7 جنوری 2026 - 11:04
امریکہ، دنیا میں شر کا محور - 2

پروفیسر ڈاکٹر عاملی نے لکھا: اگر ہم ـ شرارت کے ساتھ، اور شرارت کے بغیر، ـ ہم دنیا کی تصویر بنانا چاہیں، تو یقیناً امریکہ کی مداخلت کے ساتھ اور امریکہ کی مداخلت کے بغیر کی دنیا کو تصور کیا جا سکے گا۔ امریکہ کی شرارت آمیز مداخلت کے بغیر دنیا، امن اور سکون کی دنیا ہے اور امریکہ کی شرارت کے ساتھ والی دنیا، بڑی آبادیوں کے لئے عدم تحفظ، جنگ، غربت، ظلم اور امتیاز اور قوموں اور ممالک کے توانائی کے وسائل اور قومی وسائل پر قبضے میں پھنسی ہوئی ہے۔

ابل بیت(ع) نیوزایجنسی ـ ابنا؛ ڈاکٹر عاملی نے اپنے مضمون / خط میں لکھا:

امریکہ کے حکمران بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تئیں ہمیشہ بے پروا تھے اور ہیں اور خطے اور دنیا میں مسلسل بحران پیدا کرتے رہے ہیں اور کر رہے  ہیں۔ وہ ملک جس کا فوجی بجٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اور درحقیقت دنیا کے کل فوجی بجٹ کے 37 فیصد حصے کے برابر ہے اور اس کے پاس 3700 سے زیادہ فعال جوہری ہتھیار ہیں جبکہ اسے 5250 ذخیرہ شدہ جوہری ہتھیاروں کو بھی غیر موثر کرنا ہے، جو بجائے خود دنیا کی سلامتی کے لئے یقینی خطرہ ہے۔ پینٹاگون اور امریکی کانگریس کے بجٹ سیکشن کے سرکاری اعلان کے مطابق، صرف جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کا سالانہ بجٹ 75 ارب ڈالر ہے۔

امریکہ نے 2024 اور 2025 کے سالوں میں 7 ٹریلین (یعنی 7000 ارب) ڈالر کے سالانہ بجٹ میں سے تقریباً 1 ٹریلین ڈالر فوجی بجٹ کے لئے مختص کیا ہے۔

جبکہ صرف 82 ارب ڈالر تعلیم کے شعبے اور 130 ارب ڈالر خدمات اور صحت کے شعبے کے لئے مختص ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں وزارت دفاع کو وزارت جنگ میں تبدیل کرنے کی پالیسی نے فوجی اور سیکیورٹی کے بجٹ کو 1 ٹریلین ڈالر کی حد سے آگے بڑھا دیا۔

موجودہ اعداد و شمار (2 جنوری 2026) کے مطابق، امریکہ 38.4 ٹریلین ڈالر کے قرضے کے ساتھ ـ جس میں سالانہ کم از کم 2 ٹریلین ڈالر کا مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ـ دنیا میں آمدنی اور اخراجات کا سب سے زیادہ عدم توازن سے دوچار ہے جو اس ملک کو سنگین دیوالیہ پن کی طرف لے جا رہا ہے۔

امریکہ، دنیا میں شر کا محور - 2

اگرچہ ٹرمپ ازم اور صہیونیت تین حربوں "یعنی طاقت، تسلط اور میڈیا" کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک میں 735 فوجی اڈوں کی بڑی بساط بچھا کر خوف اور دہشت اور جبر و طاقت کا ماحول برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن "قوموں کی آگہی" ایک بڑا سماجی سرمایہ ہے جس کی لہر ـ اسرائیلی ریاست کی غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف جنگ اور اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحانہ حملے کی وجہ سے ـ دنیا ـ خصوصاً یورپ اور امریکہ ـ میں گونج اٹھی ہے۔

یہ کہ صہیونیت اور ٹرمپ ازم کا رابطہ ایک بار پھر ایران کی عظیم قوم کے خلاف پہلے سے طے شدہ فساد کا باعث بنا ہے اور جناب ٹرمپ ـ جو قوموں کے وسائل کے چور اور ڈاکو کے طور پر، ایرانی قوم کے مالک مکان اور ہمدرد کا کردار ادا کر رہے ہیں، ـ یہ افغانستان، عراق اور درجنوں دوسرے ممالک پر حملے کا پرانا اور ناکام حربہ ہے جس کی آج کی مثال وینزویلا پر حملہ ہے۔ اس تمہید کے ساتھ میں جناب ٹرمپ اور امریکی عوام کی توجہ چند نکات طرف مبذول کراتا ہوں:

امریکہ، دنیا میں شر کا محور - 1

6۔ ممالک کی مٹی اور سرزمین پر جارحیت ایک یقینی جرم ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کے شق 4 کے منافی ہے اور آپ نے بار بار اس بین الاقوامی معاہدے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ درحقیقت امریکہ کے صدور فوجداری مجرم ہیں اور انہیں ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کی طرف سے زیر تعاقب ہونا چاہئے۔

آپ نے 11 ستمبر کے بعد القاعدہ کا مقابلہ کرنے کے بہانے افغانستان پر حملہ کیا اور امریکی عوام کے بجٹ کے 2.3 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی، اور ہزاروں افراد کا قتل عام کیا اور خفت و ذلت کے ساتھ افغانستان چھوڑنا پڑا۔

آپ نے اجتماعی قتل کے ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے عراق پر حملہ کیا اور امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے اعلان کے مطابق، 2.9 ٹریلین ڈالر کے فوجی نقصان کا سبب بنے اور آخر کار عراق چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اجتماعی قتل کے ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ بھی ثابت نہ ہو سکا۔ اسی طرح کے اندھادھند حملے جن کا نتیجہ لاکھوں افراد کے قتل عام کی  صورت ميں نکلا، بار بار دہرائے گئے۔

آپ نے مارکسسٹ سوچ کے فروغ کے بہانے 1955 سے 1975 تک ویتنام میں، 34 لاکھ سے زائد بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا جن میں سے زیادہ تر غیر فوجی اور عام شہری تھے۔

7۔ واٹسن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق، 11 ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف آپریشنز سے متعلق کل اخراجات پوری دنیا میں 8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔

جناب جوئے باز ٹرمپ، آپ نے اپنی صدارت کے اسی مختصر دور میں ایران پر حملہ کیا ہے اور غزہ اور لبنان اور یمن اور آج کاراکاس پر حملے میں خالی خولی بہانوں کے ساتھ حصہ لیا ہے۔ "سیاہ فکری" اور ممالک اور عظیم قوموں کے بارے میں "سازش سازی کے مالیخولیا" میں مبتلا ہونے، جیسے مسائل کے علاوہ، ذرائع سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی پیداوار کی آمدنی کے اہم حصہ دار امریکی سیاست دان ہیں اور کم از کم پانچ اہم امریکی دفاعی ٹھیکیدار یعنی لاکہیڈ مارٹن، بوئنگ، ریتھیون، نارتھروپ گرومین، جنرل ڈائنامکس نے سال 2023 میں، امریکی حکومت سے 200 ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی وصول کی۔ امریکی لابیاں امریکہ میں بدعنوانی کے بڑے المئے ہیں جن کی مزید تفصیلی وضاحت کی ضرورت ہے۔

8۔ جناب ٹرمپ آپ ایک دہشت گرد اور صہیونی دہشت گردوں کے شریک جرم ہیں جنہوں نے درجنوں آزاد انسانوں کو شہید کیا ہے جس کی نمایاں مثال جنرل سلیمانی کا قتل ہے جو زمین پر سب سے زیادہ آزاد اور امن پسند انسان تھے جو بین الاقوامی امن تمغے کے مستحق تھے۔

اسی حالیہ 12 روزہ جنگ میں آپ نے ایک ہزار سے زیادہ بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا جن میں 38 سے زیادہ بچوں اور 132 مظلوم خواتین کی شہادت درج ہے۔ آپ نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی میراث ـ جس کا نام اقوام متحدہ کا چارٹر تھا ـ سے غداری کی اور اس قانون شکنی اور قانون سے بے اعتنائی کو مسلسل جاری رکھا۔ آپ کی حمایت سے صہیونی ریاست نے غزہ میں 20 ہزار سے زیادہ بچوں سمیت 70 ہزار سے زیادہ افراد کو شہید کیا اور تاریخ کا ظیم المیہ رقم کیا۔

9۔ جناب ٹرمپ آپ ایرانی قوم کے ہمدرد کی اداکاری کریں جس پر امریکہ نے 44 سال سے زیادہ عرصے سے تباہ کن ترین اور المناک ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

یقیناً افراط زر کی شرح میں اضافہ بھی آپ کے انجینئرڈ گیم ہے اور یقیناً اقتصادی صورتحال خصوصی انتظام کے ذریعے آپ کی پابندیوں پر قابو پا سکتی تھی اور پا سکتی ہے۔ آپ نے تو خاص مریضوں (special [OR rare] patients) پر بھی رحم نہیں کیا اور ایپیڈرملائسس بلوسا (Epidermolysis bullosa) کے مریضوں کے زخموں کے علاج اور پٹی کی سہولیات پر بھی پابندیاں لگا دیں۔

امریکہ، دنیا میں شر کا محور - 2

اختتام پر واضح کیا جاتا ہے کہ ایران ایک طاقتور ملک ہے جو زبردست دفاعی صلاحیت کا مالک ہے؛ اس کے پاس عظیم انسانی سرمایہ ہے اس کو اپنی عظیم قوم کی حمایت حاصل ہے جو ایک رہبر حکیم کی دانشمندانہ انتظامی صلاحیت سے فیضیاب اور یقیناً امریکہ کو خطرے میں ڈالنے کی جنگی اور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے، ایسا امریکہ جس کے صرف مغربی ایشیا کے خطے میں تقریبا 20 فوجی اڈے اور درجنوں چھوٹی فوجی تنصیبات ہیں اور آپ 12 روزہ جنگ کی طرح برداشت نہیں کر پائیں گے اور ایک بار پھر ہتھیار ڈالنے کا پرچم بلند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اسی دوران امن سے رہنے کی عقلیت اصل مسئلہ ہے، آپ کی فساد انگیز سوچ اور جنگ طلب مزاج، جس کا ادراک کرنے اور سمجھنے سے عاجز ہے۔

یقیناً میں امریکی عوام کو بھی وینزوویلا پر حملے کے حوالے سے خبردار کرتا ہوں اور وہ یہ کہ: امریکہ یقیناً اس دلدل میں، امریکی قوم کے اخراجات میں، اضافہ کرے گا اور لاطینی امریکہ کے خطے میں سرزمین میں مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔

یقین جانیں کہ عزیز ایران ان ممالک میں سے کسی ایک سے بھی قابل موازنہ نہیں ہے جن کا آپ نے ان چند دہائیوں میں سامنا کیا ہے اور آپ ایران کے دفاعی گھات میں پھنس جائیں گے۔ لہذا مناسب ہے کہ مزید اس حماقت اور جنگ جوئی کا ڈھول نہ پیٹیں اور اس سے زیادہ امریکی قوم کے مفادات کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

امریکہ، دنیا میں شر کا محور - 2

یقین جانئے عزیز ایران، آپ نے گزشتہ چند دہائیوں میں جس ملک کا سامنا کیا ہے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، اور آپ ایران کے دفاعی گھات میں پھنس جائیں گے۔ لہٰذا یہ مناسب ہے کہ حماقت کا ڈھول مزید نہ پیٹا جائے اور امریکی عوام کے مفادات کو مزید خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

سان فرانسسکو کے ٹینڈرلوئن محلے میں سینٹ بونیفیس کیتھولک چرچ میں ـ "بے گھر لوگ گوبیو پروجیکٹ کے حصے کے طور پر ـ بینچوں پر سوتے ہیں۔ تصویر: ڈیوڈ لون/دی گارڈین

امریکہ، دنیا میں شر کا محور - 2

ریاستہائے متحدہ میں 600,000 بے گھر افراد - دنیا میں سب سے زیادہ جی ڈی پی والا ملک۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹر سعید رضا عاملی – پروفیسر، شعبہ ابلاغیات و مطالعاتِ عالَم، تہران یونیورسٹی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha