امریکی ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ اراکین کے ایک گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک خط میں، صہیونی ریاست کے خفیہ ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے سلسلے ميں واشنگٹن کی چھ دہائیوں پر محیط خاموشی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔/ کسی تجزیہ کار نے کہا تھا کہ جب تک ٹرمپ کی طفل خوری کی ویڈیو نیتن یاہو کے پاس ہوگی، ٹرمپ نیتن یاہو کے مد مقابل میاؤں میاؤں ہی کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مشہور امریکی ٹی وی میزبان، ٹرمپ کی انتخابی مہم کا ابلاغیاتی ستون، اور MAGA تحریک کی پشت پناہ، ٹکر کارلسن نے کہا: دنیا میں اسرائیل کے زیر قبضہ کوئی علاقہ نشوونما اور بالیدگی کا منہ نہیں دیکھ سکا ہے، اور امریکہ بھی ان ہی علاقوں میں سے ایک ہے۔
یہ ماجرا تین عشرے قبل شروع ہؤا، ایک جزیرے سے جسے جزیرۂ لٹل سینٹ جیمز (Island of Little St. James) کہا جاتا ہے وہی جزیرہ جہاں کم عمر بچیوں کا استحصال کیا جاتا تھا، اوربعض بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا جاتا تھا اور ان کا گوشت دنیا بھر سے آئے ہوئے نام نہاد راہنماؤں! کو کھلایا جاتا تھا۔ ان مشہور روسیاہوں میں اکثر امریکی سیاستدان ـ منجملہ ٹرمپ ـ اور کچھ عرب ممالک کے مبینہ راہنما، امراء، فنکار حتی کہ مغربی سائنسدان بھی شامل تھے۔ ویڈیو دیکھئے:
پروفیسر جیفری ساکس کہتے ہیں: ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے معاہدے کو پھاڑ دیا۔ ٹرمپ نے اسرائیلی ریاست کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا۔ اسرائیلی ریاست اس معاہدے کو توڑنے کی خواہاں تھی مگر کیوں؟ کیونکہ مسئلہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کا نہیں تھا، بلکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے علاقائی تسلط (ہالادستی) کو برقرار رکھنے کا تھا۔ اسرائیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کے نظام کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔