بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں جام شہادت نوش کر گئے۔
آپ نے بعد میں اس بارے میں فرمایا:
"پہلے دن مجھ سے پہلے کے مقرر نے مجلس کو طول دیا اور دیر سے اتر آیا اور میرے پاس صرف آدھا گھنٹہ تھا۔ میں نے اپنی بات کا آغاز کیا تو جذبات کی شدت سے کانپ اٹھا اگرچہ ہرگز خوفزدہ نہیں تھا اور حاضرین کی حالت بھی مجھ پر اثر انداز ہورہی تھی؛ عوام نے بہت گریہ کیا اور جب منبر سے نیچے اترا تو حلقہ وار میرے گرد جمع ہوئے، تا کہ حکومتی گماشتے مجھے گرفتار نہ کرسکیں"۔
آپ کی اس مجلس کا بڑا چرچا ہؤا اور دوسرے روز ایک گھر میں مجلس منعقد ہوئی جہاں عوام کی بڑی تعداد مجلس کے لئے حاضر ہوئی تھی اور وہاں بھی حالات حاضرہ پر روشنی ڈالی گئی۔
آپ خود اس بارے میں فرماتے ہيں:
"بیرجند میں "آقائے تہامی" نامی مشہور عالم دین تھے جنہوں نے اس دن مجھ سے کہا: باوجود اس کے کہ میں اس شہر میں سب سے زیاد مُطَلِّع ہوں لیکن ہمیں ان مسائل کا علم نہیں تھا، اور آپ کے سوا کوئی دوسرا یہ مسائل بیان کرتا تو مجھے یقین نہ آتا، اور ہاں میں کسی بھی واقعے میں آج جتنا نہيں رویا ہوں"۔
شہر بیرجند کی صورت حال اس دن بالکل بدل گئی تھی اور لوگ بہت زیادہ آمادہ ہوچکے تھے۔
تاسوعا کے دن آپ نے بہت پرجوش خطاب کیا جس کی وجہ سے حکومت کے گماشتے شدت سے فکرمند ہوئے، اور گوکہ معمول یہ تھا کہ تاسوعا اور عاشورا کے دوران حکومت علماء کو گرفتار نہیں کرتی تھی لیکن خوفزدہ ہوکر آپ کو گرفتار کرلیا اور دو دن تک بیرجند میں رکھنے کے بعد مشہد منتقل کرکے ساواک کی تحویل میں دیا، لیکن آپ کی اسی گرفتاری نے بھی لوگوں کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔
ان فعالیتوں اور پیغامات کا اثر یہ ہؤا کہ اُس سال محرم میں مشہد نے تہران کے بعد، حکومت کے لئے سب سے زیادہ مسائل پیدا کئے؛ اور اسی وجہ سے طاغوت نے آپ کے ساتھ ـ جو ان پیغامات کے قاصد بھی تھے اور عوامی تحریک میں اہم کردار ادا کرچکے تھے ـ اتنا تشدد آمیز رویہ روا رکھا کہ قبل ازاں کسی بھی عالم دین کے ساتھ روا نہیں رکھا تھا۔ شاہی گماشتوں نے ابتداء میں آپ کو ساواک کی تحویل میں دیا؛ وہاں سے آپ کو عسکری پولیس کے کھنڈر قیدخانے میں منتقل کیا گیا جہاں جیل کے ابتدائی ترین وسائل بھی نہيں پائے جاتے تھے۔ دھمکی دیتے ہیں کہ آپ کی داڑھی بھگوئے بغیر مونڈ لیں گے لیکن بعد میں ان کا ارادہ بدل گیا اور داڑھی مونڈنے والی مشین استعمال کی۔
آپ اس بارے میں کہتے ہیں:
"ان کے اس عمل کے بعد میں منہ ہاتھ دھونے کے لئے جارہا تھا کہ اسی اثناء میں ایک متکبر اور مغرور لیفٹننٹ نے تمسخر کے ساتھ اونچا قہقہہ لگا کر کہا "دیکھا، کہ آخرکار تمہاری داڑھی کو میں نے مونڈ ہی لیا!" میں نے پرسکون انداز سے کہا: زیادہ برا بھی نہیں ہؤا، عرصے سے اپنی ٹھوڑی نہیں دیکھ سکا تھا"۔ ظاہر ہے کہ ساواک کا مذاق اڑانے اور اس کی وجہ سے ان پر پڑنے والے دباؤ سے طاغوتی حکومت کو کس طرح ٹوٹ جاتی ہے اور کس قدر اس کی تذلیل ہوتی ہے!"۔
بعدازاں آپ سے چھاؤنی میں بیگار لی گئي، انہیں ایک ہاتھ گاڑی دی گئی کہ اینٹیں بھربھر کر ادھر ادھر لے جائیں اور بیلچے سے زمین کھود کر ہموار کریں اور ہاتھوں سے گھاس پھونس اکھاڑ لیں اور آپ سے اس طرح کے کام لئے گئے؛ اس طرح کا رویہ اس سے پہلے علمائے دین کے ساتھ روا نہیں رکھا گیا تھا۔
اس قسم کا رویہ اس خوش بیان اور شجاع عالم دین سے طاغوتی حکمرانوں کے خوف کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس بار آپ کو دس دن تک اس حبس بےجا میں رکھا گیا۔ آپ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
"زیادہ برے دن نہیں تھے، ایک نیا تجربہ تھا، ایک نئی دنیا تھی ساواک کے ساتھ، تفتیش کے ساتھ، جھگروں کے ساتھ، شدیدترین توہینوں اور گستاخیوں کے ساتھ، المختصر جدوجہد کی تلخیوں کے ساتھ"۔
امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) رہائی کے بعد ایک بار پھر دوستوں کے ساتھ صلاح مشورے کرنے بیٹھے؛ سابقہ واقعات کا جائزہ لیا، اور فیصلہ کیا کہ ایک بار پھر ملک کے مختلف شہروں کا سفر اختیار کریں اور حکومت کے جرائم اور ان سے جنم والے المیوں کو آشکار کریں اور امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی تحریک کو جاری رکھیں اور عام کریں۔
آپ فرماتے ہیں:
"باہم بیٹھے اور دوستوں کے ساتھ طے کیا کہ اس بار ایک صحیح، مستحکم اور منظم منصوبے کے تحت ہم میں سے ہر ایک ملک کے ایک حصے میں چلا جائے اور حقائق کو بیان کرے۔ البتہ گھٹن بہت زیادہ تھی؛ حکومت زیادہ سے کچلنے کے لئے تیار تھی۔ عوام ابھی پانچ جون کے اثرات سے خارج نہیں ہوسکے تھے۔ عوام کو کچلا گیا تھا، حکومت کے تشدد اور جرائم کی وجہ سے بعض لوگ تحفظات کا شکار ہوچکے تھے، اگرچہ یہی حالات بعض دوسروں کو مزید مزاحمت اور وسیع جہاد کی دعوت دے رہے تھے"۔
اس المناک صورت حال میں پھر بھی یہ علمائے دین کی صدا ہی تھی جو لوگوں کو مزاحمت اور جدوجہد کی دعوت دے رہی تھی۔
آپ خود اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
"تمام شہروں میں، راستے میں واقع چھوٹی آبادیوں اور دور افتادہ دیہاتوں میں ـ اور ہر اس جگہ جو شاہی ستم اور اس کے گماشتوں کے چنگل میں گرفتار تھی اور جہاں ـ لوگوں کے مال و ناموس اور عقائد و ایمان پر ارباب زر و جبر تسلط جمائے ہوئے تھے، امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کا کوئی شاگرد حاضر ہوجاتا تھا اور شاہی حکومت کے ہاتھوں گرفتاری اور تشدد کا خوف خاطر میں لائے بغیر، حقائق کو لوگوں کے لئے بیان کرتا تھا"۔
یہ اجتماعی دورے ـ وہ بھی پانچ جون کے سنہ 63ع اور امام (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی گرفتاری کے بعد ـ بہت قابل قدر اور بیش بہاء تھے، اور ہم آہنگی اور اس کی وسعت نے ـ جو اکثر شہروں اور بعض دیہاتوں تک پھیل گئی تھی ـ حکومت کو بےبس اور خوفزدہ کردیا؛ چنانچہ حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
ماہ رمضان سنہ 1964ع [1383ھ] میں [26 جنوری کو] شاہ کے جعلی استصواب کی سالگرہ منائی جارہی تھی، امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نظربند تھے اور چنانچہ آپ کی طرف سے ماہ مبارک کے لئے کسی منصوبہ سازی کا امکان نہیں تھا۔ تاہم آپ کی غیر موجودگی میں مراجع تقلید، علمائے اعلام ـ بالخصوص آپ کے قریبی شاگرد ـ اور دیندار عوام نے کام کا آغاز کیا اور جدوجہد کے مشعل کو روشن رکھا۔ حوزہ علمیہ کے فضلاء اور طلبہ بھی ماہ مبارک رمضان کے اہم موقع سے استفادہ کرکے ملک کے مختلف علاقوں میں حاضر ہوئے اور شاہ کے جرائم و مظالم سے پردہ اٹھایا۔
امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) اور آپ کے دوست بھی ایک منظم اور باضابطہ منصوبے کے تحت میدان میں آئے۔ آپ اس سلسلے میں فرماتے ہيں:
"ہم ایک بس لے کر قم سے روانہ ہوئے، بس پر 30 طلباء اور فضلاء سوار تھے۔ بس میں مختلف مدارج اور مراتب کے طلبہ بیٹھے تھے۔ بس روانہ ہوئی اور حضرات ایک ایک کرکے مختلف علاقوں میں اترتے گئے۔ میں آخری فرد تھا جو بس میں رہ گیا کیونکہ مجھے کرمان میں اترنا تھا"۔
آپ نے دو تین دن تک تقاریر کا اہتمام کیا اور علماء، طلبہ اور مجاہد افراد کے ساتھ بات چیت کی اور وہاں سے زاہدان چلے گئے۔ زاہدان کی جامع مسجد میں تقاریر کا سلسلہ شروع کیا اور عوام نے خوب پذیرائی کی۔
جتنا کہ 26 جنوری کا دن قریب آرہا تھا آپ کی صراحت میں بھی اضافہ ہورہا تھا، حتی کہ 15 رمضان کو امام حسن مجتبی علیہ السلام کے یوم میلاد کے سلسلے میں آپ نے ایک بہت عمدہ، عمیق، پرجوش اور پر معنی خطاب کیا جس کی پاداش میں ساواک نے انہیں اسی روز گرفتار کیا اور طیارے کے ذریعے تہران منتقل کیا۔ آپ کو ایک رات "سلطنت آباد" چھاؤنی میں رکھا گیا اور دوسرے روز "قزل قلعہ" منتقل کیا گیا جو ان دنوں ساواک کا بدنام اور خوفناک جیلخانہ تھا اور اسی جیلخانے میں قیدیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
آپ کو اس جیلخانے میں دو مہینوں تک رکھا گیا، جہاں آپ کو قید تنہائی میں رہنا پڑا اور بری طرح توہین اور ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آپ کو اس جیل کی دیگر صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔
لیکن رہائی کے بعد، اس شجاع اور نڈر عالم دین نے تہران کے محلہ قیطریہ کے ایک گھر میں نظربند حضرت امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) تک رسائی حاصل کی اور آپ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور شہید حاج آقا مصطفی خمینی کے ہمراہ پونے گھنٹے تک امام (قُدِّسَ سِرُّہُ) سے بات چیت کی۔ آپ کے اپنے بقول:
"اس ملاقات نے تمام تر تھکاوٹ میرے جسم و جان سے دور کردی۔ اور امام (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے بہت زیادہ محبت اور مہربانی سے پیش آئے۔ میں نے امام (قُدِّسَ سِرُّہُ) سے عرض کیا کہ اس ماہ رمضان سے آپ کی غیر موجودگی میں اتنا استفادہ نہ ہوسکا جتنا کہ ہونا چاہئے تھا؛ لہٰذا اب اگلے محرم کے بارے میں سوچنا چاہئے"۔
امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) پھر بھی اپنے تجربات سے استفادہ کرکے میدان میں اترے اور اہم ترین تجربہ ـ جو انھوں نے حاصل کیا تھا ـ یہ تھا کہ طویل جدوجہد کے لئے ایک ادارے اور تنظیم کی ضرورت ہے تاکہ تمام تر امور صلاح مشورے، فکری ہمآہنگی اور زیادہ سے زیادہ وسائل بروئے کار لاکر آگے بڑھائے جاسکیں۔
تنظیم سازی / نظام سازی
اسی مقصد سے قم میں آمام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) اور مکتب امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے دوسرے مجاہد علماء نے ایک اجلاس منعقد کیا اور ایک خفیہ تنظیم بنانے کے بارے میں بات چیت کی۔ اجلاس کے شرکاء میں آیت اللہ مشکینی، شہید آیت اللہ قدوسی، مرحوم آیت اللہ ربانی املشی، مرحوم آیت اللہ ربانی شیرازی، مرحوم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی، آیت اللہ مصباح یزدی، مرحوم آیت اللہ آذری قمی، آیت اللہ امینی نجف آبادی و دیگر شامل تھے۔
اس تنظیم سازی یا نظام سازی کا مقصد یہ تھا کہ یہ حوزہ علمیہ قم اور عوام کی فعالیتوں کو ـ مکتب امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے تسلسل میں ـ منظم کرنے کے لئے ایک تمہید ہو۔ اس تنظیم نے خاموشی سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا، اساسنامہ بھی تحریر کیا گیا۔ رکنیت فیس بھی متعین ہوئی اور وصول ہونے لگی، آیت اللہ مصباح یزدی تنظيم کے معتمد (سیکریٹری) کے طور پر منتخب ہوئے جنہوں نے اجلاسوں کی کاروائی اور روئداد نیز اساسنامے کے متن اور دوسرے موضوعات کو ناقابل فہم تعویذاتی سی رسم الخط میں تحریر کرنا شروع کیا جسے صرف وہ خود سمجھ لیتے تھے تاکہ اگر ساواکی گماشتوں کے ہاتھ ان تحریروں تک پہنچتے بھی تو انہیں قدیم زمانے کے طلسمات سمجھ کر بدگماں ہووئے بغیر چھوڑ دیں۔
سنہ 1965ع میں ساواک نے تنظیم کا سراغ لگا لیا، آیت اللہ آذری قمی گرفتار ہوئے، ان کے گھر سے اساسنامہ برآمد ہؤا اور جناب آذری ساواکی تشدد برداشت نہ کرسیے اور یوں تنظیم کے کئی افراد گرفتار ہوئے اور امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) سمیت بعض افراد فرار ہوئے۔
آپ، ہاشمی رفسنجانی اور مصباح یزدی سمیت تہران چلے آئے اور آپ جناب ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ ہم خانہ ہوگئے۔ گوکہ اس واقعے سے کچھ عرصہ قبل کتاب "آیندہ در قلمرو اسلام" نامی کتاب کا ترجمہ کرنے کی پاداش میں مشہد سے روپوش ہوچکے تھے؛ کیونکہ اس کتاب کے مندرجات ـ بالخصوص کتاب پر آپ کے حاشیوں ـ نے ساواک کو بہت فکرمند اور غضبناک کردیا تھا۔
ساواک نے کتاب کو چھاپہ خانے میں ہی سے ضبط کردیا لیکن یہ کتاب دوسرے مقامات سے چھپ کر شائع ہوئی اور یہ مسئلہ ساواک کے غیظ و غضب میں شدت آنے اور آپ کے تعاقب پر اصرار کا باعث ہؤا تھا؛ اور پھر اسی وقت قم میں آپ کی خفیہ تنظیم کا بھی سراغ مل چکا تھا۔ اس دوران ساواک نے شہید آیت اللہ قدوسی کو گرفتار کرکے تفتیش کے بعد رہا کردیا۔ شہید قدوسی تفتیش کے دوران جان چکے تھے کہ تنظیم کا انکشاف ہوچکا ہے۔ چنانچہ انھوں نے جناب ہاشمی رفسنجانی کو خبر دی اور تہران کے خیابان رے کے محلہ شترداران میں شہید محمد جواد باہنر کے گھر پر ایک جلسے کا انعقاد ہؤا جس میں "امام خامنہ ای(ضوان اللہ علیہ)، ہاشمی رفسنجانی، شہید قدوسی اور امینی نجف آبادی" نے شرکت کی اور شرکاء طے کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ روپوش رہيں اور احتیاط برتیں اور امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) مشہد جانے سے پرہیز کریں۔
سنہ 1967ع کے اوائل میں بعض گرفتار افراد رہا ہوئے اور یہ مسئلہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔ چنانچہ آپ نے زیارت کی غرض سے مشہد کا سفر کیا اور ظاہر ہے کہ آپ کا کوئی بھی سفر زیارت تک محدود نہيں ہوتا تھا اور کئی دوسرے کام بھی انجام دینے کے تھے۔ لہٰذا ساواک کو آپ کی سرگرمیوں کا پتہ ملا اور آپ ایک بار پھر اور اس بار کتاب کے بہانے مورخہ 3 اپریل سنہ 1967ع کو گرفتار ہوکر جیل پہنچا دیئے گئے۔ چار مہینوں تک جیل میں رہے اور ساواک کے تشدد اور دباؤ کے باوجود اللہ کی مدد سے ساواک کو پھسلا دیا اور ساواک اپنے مطلب کی بات آپ سے نہیں سن سکی۔
خفیہ تنظیم سازی اور علماء کا امدادی گروہ
اس بار امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) نے قم یا تہران آنے کی بجائے مشہد میں ہی قیام کیا اور درسی اور علمی سرگرمیوں میں مصروف ہوئے۔ آپ نے اس دفعہ مکاسب اور کفایۃ الاصول کی تدریس کا آغاز کیا۔ حوزوی علوم میں اعلی سطوح کی تدریس کے ساتھ ساتھ ابتداء میں دینی طلبہ اور بعدزاں جامعات کے طلبہ اور عام نوجوانوں کے لئے درس تفسیر قرآن کا آغاز کرکے انقلابی اسلام کی تبلیغ اور تعلیم کا اہتمام کیا۔ آپ کا درس تفسیر بہت جلد جدوجہد کا مرکز اور انقلابی تحریک کے لئے اہم محرک میں بدل گیا۔ یہ درس انقلابیوں کے درمیان رابطے اور عوام کی بیداری اور آگہی کی بنیاد بنا۔
یہ درس تفسیر ضمنی طور پر دیندار اور لائق افراد کی شناخت اور منظم کرنے اور عوامی اور اسلامی اقدامات کے لئے پردہ پوشی کا ذریعہ بھی تھا۔ خراسان کے شہروں "فردوس"، "کاخک" اور "گُناباد" میں تباہ کن زلزلہ وسیع جانی اور مالی نقصانات اور ویرانیوں کا سبب ہؤا تو موصوف نے مشہد کے مجاہد طلبہ کو منظم کیا اور مشہد کے علماء کی پشت پناہی اور انقلابی و دیندار تاجروں کی مالی اور معاشی امداد لے کر فردوس پہنچے اور علماء کا امدادی گروپ قائم کیا۔ آپ خود اس بارے میں فرماتے ہیں:
"سوچا کہ ہمیں کچھ طلبہ کی پرورش کرنے کی ضرورت ہے جو جدوجہد پر گہرا یقین رکھتے ہوں اور جدوجہد ہی کے دائرے میں کوشاں ہوں۔ لہٰذا میں نے اس حوالے سے کام کیا اور (دینی) طلبہ کے ساتھ کچھ پروگرام طے کئے اور اسی سلسلے میں جب زلزلہ آیا تو ہم نے موقع سے استفادہ کیا، بعض دوستوں سے رابطہ کیا، اور کہا کہ ہم فردوس جارہے ہیں، بعض دوستوں نے خیرمقدم کیا۔ "حجت الاسلام والمسلمین عباس واعظ طبسی"، "شہید عبدالکریم ہاشمی نژاد" اور بعض مشتاق تاجروں اور طلبہ کے ہمراہ ـ ستر اسی افراد ـ دس پندرہ گاڑیوں پر بیٹھ کر روانہ ہوئے اور زلزلہ زدہ علاقے کی طرف چلے گئے۔۔۔
"آیت اللہ شیخ علی اصغر مروارید" جب کچھ افراد کے ساتھ علاقے میں آئے تو آبدیدہ ہوئے۔ انھوں نے دیکھا کہ ہم نے اس علاقے کے مرتب اور منظم کیا ہے، فرط شوق سے رونے لگے۔۔۔
ابتداء میں جب ہم وہاں گئے تو تقریباً دو ہفتوں تک لوگوں نے میرے نام کو غلطی سے امام خمینی قُدِّسَ سِرُّہُ) کا نام سمجھ بیٹھے تھے؛ کہتے تھے: آقائے خمینی آئے ہیں، اور دور دور کے دیہی علاقوں سے لوگ مجھے دیکھنے آتے تھے۔ بالکل عیاں تھا کہ آقائے خمینی سب کے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ ہم ہی آقائے خمینی کے حبدار ہوں۔ وہاں کے دیہی علاقوں اور حتی کہ دور افتادہ دیہاتوں میں آقائے خمینی کا نام ایک محبوب نام ہے۔
بالآخر لوگ میرا نام جان گئے اور سب نے مجھے پہچان لیا؛ بہت دلچسپ بات یہ کہ سرکاری ادارے گھبرا گئے۔ سرکاری نیم فوجی ادارے "ژاندارمری" [1] کی ایک یونٹ وہاں تھی اور "شہربانی" [2] بھی ہم ہمیں وہاں سے نکال باہر کرنا چاہتی تھی۔ آنھوں نے دھمکی دی کہ اگر ہم نہیں گئے تو وہ طاقت استعمال کرکے ہمیں نکال باہر کریں گے؛ ہم نے کہا کہ ہم کہیں نہیں جارہے؛ بعض دوست خوفزدہ ہوئے، تو میں نے کہا: ہمیں نہيں ڈرنا چاہئے کیونکہ جس حالت میں ہم ہیں اس میں خوف بےمعنی ہے اور سبب بھی یہ ہے کہ ہم یہاں عوام کی مدد کو آئے ہیں اور عوام کے تمام وسائل ہمارے ہاتھ میں ہیں؛ "شیر و خورشید" [3] کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اور شاہی سرکار کچھ نہیں دینا چاہتی؛ اس کے پاس کچھ ہو بھی تو نہیں دے گی۔ عمل میں بھی ایسا ہی ہؤا۔ طاغوت کے بھیجے ہوئے گماشتے ڈٹ نہيں سکے اور واپس چلے گئے اور ہم نے اپنا کام جاری رکھا"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
[1]۔ ژاندارمری Gendarmerie شہنشاہی حکومت کا نیم فوجی نیز ادارہ تھا۔
[2]۔ شہربانی، جس کو ابتدائی مرحلے میں نظمیہ کہا جاتا تھا ایران کے پولیس کا نام تھا۔ یہ ادارہ 22 جون 1913ع کو قائم ہؤا اور اسی نام سے یکم اپریل 1991ع تک سرگرم عمل رہا اور اس تاریخ کو نیم فوجی اور سرحدی افواج "ژاندارمری (Gendarmerie) اور اسلامی انقلاب کے بعد بننے والی "اسلامی انقلاب کی کمیٹیوں" کے انضمام کے بعد "نیروئے انتظامی جمہوری اسلامی ایران" [ناجا] (Law Enforcement Force of the Islamic Republic of Iran) نئی فورس معرض وجود میں آئی۔
[3]۔ شیر و خورشید (Lion and Sun) (فارسی: شیر و خورشید) ایران کی 1846ء سے 1980ء کے درمیان مرکزی علامت (نشان) تھی جو پرچم ایران میں بھی شامل تھی۔ شیر اور سورج کی علامت بڑی حد تک فلکیات سے اخذ شدہ ہیں جو قدیم علامت سورج اور برج اسد پر مشتمل ہے۔ (Kindermann, H. (1986), "Al-Asad", Encyclopedia of Islam, 1, Leiden, the Netherlands: E.J.Brill, pp. 681–3)؛ Shahbazi, Shapur A. (2001), "Flags (of Persia)", in E. Yarshater; et al., Encyclopaedia Iranica, 10
آپ کا تبصرہ