی هانگبی (Tzachi Hanegbi) نے گذشتہ ہفتے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل جنگ کے تمام اہداف حاصل نہیں کر سکا ہے، اپنے قیدیوں کو رہا نہیں کروا سکا ہے، حماس کو نیست و نابود کرنے میں ناکام رہا ہے اور پناہ گزین ہونے والے اسرائیلی اپنے گھروں میں واپس نہیں جا سکے ہیں۔
واضح رہے کہ نہتے غزاوی عوام کے خلاف آٹھ مہینوں سے جاری جارحیت کے دوران 47000 سے زائد فلسطینیوں شہید اور لاپتہ جبکہ 85000 ہزار فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، شہداء، لاپتہ افراد اور زخمیوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے؛ تاہم صہیونی اپنے اعلان کردہ اہداف میں سے نصف کو بھی حاصل نہیں کر سکے ہیں اور دوسری طرف سے انہوں نے پوری دنیا کو ناراض کردیا ہے، اور بہت سے بین الاقوامی اداروں سے نکال باہر کئے گئے ہیں، اور صہیونیوں کے تئیں مغرب کی غیر مشروط حمایت، کی وجہ سے مغربی دنیا بھی لاحاصل رسوائیوں کا سامنا کر رہا ہے، چنانچہ یہ ان کی مجبوری ہے کہ کسی بہانے جنگ کے خاتمے کا اعلان کریں گوکہ نیتن یاہو اور اس کی کابینہ جنگ کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ ہیں اور اپنی جماعتی ناکامی سے بچنے کے لئے پوری غاصب ریاست کو اس جنگ پر قربان کر رہے ہیں۔
ادھر امریکی بلومبرگ نیوز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ "لگتا ہے کہ اسرائیل فوج غزہ میں اپنے اعلان کردہ ہدف ـ یعنی حماس کے خاتمے ـ سے پسپائی اختیار کرے گی، کیونکہ اس کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے"۔
بلومبرگ نیوز نے اسی حوالے سے غاصب صہیونی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگاری (Daniel Hagari) کے حوالے سے لکھا ہے کہ "حماس ایک فکر کا نام ہے، جو بھی یہ سوچے کہ ہم اس فکر کو اوجھل کر سکتے ہیں، وہ غلطی پر ہے"۔ بلومبرگ نے صہیونی فوجی ترجمان کے اس بیان کو "اسرائیل کے اعلان کردہ اہداف سے کھلی پسپائی" قرار دیا ہے۔
بلومبرگ نے 22 جون 2024ع کو اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ "لگتا ہے کہ اسرائیلی فوج جان گئی ہے کہ فلسطین کی مقاومتی تحریک کو ـ جس نے اس طویل عرصے میں اسرائیل کی وحشیانہ جنگی مشین کا سرگرمی سے مقابلہ کیا ہے ـ کسی صورت میں بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ حزب اللہ کے خلاف جنگ کے بارے میں دعوے اور وعدے بھی "وہم" سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ سبکدوش صہیونی جرنیل اسحاق برک نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جنگ کا اعلان صہیونی ریاست کے لئے اجتماعی خودکشی کا اعلان ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110