17 فروری 2026 - 22:53
امریکی جہازوں سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو انہیں سمندر کی تہہ تک پہنچا سکتا ہے، امام خامنہ ای

رہبر معظم انقلاب نے امریکیوں کی دھمکی اور اقدام یعنی ایران کی طرف جنگی جہاز بھیجنے کے بارے میں فرمایا: بحری جہاز یقیناً ایک خطرناک شیۓ ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو بحری جہاز کو [ڈبو کر] سمندر کی گہرائی میں پہنچا سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، انقلاب اسلامی کے رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے آج صبح تبریز اور مشرقی آذربائیجان کے ہزاروں عوام کے پرجوش استقبال میں ہونے والی ملاقات میں اس سال کو عجیب اور حادثات سے بھرپور سال قرار دیا اور "12 روزہ جنگ میں قوم کی فتح"، "دَیْ ماہ کے اہم اور سنگین فتنے کو خاک میں ملانا" اور "22 دَیْ (12 جنوری 2026) اور 22 بہمن (11 فروری 2025) کی دو عجیب و غریب ریلیوں میں عوام کی شاندار شرکت" کو ملت ایران کی طاقت و عظمت اور زندہ جاوید ہونے کی علامت قرار دیا اور "تیاری، ہوشیاری اور قومی اتحاد" کو قائم رکھنے اور تقویت پہنچانے پر زور دیتے ہوئے مزید فرمایا: "دشمنوں سے منسلک سرغنوں اور فساد پھیلانے والے عناصر کے سوا، فسادات کے تمام شہدا اور جاں بحق افراد خواہ وہ "امن اور معاشرے کے سکون کے محافظ فورسز" میں سے ہوں، خواہ "بے گناہ راہگیر" ہوں یا حتی کہ 'وہ فریب خوردہ افراد جو سادہ لوحی اور غصے کی وجہ سے فتنے میں شامل ہو گئے'، ہم ان سب کو اپنے فرزند سمجھتے ہیں اور ان سب کے غم میں سوگوار ہیں۔"

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے حکام کی جانب سے مسائل کے حل، افراط زر پر قابو پانے اور قومی کرنسی کی قدر کے تحفظ کے لئے دوہری کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور ایران پر حملے کے بارے میں امریکی عہدیداروں اور ذرائع ابلاغ کی بلاوجہ مداخلتوں اور گستاخانہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باتیں اور یہ کام ان کے بس سے باہر ہیں اور "جو فوج خود کو دنیا کی طاقتور ترین فوج سمجھتی ہے" اس کو ایسا زوردار طمانچہ لگ سکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ نہ سکے؛ [اور ہاں] اس کے ساتھ ساتھ، خطروں کا مقابلہ کرنے والے ذمہ دار ادارے ضروری تیاریاں کر چکے ہیں اور عوام کو سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے کام اور زندگی میں مصروف رہنا چاہئے۔"

آپ نے اس ملاقات میں ـ جو کہ تبریز کے عوام کے 29 بہمن 1356 ہجری شمسی (18 فروری 1978ع‍) کے فیصلہ کن قیام کی سالگرہ کے موقع پر انجام پائی؛ ـ "وقت شناسی [و موقع شناسی]، بروقت اقدام اور قربانی" کو اس قیام کی خصوصیات قرار دیا اور مختلف میدانوں میں آذربائیجان کی نوجوان نسل کی خوش آئند موجودگی کو سراہتے ہوئے فرمایا: "22 بہمن (11 فروری) کی ریلی میں تبریز کے عوام کی دوگنی شرکت سے عیاں ہؤا کہ تبریزی عوام پوری ایرانی قوم کی طرح زندہ و پائندہ، متحرک اور پرجوش ہیں اور ایسی قوم کبھی بھی سیاسی کھیلوں اور دشمن کے حربوں کا شکار نہیں ہوتی۔"

رہبر انقلاب نے فرمایا: "یہ سال (1404 ہجری شمسی) "ملت ایران کی عظمت، ارادے، پختہ عزم اور دیگر صلاحیتوں" کے کئی بار ظہور پذیر ہونے کا سال ہے؛ قوم نے بارہا طاقت کا مظاہرہ اور استقامت دکھا کر ایران کو سربلند اور سرخرو کر دیا ہے اور ذمہ دار اہلکار جو ان دنوں بیرونی دوروں پر جاتے ہیں، ان ممالک کے عہدیداروں سے ملاقاتوں میں قوم کی خاص اور نمایاں حیثیت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔"

آپ نے "صاحبان فکر و فکر و نظر اور تجزیہ کاروں" کی زبان سے دَیْ ماہ (جنوری 2026ع‍) کے فتنے کی نوعیت اور پہلوؤں کی تشریح کی  ضرورت  پر زور دیتے ہوئے فرمایا: "جو کچھ ہؤا، وہ محض کچھ مشتعل نوجوانوں اور بڑوں چھوٹوں کی حرکت اور بلوہ نہیں تھا بلکہ بلکہ یہ ایک "منصوبہ بند کودتا (Coup-d'état)" تھا جس کو ملت ایران نے پیروں تلے روند ڈالا۔"

آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اس حقیقت کی تشریح کرتے ہوئے مزید کہا: "امریکہ اور صہیونی ریاست کی معلوماتی اور جاسوسی ایجنسیوں نے کچھ دیگر ممالک کی معلوماتی ایجنسیوں کی مدد سے کافی عرصہ پہلے کچھ شرپسند یا شرپسندی کی استعداد رکھنے والوں کو بھرتی کر لیا اور انہیں بیرون ملک تربیت، پیسہ اور اسلحہ دیا اور تخریب کاری اور فوجی و سرکاری مراکز پر حملے کے لئے ملک کے اندر بھیجا تاکہ مناسب موقع پر میدان میں آئیں اور انہیں یہ موقع دَیْ ماہ (جنوری 2026ع‍) کے وسط میں مل گیا۔

رہبر انقلاب نے فرمایا: "فتنے کے سرغنوں اور پیادوں کا ایک قدم یہ تھا کہ انہوں نے کچھ ناتجربہ کار اور سادہ لوح افراد کو متاثر کردیا اور مشتعل کر دیا؛ تربیت یافتہ عناصر ایسے افراد کو آگے بڑھا کر لے آئے اور خود بھی مختلف ہتھیاروں اور "پرتشدد اور بے رحمانہ اقدامات" پر مبنی پالیسی لے کر میدان میں آگئے اور [لوگوں کو] داعش کی طرح عجیب و غریب تشدد کے ساتھ "جلایا، قتل کیا اور تخریب کاری کی"۔

آپ نے فرمایا: "ان اقدامات کا بنیادی مقصد نظام کی بنیادوں کو متزلزل کرنا تھا؛ البتہ پولیس، بسیج، سپاہ پاسداران اور بڑی تعداد میں عوام بلوائیوں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور "کودتا (بغاوت]" اپنی تمام تر تیاریوں اور بھاری اخراجات کے باوجود واضح طور پر ناکام ہو گیا اور ایرانی قوم اس میدان میں فتحیاب ہوئی۔"

آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے "22 دَیْ (12 جنوری) اور 22 بہمن (11 فروری) کی عجیب و غریب عوامی ریلیوں" کو "اللہ کی نشانیوں" میں شمار کیا اور زور دے کر فرمایا: "ہماری عزیز قوم، جو اس طرح دشمن کی بدخواہیوں اور سازشوں پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، اسے اس واضح الہی توفیق و کامیابی کو 'تیاری، چوکسی اور قومی اتحاد' کے ساتھ محفوظ رکھنا چاہئے۔"

انھوں نے فسادات میں بہائے گئے خون کے بارے میں مزید فرمایا: "جو لوگ فتنے کے سرغنے تھے اور بغاوت اور کودتا کرنے والوں میں شامل تھے، وہ واصل جہنم ہو گئے اور ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے؛ لیکن ہم تین قسم کے دوسرے جاں بحق افراد کو اپنے بچے سمجھتے ہیں اور ان سب کے غم میں سوگوار ہیں۔"

آپ نے جاں بحق ہونے والے افراد کی پہلی قسم یعنی "پولیس، بسیج، سپاہ پاسداران اور ان کے ساتھ شامل عوام" کو امن، معاشرے کے سکون اور سلامتی اور نظام کے اعلیٰ درجے کے شہدا، قرار دیا اور مزید فرمایا: "جاں بحق ہونے والوں میں شامل دوسری قسم کے افراد ـ جو راہگیر اور بے گناہ عوام تھے ـ بھی شہید ہیں؛ کیونکہ وہ دشمن کے برپا کردہ فتنے میں گولی لگنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔"

رہبر انقلاب نے مزید فرمایا: "جاں بحق افراد کی تیسری قسم 'دھوکے میں آنے والے وہ افراد ہیں جو بھولے پن اور سادہ لوحی کی بنا پر بلوائیوں اور فتنہ گرں کی صفوں میں شامل ہوئے'؛ وہ بھی ہم میں سے ہیں اور ہمارے بچے ہیں اور ہم ان کے غم میں بھی سوگوار ہیں اور ہم تمام جاں بحق افراد کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار ہیں۔"
آپ نے فرمایا: "ان میں سے کچھ فریب خوردہ افراد ـ جو نہ تو گرفتار ہوئے اور نہ ہی قید کئے گئے، ـ نے مجھے خط لکھ کر اپنی ندامت اور پشیمانی کا اظہار کیا اور مجھ سے معافی طلب کی۔"
امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا: "امریکیوں کا اعتراف ہے کہ دہشت گرد ٹولے داعش کو انہوں نے خود ہی تشکیل دیا ہے، وہ والی داعش اس وقت کم و بیش ختم ہو چکی ہے لیکن یہ "نئی داعشیں" ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں تمام ذمہ داروں اور عوام کو چوکنا رہنا چاہئے؛ خصوصاً نوجوان متوجہ اور ہوشیار رہیں کہ کون ان سے کیا بات کر رہا ہے اور کیا مشورہ دے رہا ہے۔"
رہبر انقلاب نے زور دے کر فرمایا: "عوام فسادپھیلانے والے مرکزی گروہ کے تعاقب اور سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں اور عدالتی و سیکورٹی اداروں پر فرض ہے کہ ان پر مقدمہ چلا کر انہیں سزا دیں اور جو لوگ "بات، تجزیے اور عمل" کے ذریعے دشمن کا ساتھ دے رہے ہیں، ان کے خلاف منصفانہ عدالتی کارروائی کی جائے۔"

آپ نے فرمایا: "غالب امکان یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے بارے میں امریکہ کا اگلا منصوبہ بھی اسی انداز اور ایسے ہی کاموں پر مشتمل ہو گا؛ البتہ بلا شبہ، اللہ کے فضل سے اور عوام کی جوکسی اور زندہ و پائندہ ہونے کے بدولت، اس قسم کی کوئی بھی حرکت عوام کے سخت ردعمل سے نابود ہو جائے گی۔
رہبر انقلاب نے مزید فرمایا: "امریکہ کو بے شمار اقتصادی، سیاسی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے اور یہ 'امریکی سلطنت' کے 'زوال' اور 'شکست و ریخت' کے عمل کی واضح نشانیاں ہیں؛ امریکہ کے ساتھ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایران کو نگلنا چاہتا ہے لیکن ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ ان کے اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔"
آپ نے امریکی صدر کی دھمکی آمیز باتوں کو ملت ایران پر تسلط پانے کی امریکی خواہش کا مظہر قرار دیا اور فرمایا: "ملت ایران اپنے اسلامی اور شیعی اسباق سے بخوبی واقف ہے اور جانتی ہے کہ اس کو کس وقت کیا کرنا ہے"۔ 
آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے امام حسین (علیہ السلام) کے اس تاریخی جملے کی طرف اشارہ کیا کہ "مِثلِي لَا يُبَايِعُ مِثلَهُ؛ میرے جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کیا کرتا" اور فرمایا: "ملت ایران بھی کہتی ہے کہ ہم جیسی قوم اپنی اس تہذیب، پس منظر اور عالی معارف و علوم کے ساتھ امریکہ پر حکمراں بدعمل اور بدعنوان افراد جیسے لوگوں کی بیعت نہیں کرے گی۔"
آپ نے نے 'بدنام جزیرے [ایپسٹین کے جزیرہ فحشاء]" کے معاملے میں حیرت انگیز برائیوں کے آشکار ہونے کو مغربی تہذیب اور لبرل جمہوریت کی حقیقت کا مظہر قرار دیا اور فرمایا: "مغربی رہنماؤں کی بدعنوانیوں کے بارے میں ہم نے جو کچھ بھی سنا تھا وہ ایک طرف، اس جزیرے کا معاملہ بالکل دوسری طرف۔ یقیناً یہ ان کی بے شمار برائیوں میں سے محض ایک نمونہ ہے اور جس طرح بھی تھا یہ معاملہ پوشیدہ تھا مگر کھل گیا، اسی طرح بہت سے دوسرے معاملات بھی ہیں جو بعد میں کھل کر سامنے آئیں گے۔"

رہبر انقلاب نے اسلامی جمہوریہ ایران کے کے خلاف امریکی سرکاری عہدیداروں اور امریکہ میں فعال صہیونی میڈیا کی تشہیری مہم چھائے ہوئے مکمل دھمکی آمیز ماحول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "آپ تبریز کے عوام اور ملت ایران نے 22 بہمن (11 فروری) کو ان کی دھمکیوں اور بے ہودہ اور بے معنی باتوں کا جواب دے دیا اور واضح کیا کہ دھمکی نہ صرف بے اثر ہے بلکہ قوم کے جذبے کو مزید تقویت بخشتی ہے۔"

آپ نے فرمایا: "امریکی خود یہ کام اور یہ دھمکیاں ـ جنگ کی دھمکیاں دینے کے باوجود، بخوبی جانتے ہیں وہ اپنے سیاسی، اقتصادی مسائل اور اپنی بین الاقوامی ساکھ کو درپیش مسائل کی وجہ سے، ان کے بس میں نہیں ہیں۔"

آپ نے فرمایا: "وہ جانتے ہیں کہ اگر ان سے غلطی ہو گئی تو کیا چیز ان کا انتظار کر رہی ہے۔"

آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے نامعقولیت بے منطقی کو امریکہ کی فاسد، بدعنوان اور ظالم سلطنت کے زوال کی دیگر نشانیاں قرار دیا، اور فرمایا: "ان کی بے منطقی کی مثال، ہتھیاروں کے مسئلے سمیت ہمارے اہم معاملات میں مداخلت ہے۔"

آپ نے 'قوم کے تسدیدی ہتھیاروں سے لیس ہونے" کو ضروری اور واجب قرار دیا اور فرمایا: "کوئی بھی ملک تسدیدی ہتھیاروں کے بغیر دشمن کے پیروں تلے روندا جاتا ہے لیکن امریکی، ہتھیاروں کے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس فلاں قسم کے یا فلاں رینج کے میزائل نہیں ہونے چاہئیں! حالانکہ یہ معاملہ ملت ایران سے متعلق ہے اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔"

رہبر انقلاب نے ملک کے انتظام اور علاج، زراعت اور توانائی کے استعمال کے لئے ایران کی پُرامن ایٹمی صنعت سے بہرہ ور ہونے کے معاملے میں امریکی مداخلت کو ان کی ایک اور بے منطقی اور نامعقولیت قرار دیا اور امریکیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: "یہ معاملہ ملت ایران سے متعلق ہے۔ تمہارا اس سے کیا تعلق؟"

آپ نے عوام کے نعرے "ایٹمی توانائی ہمارا مسلم حق ہے" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "ایٹمی تنصیبات اور افزودگی سے استفادہ کرن کا حق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معاہدوں اور ضوابط میں بھی تمام ممالک کے لئے تسلیم شدہ ہے اور امریکیوں کا قومی حقوق میں مداخلت، ان کے آج اور کل کے عہدیداروں کی بے ترتیب اور نامنظم سوچ کا مظہر ہے۔"

جاری ہے ۔۔۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha