بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رابرٹ کیگن ـ جو "نو قدامت پرستی (Neoconservatism)" کے بانیوں میں سے ہیں اور دیگر ممالک کے امور میں امریکی مداخلت کے حامی ہیں، ـ نے اٹلانٹک میگزین میں ایک مضمون میں امریکیوں کے لئے ایک تلخ حقیقت کو عیاں کر دیا ہے۔
اس مضمون میں انھوں نے لکھا ہے:
ٹرمپ شہ مات ہو چکا ہے
• جس دلدل میں ٹرمپ پھنس گیا ہے، شطرنج کے اس بورڈ کی مانند ہے جہاں امریکہ شہ مات ہو چکا ہے، یا "شہ مات ہونے کے بالکل قریب ہے"۔
• ٹرمپ جو ابتدا میں ایران کے غیر مشروط طور پر سر تسلیم کرنے کا خواہاں تھا، اب امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی سے کہہ چکے ہیں کہ وہ جاکر "محض فتح کا اعلان کرنے اور ایران جنگ سے دستبرداری، کے نتائج کا جائزہ لیں۔"
• ٹرمپ کے پاس انتظار کرنے کے لئے زیادہ وقت نہیں ہے، کیونکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتیں 150 یا حتیٰ 200 ڈالر فی بیرل کی طرف بڑھ رہی ہیں، مہنگائی میں شدید اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر خوراک اور دیگر اشیاء کی قلت شروع ہونے والی ہے؛ ٹرمپ کو فوری حل کی ضرورت ہے۔
حصۂ دوئم:
• ٹرمپ کے پاس بلند بانگ دعوؤں اور لاتعداد بیانات کے، ایران کے مقابلے میں فتح کے لئے کچھ زیادہ ترپ کے پتے [trump cards] نہیں ہیں۔
• امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ جنگ میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور قتل و غارت کا سہارا لیا، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود "اسلامی جمہوریہ کے نظام کو تباہ کرنے یا ایران سے کم از کم مراعات بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔"
• اب ٹرمپ انتظامیہ کو [بے جا] توقع ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اس کو وہی کچھ عطا کرے گی جو وہ فوجی طاقت کے ذریعے حاصل نہ کرسکی؛ فوجی طاقت ناکام رہی۔
• ایران وہ ملک ہے جس نے پانچ ہفتوں کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے بعد بھی گھٹنے نہیں ٹیکے، "ممکن نہیں کہ وہ صرف معاشی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔"
دوبارہ جنگ بھی امریکہ کے نقصان میں ہے
• دوبارہ فوجی کارروائی بھی امریکہ کی زیادہ مدد نہیں کر سکتی، کیونکہ اگر یہ کارگر ہوتی تو 40 دنوں کے اندر اندر کارگر ہوتی۔
• مزید فوجی کارروائی ناگزیر طور پر ایران کو خلیج فارس کے ہمسایہ ممالک کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر مجبور کر دے گی۔
• "پارس جنوبی" گیس فیلڈ پر حملے کے امریکی حملے کے جواب میں ایران کی فوری انتقامی کارروائی اس حد تک مؤثر رہی ہے کہ ٹرمپ خلیج فارس کے ممالک کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات پر ایرانی حملوں سے ڈرتا ہے۔
• حتیٰ تک کہ اگر ٹرمپ مزید بمباری کے ذریعے ایران کی "تہذیب" کو تباہ کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل بھی کر لے، تب بھی ایران بہت سارے میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ [اس صورت میں ایران کی جوابی کاروائیاں بالکل غیر متوقعہ ہو سکتی ہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ کاروائیاں مغربی ایشیا کی حدود کو پار کرکے دور دور تک بھی پھیل جائیں؛ اور یہ بات ہے جس پر ایرانی کمانڈروں نے بار ہا زور دیا ہے: وجودی خطرہ = غیر متوقعہ رد عمل، جس کی نوعیت کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔]
• ایرانی فوج کے چند ہی کامیاب حملے ہی خطے کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو برسوں بلکہ شاید دہائیوں تک کے لئے مفلوج کر سکتے ہیں اور "دنیا اور ریاستہائے متحدہ کو ایک طویل مدتی معاشی بحران میں مبتلا کر سکتے ہیں۔"
امریکہ "کاغذی شیر" میں بن چکا ہے
• آبنائے میں موجودہ نئی صورت حال خطے اور عالمی سطح پر طاقت اور اثر و رسوخ کے توازن میں بھی ایک اہم تبدیلی لائے گی۔ [یہ وہ تبدیلی ہے جو آچکی ہے۔ یورپی حکام اور کچھ عرب ممالک کے رویوں سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔]
• خطے میں، ریاستہائے متحدہ نے خود کو "ایک کاغذی شیر" کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ معاملہ خلیج فارس کے عرب ممالک اور دیگر ممالک کو ایران کے ساتھ ملنے پر مجبور کر دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ