بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس حصے میں، امریکی تھنک ٹینکس کی نظر میں جنرل سلیمانی کی دیگر خصوصیات کی عکاسی کرنے اور اس عالی قدر شہید کی ایک منظم اور جامع تصویر پیش کرنے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مغربی سیاسی زبان میں ان کے کردار کو کس انداز سے پیش کیا جاتا ہے۔
11۔ ایران کی خارجہ پالیسی میں تعمیری کردار
بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو ایسے کمانڈر کے طور پر پیش کرتا ہے جو ایران کے بیرونی اقدامات پر راہ پر براہ راست اثرانداز ہوتے تھے اور ـ ایران کے اقدامات کے راستے کو اعلیٰ اعتماد اور اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی تک رسائی کے ذریعے، ـ اہم علاقائی مواقع پر، درست کر دیتے تھے؛ یوں کہ، عراق اور شام کے بہت سے اہم فیصلے سرکاری دستاویزات کی شکل میں نہیں، بلکہ میدانی تعاملات اور جنرل سلیمانی کی تشخیص کی بنیاد پر تشکیل پاتے تھے۔
سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز انہیں سیکیورٹی فیصلہ سازی کے مرکزی کردار کے طور پر دیکھتا ہے جو روایتی خارجہ پالیسی کے طریقہ کار سے باہر کام کرتے تھے اور نہ صرف عمل درآمد کرتے تھے، بلکہ اعلیٰ فیصلہ سازوں کے سامنے موجودہ آپشنز کو بھی مرتب کیا کرتے تھے؛ نتیجے کے طور پر بعض معاملات میں خارجہ پالیسی ایک سیکیورٹی-آپریشنل نوعیت اختیار کر لیتی تھی۔
رینڈ انسٹی ٹیوٹ خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی پالیسی کے مابین سرحد کے ختم ہونے پر زور دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جنرل سلیمانی مخصوص عملی آپشنز پیش کر کے خارجہ پالیسی کے انتخاب کا دائرہ تعمیر کر دیتے تھے اور اکثر ایسی راہیں تجویز کرتے تھے جو سرکاری سفارتکاری سے کم خرچ، لچکدار اور 'قابل تردید' ہوتی تھیں۔
12۔ ایران کی تسدید مضبوط کرنے والا کردار
بروکنگز تھنک ٹینک لکھتا ہے: جنرل سلیمانی کا نام، موجودگی اور عملی تجربہ، خود ہی مخالفین کے حساب میں ایک رکاوٹی متغیر تھا؛ ایسی رکاوٹ جو نہ صرف ایران کی فوجی طاقت سے، بلکہ ان کے رویے کے اعتبار اور ان کے ردعمل کی پیشن گوئی کی صلاحیت سے نکلتی تھی اور بہت سے اداکار اپنے ردعمل کو ان کے جواب کے فرض کے ساتھ ہم آہنگ کرتے تھے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز اس تسدید کو ٹھوس اور قابل شناخت (محسوس) قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ ڈیٹرنس روایتی ہتھیاروں پر مبنی ڈیٹرنس کے برعکس، شخص پر مبنی تسدیدی رویے کی تاریخ اور ردعمل کی درستگی پر مبنی تھا۔ سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز جنرل سلیمانی کو ایران کے عملی ڈیٹرنس کا ثقل کا مرکز (Center of gravity) قرار دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کچھ غیر تحریری سرخ لکیریں 'ان کے ردعمل کے طریقے کی بنیاد پر' سمجھی گئی تھیں اور مستحکم ہوئی تھیں؛ یہ بات نہ صرف پیغام کو تیز اور واضح کرتی تھی بلکہ مخالف فریق میں کمزوری اور زدپذیری بھی پیدا کر دیتی تھی، کیونکہ فرد کے ختم ہونے سے تسدیدی نظام میں تعطل پیدا ہو سکتا تھا۔
رینڈ انسٹی ٹیوٹ ان کی تسدید کو انفرادی اعتبار پر مبنی قرار دیتا ہے اور زور دیتا ہے کہ ان کے نام سے منسوب دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا ان کے انتظآمی پس منظر جنم لیتا تھا اور یہ ایران کو یہ اجازت دیتا تھا کہ وہ مسلسل سخت طاقت کا مظاہرہ کیے بغیر حریفوں کے رویے کو قابو کر سکے۔ اٹلانٹک کونسل نفسیاتی اور ادراکی تسدید پر زور دیتی ہے اور کہتی کہ ان کی موجودگی یا یہاں تک کہ ایک محاذ پر ان کی سرگرمی کی اطلاعات اداکاروں کے رویے کو تبدیل کر سکتی تھی اور اس عامل کو محض ادارہ جاتی نظام سے بدلنا دشوار ہے۔
13۔ علاقائی بحرانوں کے موثر منتظم
بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو ایک منتظم قرار دیتا ہے جو شدید بحرانوں میں، جب سرکاری عمل سست یا بے اثر ہو جاتا ہے، مرتکز فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے تھے اور ایسے واقعات میں ـ جیسے کہ محاذوں کے اچانک گرنے یا حساس مراکز کے خطرے میں پڑنے، ـ ہنگامی بحران کے منتظم کا کردار ادا کرتے تھے تاکہ بحران ناقابل کنٹرول سطح پر نہ پہنچ پائے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کہتی ہے کہ وہ بحرانی لمحات میں فیصلہ سازی کے خلا کو پُر کرتے تھے اور شدید غیر یقینی صورتحال میں فوری کارروائی کو سیاسی حساب کے ساتھ ملانے کی صلاحیت رکھتے تھے؛ ایسا انتظام نہ صرف میدان جنگ تک محدود تھا بلکہ سیاسی، ابلاغیاتی اور علاقائی اثرات کو بھی کنٹرول کرتا تھا تاکہ بحران سلسلہ وار شدت اختیار نہ کریں۔
سینٹر فار اسٹراٹیجیک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کثیر الجہتی بحرانوں کے انتظام کی بات کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنرل سلیمانی کے پاس فوجی خطرے، سیاسی دباؤ اور سفارتی خطرے کے یکساں حالات میں ترجیحات کا تعین اور وسائل کی تقسیم کی صلاحیت تھی اور یہی کئی قضیوں کے بیک وقت انتظام کی صلاحیت ایران اور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھتی تھی۔
رینڈ انسٹی ٹیوٹ ان کے نقطہ نظر کو نقصان کم کرنے کا سبب گردانتا ہے اور کہتا ہے کہ بہت سے بحرانوں میں بنیادی مقصد فیصلہ کن فتح حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنا اور حالات کو مستحکم کرنے کے لئے وقت خریدنا تھا؛ ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر جو مستقبل کے آپشنز کو کھلا رکھتا تھا۔
اٹلانٹک کونسل انہیں ایسے کمانڈر کے طور پر ریکھتا ہے جو بحران کو ایک 'تاکتیکی موقع' (Tactical opportunity) میں تبدیل کر سکتے تھے اور تیزرفتاری سے میدان میں آکر اور میدان پر کنٹرول نافذ کر کے، اور حالات پر کنٹرول کی صلاحیت کو مخالفین سے چھین لیتے تھے؛ ایک انتہائی خطرناک مگر کچھ معاملات میں بحران کا رخ موڑنے والا طرز عمل۔
14۔ خفیہ سفارتکاری اور سخت طاقت کے امتزاج کا عملی نمونہ
بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو ایک ایسا فعال کارکن قرار دیتا ہے جس نے جان بوجھ کر سفارتکاری اور کارروائیوں کے درمیانی سرحد کو غیر واضح اور دھندلا کر دیا تھا اور ایک ہی وقت میں میدان کی رہنمائی کرتے ہوئے، غیر رسمی مذاکرات اور ضمنی معاہدوں کو آگے بڑھاتے تھےا؛ ایک ایسا امتزاج جس نے ایران کو سرکاری چینلز پر انحصار کیے بغیر نئے سیاسی حقائق پیدا کرنے اور پھر انہیں ایک انجام شدہ عمل کے طور پر مستحکم کرنے دیتا تھا۔
کونسل آن فارن ریلیشنز انہیں ایک عسکری سفارت کار قرار دیتی ہے جو کارروائیوں کو گفت و شنید اور معاملہ کاری کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایران کے بہت سے تعاملات غیر سرکاری اور سیکیورٹی رابطوں کے راستے سے انجام پاتے تھے جو ان کے زیر نگرانی ہوتے تھے؛ جہاں دھمکی، مذاکرات اور مصالحت کو مرحلہ وار اور ایک ساتھ بروئے کار لایا جاتا تھا اور یہ رویہ علاقائی پالیسی میں لچک پذیری میں اضافے کا باعث بنتا تھا۔
سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، فیلڈ ڈپلومیسی کی بات کرتا ہے اور وضاحت کرتا ہے کہ جنرل میدان میں موجودگی اور مقامی اور علاقائی اداکاروں سے رابطے کے ذریعے واقعات کی رہنمائی کرتے تھے اور یہ طریقہ غیر مستحکم ماحول میں سرکاری سفارتکاری سے زیادہ تیزی سے نتائج دیتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تجویو: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ