بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || صاحب مال و ثروت خصوصی طیاروں میں بیٹھ کر اس نجی جزیرے میں آیا کرتے تھے۔
جزیرے کا نام جزیرۂ لٹل سینٹ جیمز (Island of Little St. James) نام تھا جس کا مالک اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ایک خفیہ اہلکار ـبظاہر ایک بڑے سرمایہ دار اور رو سیاہ پیڈوفائل ـ جیفری ایپسٹین تھا جسے 2019ع میں ایک امریکی جیل میں مشکوک انداز سے قتل کیا گیا۔
یہ وہ جزیرہ تھا جہاں ـ دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم ممالک کے فریب خوردہ انسانوں، قانونی اداروں اور ذرائع ابلاغ کی نظروں سے دور ـ بظاہر معزز مہمانوں کو عیاشی اور غیر اخلاقی بدکاریوں کا امکان فراہم کیا جاتا تھا۔
اس جزیرے کی شیطانی ضیافتوں کا نشانہ بننے والی چھوٹی یا پھر قانونی عمر سے کم عمرکی بچیاں تھی جنہیں ایپسٹین کا ہیومین اسمگلنگ نیٹ ورک اغوا کرکے جزیرے میں پہنچا دیا کرتا تھا۔ یہ بچیاں ان ہی مہمانوں کو پیش کی جاتی تھیں اور غیر محسوس طریقے سے ان کی ویڈیوز ریکارڈ کی جاتی تھیں۔
ایپسٹین جزیرے کا راز فاش ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا اور جیل میں مر گیا ـ یعنی قتل کیا گیا ـ جس کے بعد اب تک ـ تین عشروں پر محیط اس طویل قصے ـ کے سلسلے میں "اپیسٹین فائلز" کے عنوان سے 30 لاکھ فائلز شائع ہوئی ہیں جن میں ٹرمپ کی طفل خوری کی ویڈیو بھی شامل ہے۔ جسے زیادتی کے بعد قتل کرکے بھونا گیا تھا۔ یہ فائل آج بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی ـ موساد ـ کے قبضے میں ہے؛ کیونکہ ایپسٹین موساد کا ملازم تھا۔ اس نے یہ جزیرہ عیاشی کے نام پر، دنیا کے حکمرانوں اور دیگر افراد سے بلیک میلنگ کا مرکز بنایا تھا تاکہ موساد اور اسرائیل ضرورت کے وقت انہیں بلیک میل کر سکے۔
موساد نے نہ صرف جزیرہ ایپسٹین میں ممالک کے اہلکاروں اور امریکہ، یورپ اور عرب ریاستوں کے حکام کی بدکاریوں کی دستاویزی فلموں کے سہارے غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور ایران کے خلاف جنگوں کے پورے اخراجات بلیک میل ہونے والوں سے پورے کروائے ہیں بلکہ ان سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر انہوں نے صہیونی ریاست کے مظالم اور جرائم کے خلاف ایک لفظ بھی بولا، ان کے کرتوتوں کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ اور اب دنیا نے ایپسٹین جزیرے کی ضیافتوں میں حاضر ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے جرائم پر آنکھیں بند کر لی ہیں۔
یہاں تک کہ اب امریکی اور یورپی تجزیہ کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹرمپ ـ جو کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا اور ایران کے خلاف جنگ کا شوقین نہیں تھا ـ نیتن یاہو کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر اس جنگ میں کود گیا ہے۔ وہ خوفزہ ہے کہ کہیں نیتن یاہو اس کی طفل خوری کی ویڈیو نشر نہ کردے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ