یہ ماجرا تین عشرے قبل شروع ہؤا، ایک جزیرے سے جسے جزیرۂ لٹل سینٹ جیمز (Island of Little St. James) کہا جاتا ہے وہی جزیرہ جہاں کم عمر بچیوں کا استحصال کیا جاتا تھا، اوربعض بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا جاتا تھا اور ان کا گوشت دنیا بھر سے آئے ہوئے نام نہاد راہنماؤں! کو کھلایا جاتا تھا۔ ان مشہور روسیاہوں میں اکثر امریکی سیاستدان ـ منجملہ ٹرمپ ـ اور کچھ عرب ممالک کے مبینہ راہنما، امراء، فنکار حتی کہ مغربی سائنسدان بھی شامل تھے۔ ویڈیو دیکھئے:
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یہ ایک تصویر ہے جو ورچوئل اسپیس اور سوشل میڈیا میں لاکھوں کروڑوں مرتبہ دیکھی گئی ہے، تصویر میں ایک ایرانی میزائل کے وارہیڈ پر لکھا گیا ہے "جزیرہ اپیسٹین کا شکار ہونے والوں کی یاد میں"۔ یہ تصویر ایک امریکی فوجی نے بھی شیئر کی ہے اور لکھا ہے کہ ایران وہ کچھ کر رہا ہے جو امریکہ کو کرنا چاہئے تھا۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ یہ ai کا شاہکار ہے لیکن لکھا ہؤا پیغام چونکہ درست، اہم اور مؤثر ہے لہذا ہم نے بھی اسے اپنے صارفین کی خدمت میں پیش کیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میلز میں موجود الزامات کو ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم قرار دے دیا۔
رہبر معظم انقلاب نے امریکیوں کی دھمکی اور اقدام یعنی ایران کی طرف جنگی جہاز بھیجنے کے بارے میں فرمایا: بحری جہاز یقیناً ایک خطرناک شیۓ ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو بحری جہاز کو [ڈبو کر] سمندر کی گہرائی میں پہنچا سکتا ہے۔
عید بعثت (17 جنوری 2026ع) کے دن، رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے کلام کا ایک عمدہ ترین اقتباس "عصر بعثت کی جاہلیت اور عصرِ انقلابِ اسلامی کی جاہلیت" کا موازنہ تھا۔