7 جنوری 2026 - 13:36
ایران میں موساد کے آپریشنل ایجنٹ کو پھانسی دی گئی

علی اردستانی ولد احمد کو آج صبح (بدھ، جنوری 7، 2026) موساد کی دہشت گرد صہیونی ایجنسی کے لئے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ وہ ایران میں موساد کے اہم جاسوسوں میں سے ایک تھا جس نے حساس معلومات صہیونیوں کو فراہم کی تھیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آج صبح 7 جنوری بروز بدھ علی اردستانی ولد احمد کو صہیونیوں کی دہشت گرد جاسوسی ایجنسی موساد کے لئے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دی گئی۔ ملک کو حساس معلومات غاصب ریاست کو فراہم کرنے کے جرم میں سزائے موت پر عمل درآمد سپریم کورٹ کی منظوری اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کیا گیا۔

کیس کے مندرجات کے مطابق، اس شخص کو موساد انٹیلی جنس اور دہشت گردی کی سروس نے سائبر اسپیس کے ذریعے بھرتی کیا اور اس نے متعینہ رقم اور خالی وعدوں کے عوض موساد کے لئے مشن انجام دیا۔

دستیاب دستاویزات اور مدعا علیہ کے واضح اعترافات کے مطابق، علی اردستانی نے موساد کے افسران کے حکم پر اس سروس کو مخصوص مقامات کی تصاویر اور معلومات بشمول انتہائی حساس معلومات فراہم کیں اور ہر مشن کے اختتام پر ڈیجیٹل کرنسی کی شکل میں رقم وصول کی۔

مقدمے کے مندرجات کے مطابق، موساد کے افسران کے ساتھ ورچوئل رابطے کے علاوہ، مدعا علیہ کا ملک کے اندر صیہونی ایجنٹوں سے بھی رابطہ تھا۔

یہ صہیونی گماشتہ موساد کے افسران کے ذریعے ایران میں مختلف جگہوں پر ایک مخصوص شناخت کے ساتھ یران میں ایک 'خاص شخص' سے  ملا کرتا تھا اور جمع کردہ معلومات، تصاویر اور ویڈیوز اس کے حوالے کرتا تھا اور نیا مشن وصول کرتا تھا۔

اردستانی کو شناخت کے بعد اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ صہیونی ریاست کے لئے ایک مشن انجام دے رہا تھا۔

تفتیش اور پوچھ گچھ کے دوران مدعا علیہ نے بتایا کہ اس کا ملک کو دھوکہ دینے کا مقصد ایک ملین ڈالر کا انعام اور برطانیہ کا ویزا حاصل کرنا تھا۔

اس نے کیس کے مختلف مراحل میں اعتراف کیا ہے کہ "میں موساد کے افسران کے ساتھ رابطے میں تھا اور میں پوری طرح باخبر اور پر اعتماد تھا کہ میں یہ قیمتی معلومات دشمن کو فراہم کر رہا ہوں۔"

تفتیش مکمل ہونے اور فرد جرم عائد ہونے کے بعد علی اردستانی پر تمام قانونی تقاضوں کی تعمیل کرتے ہوئے عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

مدعا علیہ نے عدالتی سماعتوں کے دوران کھلے عام الزامات کو بھی قبول کیا اور موساد کی جاسوسی سروس کے ساتھ اپنے تعاون کی تفصیلات بتائی۔

عدالت نے تحقیقات، کیس کی دستاویزات، تفتیشی افسر کی رپورٹ اور جاسوسی اور صہیونی ریاست کے حق میں تخریبی اقدامات کے حوالے سے مدعا علیہ کے واضح بیانات اور اعترافات کی بنیاد پر، علی اردستانی کو سزائے موت سنائی۔

جاری کردہ فیصلے کے مطابق، دشمن کے اہم پیادوں میں سے ایک کے طور پر، مقررہ ہدف کو پورا کرنے  کے لئے اردستانی کے بدنیتی پر مبنی سکیورٹی اقدامات،  ٹھوس اور ناقابل تردید ہیں۔

فیصلہ جاری ہونے کے بعد کیس سپریم کورٹ کو بھجوا دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے ججوں کے فیصلے کے مطابق، مدعا علیہ کے خلاف عدالتی فیصلہ قانونی معیارات اور ضابطوں کے عین مطابق تھا، چنانچہ سپریم کورٹ نے اس کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے کی توثیق اور حتمی شکل دے دی۔

صہیونی ریاست کے جاسوس علی اردستان کی سزائے موت کے فیصلے پر ـ آج (بدھ 7 جنوری 2026) کو صبح کے وقت، ـ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد عملدرآمد کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha