16 مارچ 2026 - 20:59
اگلی جنگ امریکہ کے اندر لڑی جائے گی

ایک اقتصادی تجزیہ کار نے امریکی قرضوں کا چارٹ شائع کرکے لکھا کہ ان قرضہ جات پر آنے والی شرح سود دفاعی بجٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور یہ امریکہ کے وجود کے لئے ـ ایران سے بڑا ـ خطرہ بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ بنا || برازیلی-امریکی تجزیہ کار اوٹایو کاسٹا نے کہا: "امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ ـ جس کا اسی وقت اس کو سامنا ہے ـ ایران نہیں بلکہ اپنے ہی قرضوں سے جنم والے اخراجات ہیں۔"

کاسٹا نے کہا ہے:

امریکی حکومت اس وقت ایک جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے درکار مالی صلاحیت سے عاری ہے، اور سود کی بڑھتی ہوئی شرحیں ایک "وجودی خطرے" (Existential threat) میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

کاسٹا کے شائع کردہ چارٹ میں گذشتہ تین عشروں میں (سنہ 1995 سے سنہ 2025 تک) کے امریکی حکومت کے اخراجات مندرج ہیں، اور اس چارٹ کے مطابق، سنہ 1995 میں امریکہ کا فوجی بجٹ 260 ارب ڈالر تھا جو حالیہ برسوں میں لگ بھگ 700 ارب ڈالر تک پہنچا ہے۔

دوسری طرف سے امریکی قرضوں پر آنے والا سود اسی دوران 220 ارب ڈالر سے 1000 ارب (ایک ٹریلین) تک پہنچ گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک بڑی تبدیلی کو عیاں کرتے ہیں۔ پہلی بار امریکی قرضوں پر آنے والا سود اس ملک کے جنگی بجٹ سے آگے بڑھ گیا ہے۔

آسان لفظوں میں، امریکی حکومت اس وقت سالانہ ـ پینٹاگون اور فوج کے تمام اخراجات سے زائد ـ رقم ان قرضوں کے سود کے طور پر ادا کرتی ہے جو اس نے اس سے پہلے حاصل کئے ہیں۔

قرضوں کے سود کی ادائیگی ـ جنگی بجٹ کے برعکس ـ ناگزیر ہے اور حکومت نہیں کہہ سکتی کہ "اس سال میرے پاس پیسہ نہیں ہے، قسط بعد میں ادا کروں گی"، یہی نہیں، بلکہ اگر وہ یہ سود ادا نہ کرے تو دیوالیہ ہو جائے گی۔ چنانچہ اسے ہر سال ـ تمام واجبات سے قبل ـ یہ بل ادا کرنا پڑتا ہے۔

امریکہ کے سامنے تین دشوار راستے

فی الحال امریکی قرضے 36 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں؛ یعنی اگر [بینکاری نظام میں] سود کی شرح میں تھوڑا سا اضافہ ہوجائے تو قرضوں کے سود میں شدت سے اضافہ ہوتا ہے۔

چنانچہ زیادہ تر بجٹ پرانی قسطوں پر خرچ ہوتی ہے، اس صورت میں نئی مہم جوئیوں کے لئے کوئی رقم باقی نہیں رہتی۔

بجٹ کے اہم تر جزء کے طور پر 'سود' ـ کی لاگت میں اضافہ اگر مستحکم ہوجائے رہے تو امریکی حکومت کو تین مشکل آپشنز کا سامنا ہو سکتا ہے:

- ٹیکسوں میں اضافہ جو غربت، اقتصادی کسادبازاری اور عمومی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔

اگلی جنگ امریکہ کے اندر لڑی جائے گی

- دفاعی اخراجات نیز دوسری خدمات کو کم کرنا جو قومی سلامتی، اور ڈیٹرنس کو کمزور کرتا ہے۔ کانگریس کے بجٹ آفس  (CBO) کی رپورٹ کے مطابق سود کے اخراجات سنہ 2036 تک دفاعی بجٹ سے دو گنا زیادہ ہونگے۔

- نئے قرضے لینا، جو قرضوں کے دورِ باطل (Vicious circle) کو شدید تر کر دے گا اور قرضوں کے بوجھ کو بڑھا دے گا۔

لگتا ہے کہ حال حاضر میں، اور تیل کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافہ، سود کی شرح میں کمی کے ٹرمپ کے وعدے کو ناقابل عمل بنا دے گا بلکہ اس شرح میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے؛ چنانچہ قرضوں پر سود کی شرح بدستور ناقابل برداشت رہے گی۔ 

چنانچہ کاسٹا کہتے ہیں کہ سود کی شرح میں مزید اضافہ امریکہ کے لئے "وجودی خطرہ" بن رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha