3 مارچ 2026 - 06:01
حصۂ چہارم | شہید رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت کا اجمالی جائزہ

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع‍ کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں شہید ہو گئے۔ اسی مناسبت سے رہبر انقلاب کے حالات زندگی پر مشتمل رپورٹ پیش خدمت ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع‍ کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں جام شہادت نوش کر گئے۔  

ان سماجی سرگرمیوں، درس و تدریس، عمومی خدمات اور جدوجہد نے رفتہ رفتہ امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کو مشہد میں جدوجہد کے اصل محور م مرکز میں تبدیل کیا، پورے ایران سے ان سے رابطے کئے جاتے تھے اور آپ بھی ملک کے تمام نقاط کے ساتھ رابطے میں تھے؛ چنانچہ ساواک کے کان کھڑے ہوگئے جو آپ کے درس تفسیر پر پابندی لگا دیتی تھے لیکن یہ درس کسی اور مقام پر دوبارہ شروع ہوجاتا تھا اور ساواک اس کو بھی بند کردیتی تھی۔ اور یہ تمام اقدامات لوگوں کے حوصلوں کی بلندی اور جابر حکمرانوں کی رسوائی میں بہت مؤ‎ثر تھے۔ اور کبھی تو ساواک آپ کی رہائشگاہ کی نگرانی کرتی تھی تا کہ وہاں آنے جانے والوں کی شناخت کرسکے۔

اسی زمانے میں ملک کے تمام علاقوں میں آپ کے فضل و کمال اور ذوق و شجاعت کا چرچا تھا اور اصفہان، کرمان، یزد اور تہران سمیت مختلف شہروں سے آپ کو ان کی مجالس سے خطاب کی دعوتیں دی جاتی تھیں اور آپ ان مجالس میں انقلابی اسلام کے نظریات، حقائق امور، حالات حاضرہ اور جدوجہد اور انقلابی جہاد کی ضرورت کو نرم اور آہستہ آہستہ برسنے والی بارش کی طرح ـ جو مکمل طور پر مٹی میں جذب ہوتی ہے اور اسے بارور بناتی ہے ـ لوگوں کے تشنہ اذہان پر جاری کرکے انہیں بیدار کردیتے تھے۔

موصوف کی تقاریر ـ بالخصوص تہران کی اسلامی انجمنوں، پڑھے لکھے افراد اور "انصار الحسین علیہ السلام" سمیت مذہبی انجمنوں سے آپ کے خطابات ـ آج بھی بہت سی یادوں میں زندہ ہیں۔ ان ہی تقاریر و خطابات میں سے ایک سنہ 1970ع‍ کے آغاز سے شروع ہونے والا آپ کا سلسلۂ تقاریر تھا جو آپ نے ماہ رمضان المبارک میں "بازار تہران" کے "مدرسہ شیخ عبدالحسین" میں "انقلاب کے شرائط اور اصول" کے عنوان سے شروع کیا تھا۔

ابتداء میں مسلحانہ جہاد میں شدت آنا، بہت مفید اور مؤثر تھا اور اصولی طور پر اس وقت تک جاری علماء کی تحریک کو "نہضت علماء (تحریک علماء)" کہا جاتا تھا اور اسے انقلاب نہیں کہا جاتا تھا لیکن امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) نے اپنی بیس سے زیادہ تقاریر میں صراحت کے ساتھ انقلاب پر روشنی ڈالی۔

آپ کی یہ روش تقاریر تک محدود نہیں تھی بلکہ آپ کے تراجم اور تصانیف نے بھی انقلابی افکار کی نشوونما میں مؤثر کردار ادا کیا۔

"صلح امام حسن علیہ السلام)" اور کتاب "آیندہ در قلمرو اسلام" (مستقبل اسلام کی قلمرو میں) اور "مسلمانان در نہضت ہندوستان" (ہندوستان کی تحریک میں مسلمانوں کا کردار) سمیت اس طرح کی مختلف کتابیں تھیں جو انقلابی عوام کی پرورش کررہی تھیں اور نوجوانوں کی تعمیر میں کردار ادا کررہی تھیں۔

امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) ایک بار پھر سنہ 1967ع‍‍ میں قم میں ان ہی کتابوں کے تراجم کی پاداش میں گرفتار کئے گئے؛ لیکن اسی دن رہا ہوگئے کیونکہ ساواک کوئی ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

پھر بھی گرفتاری

سنہ 1970ع‍ میں آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کی وفات کے بعد ایک بار پھر مکتب امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی ترویج، آپ کی مرجعیت کے لئے تبلیغ اور انقلاب اسلامی کے رہبر و راہنما سے اظہار وفاداری کا موقع میسر آیا تھا کہ اسی دوران امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کو گرفتار کیا گیا اور مشہد کے طلاب اور حوزہ علمیہ پر آپ کی گرفتاری کا گہرا اثر ہؤا۔ اور یہ واقعہ طلبہ کے درمیان انقلابی افکار کے فروغ اور اثر و رسوخ کے لحاظ سے بہت مفید و مؤثر تھا؛ کیونکہ سنہ 1968 سے 1971ع‍ کا عرصہ ثقافتی ـ انقلابی فعالیتوں اور خاموش سرگرمیوں کا دور تھا۔

ابتداء میں آپ نے "مسجد صدیقی ہا" ـ المعروف بہ "مسجد ترک ہا" میں جو مشہد کے بازار میں واقع تھی ـ درس تفسیر کا آغاز کیا اور کچھ عرصہ بعد جب شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہؤا، تو درس "مدرسہ میرزا جعفر" کے کتب خانے کی دوسری منزل کے ہال میں منتقل ہؤا اور آپ نے تدریس کا سلسلہ وہاں جاری رکھا۔ اس درس میں دینی طلبہ، دیندار اور مذہبی مسائل سے اگاہ عوام شرکت کرتے تھے۔ سنہ 1970ع‍ میں آپ کی گرفتاری کی وجہ سے یہ درس وقتی طور پر ملتوی ہؤا۔

اس مرتبہ آپ چار مہینوں تک پابند سلاسل رہے اور رہائی کے بعد ایک بار پھر سرگرم عمل ہوئے۔ سنہ 1970ع‍ کے محرم الحرام [1390ھ‍] تہران کے انجنئیروں کی انجمن اسلامی میں آپ نے امام حسین علیہ السلام کی حدیث "مَنْ رَأَى سُلْطَاناً جَائِراً۔۔۔" [1] کو موضوع سخن بنا کر نہایت آتشین، انقلابی اور حماسی اور خطاب کیا جس نے سب کو متأثر کیا۔ بعدازاں خفیہ جدوجہد کرنے والے زیر زمیں جماعتوں ـ منجملہ منافقین نے آپ سے رابطہ کیا۔

ان مسلح جماعتوں نے سنہ 1971ع‍ کے اواخر میں شاہی ستم کے دوہزار پانچ سوویں جشن کے موقع پر بجلی کے کھمبوں کو دھماکے سے اڑایا تو آپ ایک بار پھر گرفتار کئے گئے اور اس بار شدید ترین تشدد اور آیذاؤوں کا نشانہ بنایا گیا؛ ایک تنگ و تاریک اور مرطوب کوٹھڑی میں قید کیا گیا۔ لیکن انہیں اس شجاع اور حُرّ عالم دین کی دلیرانہ شجاعت اور اور افسانوی استقامت کا سامنا کرنا پڑا اور اہیں کچھ حاصل نہ ہوسکا اور تقریباً دو ماہ پابند سلاسل رہ کر رہا ہوگئے۔

آپ ایک بارے اپنی فعالیت میں مصروف ہوئے۔ اس بار مشہد کی "مسجد امام حسن(علیہ السلام)" بھی ـ جو اس وقت چھوٹی سی مسجد تھی ـ انقلابی مراکز سے جاملی۔ موصوف نے عوام میں سے انقلاب کے بعض حامیوں کے اصرار پر اس مسجد میں امامت کی ذمہ داری قبول کی اور درس تفسیر کا آغاز کیا۔ یوں خفیہ اور محدود تعلقات کے ساتھ ساتھ مساجد کے ذریعے عام لوگوں سے براہ راست اور مسلسل تعلق بھی جاری رہا۔ کچھ عرصہ بعد آپ کو دعوت ملی کہ مشہد کے گنجان آباد علاقے "باغ نادری" کے قریب واقع "مسجد کرامت" میں امامت اور تدریس کا سلسلہ شروع کریں جہاں عوام کے وسیع خیرمقدم اور عوامی اجتماع کی وجہ سے ساواک نے اس مسجد کو کچھ عرصے کے بعد بند کردیا۔

آپ کی یہ فعالیت جو بہت مؤثر تھی، عوام کی توجہ کا مرکز ٹہری، حتی کہ "شہید مطہری" اور "شہید باہنرؒ" ـ جو مشہد مشرف ہوئے تھے، آپ کی فعالیت دیکھ کر بہت خوش اور ان کے پروگراموں سے متأثر ہوئے تھے۔

"آیت اللہ سید محمود طالقانیؒ" صراحت کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ "آیت اللہ خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) مستقبل کی امید ہیں اور دوستوں سے سفارش کرتے تھے کہ جب بھی مشہد جاتے ہو ان سے ضرور ملاقات کرو"۔

ساواک نے آپ کی فعالیتوں کو دیکھ کر آپ کی خاص اور کڑی نگرانی کا اہتمام کیا تھا اور آپ کو مسلسل بلاتی تھی، تفتیش کرتی تھی یا آپ کے گھر کا محاصرہ کرکے لوگوں کو آنے جانے سے منع کرتی تھی اور رفتہ رفتہ آپ کے درس پر پابندی لگا دیتی تھی۔ آخرکار ساواک نے جنوری 1975ع‍ کو گرفتار کرکے تہران منتقل کیا اور جیلخانے اور انسداد تخریب کاری کمیٹی کے عقوبت خانے میں قید تنہائی میں رکھا۔ قید و بند کا یہ عرصہ دو ماہ تک جاری رہا اور یہ پورا عرصہ آپ کو قید تنہائی یا پھر دو اور تین افراد پر مشتمل کمروں میں صبرآزما تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

"شہید رجائیؒ" اس سلسلے میں کہتے ہیں:

"اس سال میں کمیٹی کی تفتیش سے گذر رہا تھا سنہ 1975ع‍ قطعی طور جہنم کا سال تھا۔ کمیٹی کے عقوبت خانے میں رات سے صبح تک چیخ و پکار کی صدا سنائی دیتی تھی اور صبح سے شام تک "ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى" [2] کی مسلسل تصدیق ہوتی تھی۔ جو لوگ وہاں رکھے جاتے تھے نہ مردہ تھے اور نہ ہی زندہ، کیونکہ انہیں اس قدر زدوکوب کیا جاتا تھا اور تا دم مرگ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور پھر دوبارہ پیٹا جاتا تھا اور پھر کچھ سنبھالا جاتا تھا اور جب طبیعت ذرا بہتر ہوجاتی دوبارہ وہی سلوک دہرایا جاتا تھا۔ کمیٹی کے قیدخانے میں مختلف النوع تشدد روا رکھا جاتا تھا۔۔۔ میں جس کمرے میں قید تھا وہی سے عدالت لے جایا جاتا تھا اس کا نمبر 18 تھا اور کمرہ نمبر 20 میں آیت اللہ خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) قید تھے۔

میں نے قیدخانے میں ہی مورس [3] کے ذریعے خفیہ پیغام رسانی کا طریقہ سیکھ لیا تھا اور ہم عام طور پر برابر کے قیدخانے میں قید افراد کے ساتھ مورس بجا کر خبروں کا تبادلہ کرتے تھے؛ میں خبریں اپنے ساتھ والے کمرے کو پہنچا دیتا تھا اور وہاں سے یہ خبریں آیت اللہ خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کو پہنچائی جاتی تھیں۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ ساواکیوں نے آپ کی داڑھی مونڈ لی تھی اور تذلیل کی غرض سے آپ کو چہرے پر طمانچے رسید کئے تھے لیکن آپ با استقامت اور محکم و استوار تھے۔ جیل والی بنیان کو عمامے کی صورت میں سر پر باندھ کر جیل میں حرکت کرتے تھے۔ ایک روز میں بیت الخلاؤں کے پاس تھا اور سرور اور ولولے کے ساتھ آپ سے ملا تھا"۔

تمام تر تشدد اور دباؤ کے باوجود شاہ کی خوفناک ساواک امام امت کے اس بہادر شاگرد کے اسرار کے انکشاف سے عاجز رہی اور حتی کہ ایک چھوٹا سا ثبوت بھی حاصل نہ کرسکی جس کے تحت آپ کو عدالت بھجوایا جاتا اور عدالت سے آپ کو سزا دلوائی جاتی۔  

چنانچہ شاہ نے اپنے آقاؤں کی پالیسی میں تبدیلی اور موسم سرما سنہ 1976ع‍ میں "جیمی کارٹر" کے بطور صدر امدیکہ بر سر اقتدار آنے کے بعد، آپ کو رہا کردیا اور آپ نے ایک بار پھر مشہد پہنچ کر ایک بار پھر اپنی انتھک جدوجہد اور جہاد مسلسل کو جاری رکھی۔

اس بار ذمہ داریاں تہلے کی سبنت بہت بھاری اور شدید تھیں۔ منافقین کے طرز کی مسلحانہ جدوجہد مکمل طور پر شکست کھا چکی تھی جس طرح کہ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے سنہ سنہ  1970 میں اس جماعت کے نمائندے کو خبردار کیا تھا۔ جماعت اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی تھی اور اس کا انحراف اور التقاط [4] آشکار ہوچکا تھا۔

جدوجہد کے عروج کے وقت ـ جب منافقین کی تنظیم میں انحرافات آشکار ہونے، اور علماء نے ایسی تنظيم کی ضرورت محسوس کی جس کی قیادت عام سیاسی افراد کی بجائے علماء اور فقہ و سیاست سے آشنا افراد کے ہاتھ میں ہو ـ  مشہد میں امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی قیادت اور انقلابی و متعہد علماء کے زیر انتظام ایک تنظيم کی داغ بیل ڈالی گئی۔ آپ فرماتے ہیں:

"موسم گرما سنہ 1977ع‍ میں برادران میں سے دو افراد کے ساتھ بیٹھے تھے: "آقائے ربانی املشی" اور "آقائی موحدی کرمانی"۔ موضوع یہ تھا کہ جدوجہد میں شریک افراد اور بالخصوص علماء، جس اس وقت جدوجہد کے سلسلے میں سب سے زیادہ فعال تھے، منظم کیوں نہیں ہیں۔

تجویز پیش ہوئی کہ ہم ایک تنظیم قائم کریں۔ اسی بیٹھک میں کہا گیا کہ اگر "آقائے بہشتی" (شہید آیت اللہ بہشتی) بھی اس تنظیم میں ہوں تو یہ تنظیم عاقبت بہ خیر ہوگی اور مقصد تک پہنچ سکے گی۔

حُسنِ اتفاق سے شہید بہشتی اور شہید باہنر اس موقع پر مشہد میں موجود تھے چنانچہ ان عزیزوں کے ساتھ ایک بیٹھک کا اہتمام کیا گیا اور ایک اسلامی تنظیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا"۔

اس تنظيم کی خبر اسیر علماء ـ بالخصوص آقائے ہاشمی رفسنجانی ـ کو بھیج دی گئی اور انھوں نے بھی اس کی تأئید و حمایت کا اعلان کیا۔  

شہید مطہری بھی اسی سال نجف سے امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی طرف سے ایک پیغام لائے تھے چنانچہ انھوں نے تحریک اور جدوجہد میں کردار ادا کرنے والوں کو ایک اجتماع میں شرکت کی دعوت دی اور ان ہی رابطوں کے بموجب سنہ 1977 اور 1978ع‍ کے عظیم مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا اور اس تنظيم کے قیام میں امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کا کردار بہت اہم تھا؛ وہ بھی ایک ایسی تنظیم جو خدا اور جہاد و شہادت کے لئے تشکیل پائی تھی نہ کہ اقتدارپسندی اور عہدہ و منصب کے حصول کے لئے۔

ایرانشہر جلاوطنی

ان سرگرمیوں کے وقت ـ جبکہ سنہ 1978ع‍ میں انقلاب اسلامی کی تحریک عروج کو پہنچی تھی ـ شاہی نظام نے آپ کو نہایت تشدد آمیز انداز سے گرفتار کیا اور چند رات قیدخانے میں رکھنے کے بعد "ایرانشہر" [5] جلاوطن کیا۔

لیکن جلاوطنی اور ایرانشہر کا نہایت گرم اور مرطوب موسم کہاں جہاد و اجتہاد کے پیکر کو متوقف کرسکتا تھا! آپ نے تو وہاں کی انقلابی اور مجاہد افرادی قوت کے درمیان اتحاد و یکجہتی نیز شیعہ اور سنی بھائیوں کے درمیان وحدت و ہمآہنگی کے لئے کوششیں شروع کردیں اور اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔

آپ نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ رابطے بڑھائے، اس شہنشاہیت زدہ صوبے [سیستان و بلوچستان] میں محرومیوں اور مشکلات کو دور کرکے لوگوں کی توجہ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ)، علماء، اسلام اور اسلامی انقلاب کی طرف مبذول کرانے میں بہت اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔ اتفاق سے اسی سال ایرانشہر سیلاب کی آسمانی آفت سے دوچار ہؤا جس کے نتیجے میں بہت سارے عوام بےگھر ہوئے اور عوام کو بہت سارے نقصانات اٹھانا پڑے۔

امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ)  نے فردوس اور گناباد میں زلزلے کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے علماء اور دینی طلبہ کا ایک گروہ تیار کیا اور علماء کا امدادی گروہ قائم کیا۔

آپ کے قائم کردہ گروہ نے امداد رسانی، تبلیغ اور عوام کی تحریک و ترغیب میں اس قدر کامیاب عامل کیا کہ ساواک خوفزدہ ہوئی اور آپ کو بلوایا اور ساواک کے صوبائی سربراہ نے آپ سے کہا:

"میں نے کل رات پولیس کے سلامتی کمیشن کے اجلاس میں ساواک سے کہا کہ تم کس قدر نا اہل ہو کہ کچھ بھی نہیں کرسکے ہو، دیکھو ایک جلاوطن شخص نے یہاں کیا حالات بنا رکھے ہیں؟"۔

جلاوطنی کی یہ مدت سنہ 1978ع‍ تک طویل ہوئی او رجب انقلابی تحریک عروج تک پہنچی اور ملکی حالات شہنشاہی حکومت کے قابو سے خارج ہوئے، تو امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) مشہد واپس آئے اور پہلے سے زیادہ توجہ کے ساتھ مصروف عمل ہوگئے۔

شورائے انقلاب اسلامی

امر مسلّم یہ ہے کہ رہبر انقلاب کے ساتھ ساتھ، اسلامی انقلاب کی کامیابی اور انقلاب کے بعد ملک کے انتظام و انصرام میں جس ادارے نے بنیادی کردار ادا کیا، وہ شورائے انقلاب اسلامی تھی۔

شہید آیت اللہ سید محمد حسینی بہشتی اس بارے میں فرماتے ہیں:

"شورائے انقلاب ـ جس کی منظوری پیرس میں امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے دی تھی ـ میں جناب ہاشمی رفسنجانی، آقائے مطہری، میں، آقائے موسوی اردبیلی،

اور ڈاکٹر باہنر (یعنی پانچ افراد) پر مشتمل تھی"۔

جناب ہاشمی رفسنجانی کہتے ہیں:

"امام (قُدِّسَ سِرُّہُ) جب پیرس میں تھے، تو آپ نے پانچ / چھ افراد متعین کئے تھے، جنہیں بیٹھ کر ملک کے انتظام اور اگلی حکومت کے قیام میں کردار ادا کرنا تھا۔۔۔ ایک میں تھا، آقائے مطہری تھے جو اس پیرس سے امام (قُدِّسَ سِرُّہُ) کا پیغام لائے تھے، شہید بہشتی، آیت اللہ موسوی اردبیلی اور شہید باہنر، اور آیت اللہ خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ)، جو اس وقت مشہد میں تھے، اور ہم سے آ ملے"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمـَنِ الرَّحِيمِ ۔۔۔ مِنَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَ الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجَبَةَ وَ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَالٍ وَجَمَاعَةِ الْمُؤْمِنِينَ أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه وآله قَدْ قَالَ فِي حَيَاتِهِ مَنْ رَأَى سُلْطَاناً جَائِراً مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللَّهِ نَاكِثاً لِعَهْدِ اللَّهِ مُخَالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ يَعْمَلُ فِي عِبَادِ اللَّهِ بِالْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ثُمَّ لَمْ يُغَيِّرْ بِقَوْلٍ وَ لَا فِعْلٍ كَانَ حَقِيقاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ؛ [سرزمین کربلا پر اترنے کے بعد امام حسین علیہ السلام کا خط کوفیوں کے نام] اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت رحم والا ہے، حسین بن علی کی طرف سے سلیمان بن صرد، مسیب بن نجبہ، رفاعہ بن شداد، عبداللہ بن وائل اور مؤمنین کی ایک جماعت کے نام: امام بعد: یقین کے ساتھ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ و آلہ نے اپنی حیات کے ایام میں فرمایا: جس نے ایک ستمگر حکمران کو دیکھا جو اللہ کے حرام کو حرام کرتا ہے، خدا کے عہد و پیمان کو توڑ دیتا ہے، رسول خدا(ص) کی سنت کا مخالف ہے اور لوگوں کے درمیان گناہ و تجاوز کے ساتھ عمل کرتا ہے، دیکھ لو کہ اگر وہ [دیکھنے والا شخص] شخص اپنے قول و فعل کو نہیں بدلتا تو اللہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے اسی مقام پر داخل کرے جو اس [حاکم] کے لئے مقرر ہے۔ (بحارالأنوار، علامه مجلسی، ج44، ص381)

[2]۔ پھر وہ اس میں نہ مرے گا اور نہ جیئے گا۔ (سورہ اعلیٰ، آیت 13)

[3]۔ Morse code

[4]۔ التقاط Eclecticism: لغت میں: کوئی بات کسی اور جگہ سے لینا (واژہ یاب)؛ اصطلاح میں: اسلامی مفاہیم کو دوسرے افکار کے ساتھ مخلوط کرنا؛ فلسفے میں: وہ مکتب جو فلسفی افکار پر تنقید کی بجائے غیر متجانس اور مختلف آراء اور نظریات و فرضیات کو اکٹھا کرکے ان کے مجموعے

[5]۔ ایران کے مشرقی صوبے "سیستان و بلوچستان" کے ایک شہر کا نام۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha