بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ 28 فروری 2026ع کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی تاریخ میں ایک سنگ میل رقم کیا جس نے پچھلی دہائیوں کے تمام مفروضوں کو چیلنج کر دیا۔ واشنگٹن اور تل ابیب برسوں سے عرب ممالک کی سلامتی کو اسرائیل کی سیکورٹی سے جوڑنے اور ایران کے خلاف ایک متحدہ صہیونی-عرب محاذ بنانے کے لئے کوشاں تھے؛ لیکن جنگ کی آگ بھڑک اٹھتے ہی ثابت ہو گیا کہ یہ "محور" (محاذ) نہ صرف سیکیورٹی کا ضامن نہیں ہے، بلکہ خود خلیج فارس کے ممالک کے وجود کے لئے شدید خطرے کا ذریعہ بن گیا ہے۔۔۔۔
کثیرالجہتی دنیا کی طرف
اس اسٹریٹجک تعطل کے جواب میں، خلیج فارس کے کچھ ممالک نے "دفاعی خودمختاری" کے نام سے ایک نیا نمونہ پیش کیا ہے:
اسٹراٹیجک شراکت داروں کو متنوع بنانا:
چین، ترکیہ، جنوبی کوریا اور یورپی ٹیکنالوجیز جیسے دوسرے شراکت داروں کی طرف رجوع کرنا؛ جو مثال کے طور پر چین سے رجوع کرنے کے معاملے میں واشنگٹن کی سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے مترادف ہے اور امریکی اس کی شدید مخالفت کریں گے۔
گوکہ سعودی عرب (SAMI) اور متحدہ عرب امارات (Edge) جیسے ممالک اپنی فوجی صنعتوں کو مقامی بنانے کی بات کر رہے ہیں، اس راستے میں انہیں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تزویراتی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ فوجی صنعتوں کو حقیقی انداز سے مقامیانے کا مسئلہ، 'خلیج فارس کے ممالک کے لئے' ہمیشہ، واشنگٹن کی سرخ لکیروں میں سے ایک رہا ہے؛ کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی اسلحہ فیکٹریوں کی سرگرمیوں کا تسلسل ان ممالک کی سالانہ اربوں ڈالر کی خریداریوں سے منسلک ہے۔
دوسری طرف، متحدہ عرب امارات جیسے ملک کی طرف سے دفاعی صنعتوں کے مقامیانے کا دعویٰ، ـ جسے کچھ لوگ خطے کا "دوسرا اسرائیل" قرار دیتے ہیں اور جس کا بنیادی ڈھانچہ شدت سے، امریکہ اور اسرائیل سے ٹیکنالوجی کی درآمدات پر منحصر ہے، ـ واضح تضاد کا شکار ہے۔
یہ جنگ جو ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو گرانے اور تیل کے وسائل پر قبضہ حاصل کرنے کے مقصد سے شروع کی تھی، روز بروز نئے اسٹراٹیجک پہلوؤں اور نت نئے نتائج کو منظر عام پر لا رہی ہے۔ جن میں سے ایک "خلیج فارس میں نئی ترتیب (یا نظام) کا قیام" ہے۔
خلیج فارس میں نئی ترتیب کے قیام سے ـ جس میں ایران اہم کردار ادا کرتا ہے، ـ خطے کے ممالک کو اس اسٹراٹیجک سمجھ بوجھ تک پہنچنا ہوگا کہ پائیدار سلامتی صرف "اندر سے پیدا ہونے والے تحفظ" اور "متوازن سفارت کاری" پر منحصر ہے۔
اس دوران، "معاہدہ ابراہیم" جیسے معاہدے، ـ جو عرب ممالک کی سلامتی کے اسرائیل سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، ایک وہم سے زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو پائے؛ کیونکہ ایک ایسی ریاست جو خود اپنے دفاع سے عاجز و بے بس ہو، کبھی بھی دوسروں کے دفاع اور حمایت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
بہرحال، ایران کے خلاف حالیہ امریکی-اسرائیلی جنگ کو مبینہ "محاذ ابراہیم" کا قبل از وقت خاتمہ شمار کرنا چاہئے۔ اس محور کا خاتمہ ایک ایسے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے جس میں خلیج فارس کے ممالک ایک آزاد علاقائی ترتیب کے خواہاں ہوں گے؛ ایک ایسا نظام جس میں نہ تو وہ اسرائیل کی غیر حقیقی اور عظیم تر عزائم کے پیچھے چلیں گس اور نہ ہی خطے میں امریکی عزائم کی بھینٹ چڑھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ