بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || لبنان میں رہبر انقلاب اسلامی کے فقہی وکیل اور اس ملک کی شرعی کونسل کے سربراہ شیخ محمد حسن یَزبِک نے اپنے تعزیتی بیان میں سید المقاومہ اور حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہ کے والد ماجد سید عبدالکریم نصراللہ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے مذہبی اور تربیتی کردار اسلامی و مقاومتی تعلیمات و ثقافت سے منسلک خاندان کی پرورش میں ان کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔
سید المقاومہ اور حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہ کے والد ماجد سید عبدالکریم نصراللہ کی وفات پر امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے شرعی وکیل شیخ محمد حسن یزیک نے اپنے پیغام میں لکھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
والد جلیل القدر، جناب سید عبدالکریم نصر اللہ (طَیَّبَ اللہُ ثَرَاهُ) کی وفات حسرت آیات پر تعزیتی پیغام۔
الحمد لله على قضائه وقدره وصلواته على مصطفاه وآله الأئمة الابرار الأخيار
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ؛ [1]
جن کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ پاک ہیں، فرشتے کہیں گے تم پر سلامتی ہو بہشت میں داخل ہوجاؤ ان کاموں کے بدلے جو تم کرتے تھے۔"
آج ہم ایک مہربان، مؤمن، پاک نیت، حکیم اور حریت پسند مربی اور باپ سے وداع کر رہے ہیں جنہوں نے ابراہیمی طریقے پر زندگی گذارنے کو اپنی مشق بنایا تھا؛ وہی جن کے بارے میں خداوند نے فرمایا: "إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ؛ [2]
اور [یاد کرو اس وقت کو] جب پروردگار نے ان سے کہا: اسلام قبول کرو (اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرو تو انھوں نے اللہ کا حکم دل و جان سے قبول کر لیا اور) کہا: میں نے جہانوں کے پرورگار کے سامنے سر تسلیم خم کیا"۔

اے سید الکریم! آپ نے اپنے عزیزوں کی تربیت میں پوری استقامت کے ساتھ اس کلامِ وحی کا سہارا لیا کہ: "وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ؛ [3] اور کون ہے جو ملت ابراھیمی سے روگردانی کرے سوائے اس کے جو خود ہی سادہ لوح (اور بے وقوف) ہو۔"

آپ نے اس آیت ولایت سے تمسک کیا جس میں ارشاد ہوتا ہے: "إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا؛ [4] تمہارا دوست تو اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان لانے والے لوگ ہیں۔" چنانچہ اپنے خاندان کی ولائی تربیت پر حریص اور فکرمند تھے، یہاں تک کہ حقیقی مصداق "فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ" [5]
شہید سید حسن نصر اللہ کی والدہ مرحومہ
آپ خلوص نیت کے ساتھ، ایسے خاندان کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوئے جس سے مقدس ترین "سیدالشہدائے امت" کے "انوار مقدسہ" ساطع ہوئے؛ وہ عظیم الشان ہستی جن کی حق و صداقت کی دعوت دنیا کے مشرق و مغرب پر چھا گئی؛ خدا کے سوا کسی سے بھی خائف نہیں ہوئے اسی لئے، اللہ کے دشمن ان سے خوفزہ ہوئے۔
انھوں نے امام حسین (علیہ السلام) کو ترک کرنے سے انکار کر دیا، وہ سید شہید جنہوں نے کبھی بھی امام حسین (علیہ السلام) کی مدد و نصرت سے پہلو تہی نہیں کی، اور "كُلُّ يَومٍ عَاشُورَا وَكُلُّ أَرضٍ كَربَلَا" کی رو سے امامؑ کی دائمی موجودگی پر یقین رکھتے تھے۔
اے سید! یہ عظمت آپ کی تربیت کی میراث ہے۔ آپ ایسے شہیدوں کے باپ تھے، ہیں اور رہیں گے، جو اس وقت اپنے سید و سالار اور شہید امت کے پیچھے پیچھے آپ کے استقبال کر رہے ہیں، آپ کو ہاتھوں اور چہرے پر بوسے دے رہے ہیں اور آپ کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں؛ "فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ؛ [6] وہ (حیاتِ جاودانی کی) ان (نعمتوں) پر فرحاں و شاداں رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں اور اپنے ان پچھلوں سے بھی جو (تاحال) ان سے نہیں مل سکے ہیں (انہیں ایمان اور طاعت کی راہ پر دیکھ کر) خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔"

شیخ محمد حسن یَزبِک اور سید المقاومہ شہید سید حسن نصراللہ
اور آپ کو وداع کہنے والے شیدائی، اس 'عہد پر [دوبارہ] ملاقات' کا انتظار کر رہے ہیں جس پر آپ [اس دنیا میں] ان سے جدا ہوکر رخصت ہوئے تھے۔
اور آپ پر سلام ہو اس دن جب آپ پیدا ہوئے، اور جس دن آپ اس دنیا سے رخصت ہوئے، اور جس نے آپ کو دوبارہ اٹھایا جائے گا،
آپ کو مبارک ہو "فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ" (سورہ قمر، آیت 55۔) (پاکیزہ مجلس میں (حقیقی) طاقتور بادشاہ کی خاص قربت میں)۔
ہم اس سوگ و عزاء میں آپ کے تمام چاہنے والوں، محترم اہل خانہ، بیٹوں، بیٹیوں اور پوتے پوتیوں کو تعزیت پیش کرتے ہیں اور اپنی تعزیت کے جذبات حزب اللہ اور اسلامی مقاومت میں آپ کے بہادر بیٹوں کو، پیش کرتا ہوں جن کے عہد میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی؛ اور وہ قریب کی کامیابی اور یقینی فتح پر یقین ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ قریبی وُسْعَت و فراخی اور آنے والی فتح و نصرت پر یقین ہے۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے تسلیم و رضا کی نعمت پر۔
شہید سید حسن نصراللہ کے والد ماجد سید عبدالکریم نصراللہ گذشتہ پیر کے روز (2 فروری 2025ع کو) 90 سال کی عمر میں دار فانی سے وداع کر گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ