3 مارچ 2026 - 14:18
مآخذ: ابنا
ایران پر حملہ عالمی قوانین کے ٹوٹنے اور بکھرنے اور جنگل کے قانون کے ابھرنے کی علامت ہے: آغا سید روح اللہ مہدی

سرینگر سے پارلیمنٹ کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نےرہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ہلاکت کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی قوانین کے ٹوٹنے اور بکھرنے اور ’’جنگل کے قانون کے ابھرنے کی علامت ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سرینگر سے پارلیمنٹ کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نےرہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ہلاکت کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی قوانین کے ٹوٹنے اور بکھرنے اور ’’جنگل کے قانون کے ابھرنے کی علامت ہے۔

دنیا سرخ لکیر عبور کر چکی ہے۔ اب جنگل کا قانون ہے جہاں عسکری طاقت رکھنے والا ایک ملک بغیر کسی محاسبہ اور پوچھ گچھ اور جواب دہی کے اپنی من مرضی مسلط کر سکتا ہے، جسی پر بھی جنگ تھوپ سکتا ہے۔ نہ کسی کی خودمختاری کا احترام باقی رہا اور نہ ایک ایسے خودمختار مذہبی رہنما کا، جنہیں پوری مسلم دنیا میں عزت حاصل تھی۔ بین الاقوامی معاہدے اور قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے امریکہ دراصل اسرائیل کی خواہشات پوری کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے وزیراعظم کو اسرائیل جاتے دیکھ کر دکھ ہوا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اخلاقی اصولوں اور آزادانہ سوچ پر مبنی رہی ہے، مگر وزیراعظم مودی ملک کو اس راستے سے ہٹا رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کی، جنہیں دنیا ایک جنگی مجرم کے طور پر جانتی ہے۔

آغا روح اللہ اسرائیل نے فلسطین میں نسل کشی کی۔ کسی اور خودمختار ملک کے رہنما نے نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کی یا اسرائیل کا دورہ نہیں کیا، مگر مودی نے ایران پر حملے سے صرف دو دن پہلے ایسا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک خودمختار ملک پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ انتہائی تکلیف دہ اور تشویشناک ہے۔ معصوم لوگوں کو مارا گیا، اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا اور تعلیمی اداروں پر حملے کیے گئے۔ اسی حملے میں دنیا کی ایک بڑی مذہبی اکثریت کے روحانی پیشوا کا قتل نہایت افسوسناک ہے۔

آغا روح اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو جواب دینا ہوگا۔ کیا انہیں اس حملے کی پیشگی اطلاع تھی، جب کہ وہ چند گھنٹے پہلے ہی اسرائیل میں موجود تھے؟ اور پھر انہوں نے حملے اور اس قتل کی مذمت کیوں نہیں کی؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha