ابنا: امریکہ کی جانب سے اس خبر کو چھپانے اور جھٹلانے کی وجہ یہ تھی کہ 44 ارب ڈالر مالیت کے پروجیکٹ اور ان کی نصف صدی کی تحقیقات کا نتیجہ، ایران کے پاس تھا۔امریکی حکام منجملہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور صد بارک اوما نے مجبورا اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا ایک ڈرون لاپتہ ہوگیا ہے اور اس کے بعد تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کہ ان کا ڈرون واپس کیا جائے۔اسلامی جمہوریہ ایران نے امریک مطالبے کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا اور یہ اعلان کیا کہ اس کے ماہرین اس طیارے کو ڈی کوڈ کرنےمیں مصروف ہیں۔ آر کیو 170 امریکہ کا بغیر پائلٹ کا ایسا جاسوس طیارہ ہے جو سطح زمین سے پندرہ کلومیٹر کی اونچائی پر راڈار پر نظر آئے بغیر جاسوسی کا کام انجام دیتا ہے۔
اس کی ڈیزائننگ اور تیاری کے بارے میں تفصیلات میڈیا میں موجود نہیں تھیں، شاید اس کے بارے میں واحد چیز جو لوگ جانتے تھے یہ تھی کہ اس کی ظاہری شکل دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں کے ایک پرانے ناکام منصوبے ایچ او 229 سے بہت ملتی جلتی تھی۔ آر کیو ون امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے بنایا ہے۔ یہ وہی مشہور امریکی کمپنی ہے جس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پہلے جیٹ جنگی جہاز کی تیاری کے وقت سے امریکی فوج کے تقریبا تمام انتہائی خفیہ طیاروں سے لے کر ایف 117 اور یو 2 طیارے بنائے ہیں۔
آر کیو ون کوڈ اس جاسوس طیارے کا نام ہے جو اس کے غیرمسلح ہونے کی علامت ہے۔ اس کے پروں کا درمیانی فاصلہ بیس میٹر اور وزن تقریبا تین ہزار پانچ سو کلوگرام ہے۔ فنی لحاظ سے آر کیو 170 کو دنیا کا جدید ترین البتہ انتہائی خفیہ جاسوس طیارہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن کمپنی نے اس جاسوس طیارے کی ڈیزائننگ میں ہر ممکن ظرافت و مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بات کو طیارے کے بغیر کور کے ایئر والوز سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طیارے کے انجن کا معمہ بھی ابھی تک حل طلب ہے۔اس سے ملتے جلتے دوسرے جاسوس طیاروں کے تجربات کے پیش نظر اور اس کی ممکنہ رفتار کو مدنظر رکھے بغیر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ طیارہ تقریبا پچاس ہزار فٹ یا پندرہ ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتا ہوگا۔
آر کیو 170 کو موجودہ دوسرے جاسوس طیاروں کی مانند سیٹلائٹ کے ذریعے کنٹرول کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گيا ہے۔ اس طیارے کا الیکٹرونک اور اصلی سسٹم پروں کے اندر لگایا ہے لیکن اس کی حقیقت و ماہیت کا اندازہ صرف طیارے کی ظاہری شکل دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ طیارہ یقینا الیکٹرو آپٹیکل ٹی وی سسٹم کا استعمال کرتا ہے جس کا سیٹلائٹ سے رابطہ ہوتا ہے اور یہ 256 بائٹ پاس ورڈ کا استعمال کرتا ہے۔ اس قسم کے رابطوں کی دس سے گيارہ عدد کے کوڈ سے حفاظت کی جاتی ہے جو مواصلات کی دنیا میں قابل ذکر سکیورٹی کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔
اس کلاس اور کیٹگری کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے عام طور پر آپریشن کے تمام مراحل پہلے سے دیے گئے گرافیک نقشوں کے مطابق آٹومیٹک طریقے سے انجام دیتے ہیں اور دریافت شدہ معلومات اور تصاویر اسی لمحے کنٹرول روم منتقل کرتے ہیں۔ پہلے سے دیے گئے ان نقشوں کو سیٹلائٹ کے ساتھ جاسوس طیارے کا رابطہ منقطع ہونے کی صورت خودکار طریقے سے اپنے اڈے پر واپس پہنچنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ہر پرواز سے پہلے آپریشن کے علاقے کا نقشہ طیارے کے کمپیوٹر میں فیڈ کر دیا جاتا ہے۔ اس قسم کے طیارے اپنے جیٹ انجن اور ایئر والوز کی بنا پر بےآواز ہوتے ہیں اور زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی بنا پر دکھائی بھی نہیں دیتے ہیں۔
ان تمام خوبیوں نے پائلٹ والے طیاروں کی جگہ اس قسم کے بغیر پائلٹ کے طیاروں کے استعمال کو زیادہ کارآمد بنا دیا ہے۔ بہرحال سپاہ پاسداران کے ایک اعلی کمانڈر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ماہرین نے سے امریکہ کے ڈرون آر کیو ایک سو ستر کو ڈی کوڈ کرلیا ہے۔ سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈر رئير ایڈمیرل علی فدوی نے کہا کہ امریکی ڈرون کو ڈی کوڈ کرنے سے اس کےآپریشن اور اسے جو ذمہ داریاں سونپی گئي تھیں ان کی تفصیلات معلوم ہوچکی ہیں۔
رئیر ایڈ میرل علی فدوی نے کہا کہ ہم نے امریکی ڈرون کو ڈی کوڈ کرکے اسکی میموری، پروٹوکول، اور یہ کہ اس کی کتنی مرتبہ اور کہاں کہاں مرمت کی کی گئی ہے نیز پروازوں کی معلومات حاصل کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا ان تفصیلات میں اس ڈرون کو القاعدہ کے سرغنے ا سامہ بن لادن کی جاسوسی کرنے کے لئے مامور کیا گیا تھا اس کا ڈیٹا بھی ہم نے حاصل کرلیا ہے۔ سپاہ پاسداران کے ایرو اسپیس ڈویژن کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر ہم اس ڈرون کے بارے میں زیادہ تفصیلات بیان نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اب ایران کے لئے قومی سرمایہ محسوب ہوتا ہے، لہذا ہم اس کے تمام اسرار و رموز بیان نہیں کر سکتے، لیکن چونکہ امریکہ کا دعوی تھا کہ ایران اس کے ڈیٹا پر دسترسی نہیں پاسکتا، صرف امریکہ کو یہ بتانے کے لئے کہ ایرانی ماہرین کو مکمل عبور ہے ہم نے 4 کوڈز کا انتخاب کیا ہے جس امریکہ پر واضح ہوجائے گا کہ ہم نے طیارے کو مکمل طور پر ڈی کوڈ کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حتی یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ RQ-170 کچھ فنی نقائص کی بنا پر اکتوبر 2010ء میں کلیفورنیا میں تھا پھر اسکو ٹھیک کرنے اور فلائنگ ٹیسٹ کے بعد نومبر 2010ء میں قندھار بھیجا گیا اور یہ وہاں پرواز کرتا رہا لیکن وہاں بھی اس میں کچھ فنی مشکلات تھیں کہ جنکو دور نہیں کیا جا سکا ۔ جنرل حاجی زادہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا اس ڈرون کو دوبارہ دسمبر 2010ء میں اسکے فنی مشکلات اور نقائص کو دور کرنے کے لئے دوبارہ لاس اینجلس لے جایا گیا، اور اسکو ٹھیک کرنے اور اپ ڈیٹ کرنے اور ٹیسٹ پروازیں کرنے کے بعد دوبارہ قندھار لے جایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی معلومات میں اضافے کے لئے بتاتا چلوں کہ ہم نے ڈرون کی تمام اطلاعات اور سافٹ وئیر کو ڈی کوڈ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے قتل سے دو ہفتے پہلے عین اسی مقام پر جہاں مبینہ طور پراسامہ مارا گیا، اس ڈرون نے پرواز کی ہے۔ بہرحال ایران کی جانب سے امریکہ کا ڈورن طیارہ شکار کیے جانےکے اور اسے ڈی کوڈ کئے جانے کے اعلان کے بعد اب امریکہ کی اس میدان میں ٹیکنالوجی کی برتری کا بھرم ٹوٹ گیا ہے اور امریکہ کے 44 ارب ڈالر مالیت کے اس مہنگے پروجیکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گيا ہے۔ .......
/169