5 مئی 2026 - 16:37
حصۂ دوئم | ایران کی تزویراتی گہرائی کے سامنے ٹرمپ کا حماسی طیش، حماسی ذلت بن گیا

ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر اسلامیجمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا اور اس کو مبینہ طور پر مہاکاوی غصہ (Epic Fury) کا نام دیا لیکن واشنگٹن اور تل ابیب کے لئے تاریخی حماسی ذلت (Epic Humiliation) میں بدل گئی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ اور صہیونی ریاست 'کاغذ پر' یہ سوچ رہے تھے کہ وہ ایران کی حکومت کو دو دن میں ختم کر دیں گے، سرزمینِ ایران کو تقسیم کر دیں گے اور ایرانیوں کو پتھر کے زمانے میں لوٹا دیں گے۔ اندھے-بدمست ـ مگر مسلح ـ جوڑے (ٹرمپ ـ نیتن یاہو) نے اپنے اس جاگتے کے خواب (Daydreaming) کے دو ماہ بعد، آبنائے ہرمز کھولنے پر سودے بازی کا آپشن میز پر رکھ دیا ہے جو جنگ سے پہلے کھلا تھا۔ دو ماہ بعد، تاہم حالات، بالکل مختلف ہیں:

4- غیر متناسب (Asymmetric) کامیابی:

سرزمین ایران کے فرزندوں نے سڑک، میدان، سفارت کاری اور تین اداروں (انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ) میں خدمت کرتے ہوئے استقامت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف امریکہ کی خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے، بلکہ انہوں ںے دباؤ کے اہم ذرائع کو برقرار رکھتے ہوئے، جنگ پرست حکومتوں کو جنگ کے انتظام میں بے بس اور درماندہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ ایران کا سفید جھنڈا کم از کم دو شعبوں (جوہری اور علاقائی) میں دیکھنا چاہتا تھا تاکہ فتح کا ڈھول پیٹ سکے، لیکن اسے اس کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔ جنگ کی دھول جلدی یا بدیر تھم جائے گی، اور جنگ کا خاتمہ اس کی تباہی کو مزید نمایاں کرے گا جو خطے میں امریکہ کے اسٹراٹیجک اثاثوں کو لے ڈوبی ہے۔

یہ بیان ان دانشوروں کے نقطہ نظر کی تصدیق کرتا ہے جو ٹرمپ کے بر سرِ اقتدار آنے کو امریکہ کے زوال کے عمل کو تیز کرنے والا عنصر سمجھتے تھے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اس معرکے میں نہ صرف ایک روایتی فوجی طاقت سے بڑھ کر ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھرا بلکہ عوامی ارادے اور مزاحمتی فکر سے ابھرنے والی ایک حکومت کے طور پر ظاہر ہؤا۔ "آپریشن نام نہاد ایپک ریتھ (Epic Fury)" کی ناکامی نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کی سخت طاقت ایران کی "اسٹرٹیجک گہرائی" اور "غیر متناسب جنگ" کے مقابلے میں ناکارہ ہے۔

بہر حال شہید رہبر انقلاب امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) اور دوسرے ایرانی راہنماؤں نے نے پہلے بھی کئی بار کہا تھا کہ وہ کبھی جنگ شروع کرنے والے نہیں ہوں گے، لیکن وہ جارح کو سبق سکھانا خوب جانتے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ ایسی کسی بھی جارحانہ جنگ خاتمہ اپنی مرضی سے دشمن پر مسلط کر دیں۔ یہ معاملہ سرزمینِ ایران کی تاریخ، جغرافئے اور ثقافت میں جڑا ہؤا ہے، جو اپنی راتیں ایپسٹین جزیرے میں گذارنے والے ٹرمپ کی مہارتوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha