بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ ہتھیار 40 روزہ جنگ کے دوران صہیو-امریکی دشمن سے بطور غنیمت حاصل کئے گئے ہیں۔ / مغربی ذرائع نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
15 قسم کے بھاری امریکی میزائل ہرمزگان میں مسلح افواج کے ہاتھ لگے ہیں، جو عام طور پر GBU،BLU اور دوسری اقسام سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنا کر ریورس انجنیئرنگ کے لئے فنی اور تحقیقاتی اداروں میں منتقل کیا گیا ہے۔ کچھ میزائلوں کو تباہ بھی کیا گیا۔
ہاتھ آنے والے ہتھیاروں میں بنکرشکن میزائل، کروز میزائل، IAI Harop، لوکاس، ایم کیو-9 اور صہیونی ساختہ ہرمس-900 ڈرون شامل ہیں۔ یہ ہتھیار صحیح و سالم ہیں، ناکارہ بنائے جاچکے ہیں اور ان پر ریورس انجنیئرنگ کے حوالے سے فنی تحقیق ہو رہی ہے۔



امریکیوں نے ایرانی سائنسدانوں کے ہاتھوں اپنے جدید ہتھیاروں کی ممکنہ ریورس انجنیئرنگ پر تشویش ظاہر کی ہے جو ان کے بقول دو طرفہ تقابل میں توازن کے ایران کے حق میں بگاڑ سکتی ہے! اور اگر یہ ملک حملہ نہ کرتا تو یہ ہتھیار بھی اتنی آسانی سے ایرانیوں کے ہاتھ نہ لگتے!
قبل ازیں سنہ 2014ع میں ایران نے امریکیوں کا ایک RQ170 ڈرون اتارا تھا جس کو ڈی کوڈ کیا گیا اور ایرانی انجنیئروں نے اس کی کوئی کاپیاں تیار کرکے اپنے جنگی تنظیم میں شامل کر لیا۔

اب ٹوماہاک، JASSM، GBU-57 کی ریورس انجنیئرنگ بھی بہت جلد شروع ہوگی یا شاید شروع ہوچکی ہوگی اور ان کے مقامی نمونےبہت جلد تیار کئے جائیں گے۔
گوکہ ایرانیوں نے اپنے مقامی ساختہ ہتھیاروں سے 40 روزہ جنگ میں دشمن کے دانت کھٹے کر لئے ہیں اور ان ہتھیاروں کی ریورس انجنیئرنگ سے ان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ مسئلہ امریکیوں کے لئے یقینا باعث تشویش ہوگا لیکن اس سے بھی زیادہ فکرمندی کی بات یہ ہے کہ اگر روس اور چین بھی اس پراجیکٹ میں شامل ہونا چاہیں تو یہ ٹیکنالوجی ماسکو اور بیجنگ بھی منتقل ہو سکتی ہے، اور وہ بھی گائیڈنگ، الیکٹرانک وارفیئر اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجیوں سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔
گوکہ ان ہتھیاروں کی دوبارہ پیداوار آسان نہیں ہیں لیکن ایرانی سائنسدانوں کو بھی کم نہیں سمجھنا چاہئے جنہوں نے اس سے پہلے اپنی مہارت کا لوہا منوا لیا ہے۔ چنانچہ ان ہتھیاروں کے ایرانی مقامی نسخے عنقریب تیار ہوجائیں گے اوریوں ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی ٹیکنالوجی کا فاصلہ بہت کم ہوجائے گا۔
آپ کا تبصرہ